مسلم لیگ ن جے یو آئی کے ساتھ ہے، نواز شریف کا مولانا فضل الرحمان کو خط، وزیر اعظم نے دھرنا روکنے کا ٹاسک وزیر مذہبی امور کو دیدیا

مسلم لیگ ن جے یو آئی کے ساتھ ہے، نواز شریف کا مولانا فضل الرحمان کو خط، وزیر ...

  



لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک،نیوز ایجنسیاں) مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے جیل سے مولانا فضل الرحمن کے نام خط لکھ کر ان کا ساتھ دینے کے عزم کا اظہار کر دیا ہے۔سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے جیل سے مولانا فضل الرحمن کے نام لکھے گئے خط میں انھیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی پوری قیادت اور کارکن اپ کے ساتھ ہیں۔ذرائع کے مطابق میاں نواز شریف نے خط میں لکھا کہ موجودہ حکومت دھاندلی زدہ ہے۔ اس کے خاتمہ تک، ن لیگ جے یو آئی کے ساتھ ہے۔ادھر لیگی رہنما کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر نے آزادی مارچ میں شرکت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کا جانا ٹھہر گیا ہے۔ نواز شریف سے محبت کرنے والے دھرنے میں شریک ہوں گے۔ آزادی مارچ کے امام مولانا فضل الرحمن، ہم مقتدی ہوں گے۔کیپٹن (ر) صفدر نے دعویٰ کیا ہے کہ نواز شریف نے پیغام دیا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ میں ضرور شرکت کریں گے۔کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کیپٹن (ر) صفدر کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن کا مارچ اس 70 سالہ نظام کے خلاف ہے جس نے ملک کو آگے نہیں بڑھنے دیا، مولانا فضل الرحمن کے دھرنے میں شرکت کے لئے تین بار قبول ہے، کہہ چکے، تین بار ہاں تو مولوی بھی مان جاتا ہے، آزادی مارچ کے دولہا مولانا فضل الرحمن ہوں گے۔وسری طرف جمیعت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے بلاول بھٹو سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے آزادی مارچ کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ذرائع کے مطابق جمیعت علما اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو سے رابطے میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مولانا نے آزادی مارچ میں پیپلز پارٹی کی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔دریں اثنامسلم لیگ (ن) کے صدر محمد شہباز شریف کمر کی شدید تکلیف کے باعث کوٹ لکھپت جیل میں قید اپنے بڑے بھائی اورپارٹی قائد محمد نواز شریف سے ملاقات کیلئے نہ جا سکے، شہباز شریف نے نواز شریف سے ملاقات کر کے جے یو آئی (ف) کے آزادی مارچ کے حوالے سے پارٹی کی سفارشات سے آگاہ کرتے ہوئے آئندہ کی رہنمائی حاصل کرنا تھی۔ملاقات کیلئے مختص دن کے موقع پر والدہ بیگم شمیم اختر، دامادکیپٹن (ر) محمد صفدر، نواسے جنید صفدر سمیت دیگر اہل خانہ نے کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے ملاقات کر کے ان کی خیریت دریافت کی اور دوپہر کا کھانا ہمراہ کھایا۔ ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے بھی نواز شریف سے ملاقات کر کے ان کا طبی معائنہ کیا۔ ذرائع کے مطابق کیپٹن (ر) محمد صفدر نے نواز شریف کو مریم نواز اور یوسف عباس کی احتساب عدالت میں پیشی کے حوالے سے آگاہ کرنے سمیت دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ شہباز شریف نے بدھ کے روزاپنی رہائشگاہ پر چار گھنٹے سے زائد وقت تک اجلاس کی صدارت کی جس میں آزادی مارچ کے حوالے سے پارٹی کی سفارشات تیاری کی گئیں لیکن طویل وقت تک بیٹھنے کی وجہ سے شہباز شریف کمر میں شدید تکلیف میں مبتلا ہو گئے جس پر ڈاکٹروں نے انہیں آرام کا مشورہ دیا ہے۔ شریف خاندان کے افراد کی کوٹ لکھپت جیل آمد کے پیش نظر لیگی کارکنان صبح سویرے ہی کوٹ لکھپت کے باہر پہنچ گئے اور اپنی قیاد ت کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔

نواز شریف حمایت

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے مولانا فضل الرحمان کا مارچ اوردھرنا روکنے کے حوالے سے ٹاسک وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری کو سونپ دیا۔اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔وزیراعظم نے وفاقی وزیر کو مولانا فضل الرحمان سے رابطوں اور دھرنا روکنے کیلئے کوششوں کا ٹاسک سونپ دیا۔وزیر اعظم نے دھرنے سے متعلق تمام معلومات بھی طلب کرلیں جبکہ دھرنے کو روکنے یا اس سے نمٹنے کے حوالے سے سفارشات بھی تیار کرنے کی ہدایت کردی۔ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ وزیراعظم کی جانب سے ٹاسک ملنے کے بعد نورالحق قادری جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے جلد رابطے کریں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری کی سفارشات پر وزیراعظم قریبی رفقا سے مشاورت کریں گے۔

نورالحق قادری

مزید : صفحہ اول


loading...