مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی روک تھام کیلئے عالمی برادری کردار ادا کرے: شاہ محمود

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی روک تھام کیلئے عالمی برادری کردار ادا کرے: ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور 80لاکھ کشمیریوں کو محصور کرنے کے حوالے سے عالمی برادری کو کرفیو کے خاتمے کیلئے کر دار ادا کرنا ہو گا، دورہ پاکستان کی آمد میں برطانوی شاہی جوڑے کیلئے خصوصی انتظامات کئے جائیں گے اور شاہی جوڑے کے دورہ پاکستان سے تعلقات کو فروغ ملے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانوی ہائی کمشنر تھامس ڈریو سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر گفتگو کیساتھ ساتھ برطانوی شاہی جوڑے کے دورہ پاکستان اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 5 اگست سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور 80لاکھ کشمیری محصور ہیں،مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں عروج پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری بھارتی جبر سے نجات دلانے کیلئے کردار ادا کرے، عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے خاتمے کیلئے کردار ادا کرنا ہو گا، دونوں رہنماؤں کے درمیان خطے میں امن کیلئے باہمی مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستانیوں کے دلوں میں برطانوی شاہی خانوادے کی بہت تکریم ہے، برطانوی شاہی جوڑے کی پاکستان آمد کے منتظر ہیں، یہاں تک کہ شاہی جوڑے کی پاکستان آمد پر خصوصی انتظامات کئے جائیں گے اور شاہی جوڑے کے دورہ پاکستان سے تعلقات کو مزید فروغ ملے گا۔علاوہ ازیں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے عراق کی جانب سے پاکستانی زائرین کو ویزا جاری کرنے کیلئے رضامندی ظاہر کرنے پرعراقی حکومت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراقی حکومت اور وزارت خارجہ کا شکر گزار ہوں۔وزیر خارجہ نے اہم ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ عراق کے وزیر خارجہ محمدعلی حاکم سے ٹیلیفون پر بات ہوئی اور خوشی ہے ویزاکے اجراکا مسئلہ خوش اسلوبی سے طے پا گیا۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اربعین کیلئے عراق جانے کے خواہشمندوں کو ویزے جاری ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ عراقی منصب سے گفتگو میں طے پایا کہ اضافی سٹاف بھی عراقی سفارتخانے سے بھیجا جائے گا اور مسئلے کے مستقل حل کیلئے متفقہ لائحہ عمل بنایا جائے گا۔انھوں نے مزید کہا عراقی وزیرخارجہ کودورہ پاکستان کی دعوت بھی دی جو انہوں نے قبول کرلی۔مزید برآں چینی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہسی پیک کے فیز سے مطمئن ہیں کیونکہ پہلے فیز میں اہم توانائی کے منصوبوں پر کام ہوا۔انہوں نے کہا کہ پہلے پاکستان کو توانائی کی کمی کا سامنا تھا اب ہمارے پاس ضرورت سے زیادہ پاور جنریشن ہے،ہمیں بجلی کا ٹرانسمیشن سسٹم بہتر کرنا ہے تا کہ بجلی کی عدم فراہمی پر قابو پایا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ انفراسٹرکچر اور موٹرویز پر بھی بہترین کام ہوا ہے،اب ہم سی پیک کے فیز ٹو یعنی انڈسٹریلائزیشن کی طرف جار ہے ہیں،اس میں زراعت کی ترقی اور اکنامک زونز پر توجہ دی جائے گی جبکہ سی پیک کا  فیز 2غربت کم کرنے اور روزگار بڑھانے میں مدد دے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک قرضوں کا جال والے بیانیے سے متفق نہیں یہ بے بنیاد ہے ایسا ہرگز نہیں،ہمیں اپنے قرضوں اور چین کے دیے ہوئے قرضے کا کل حجم معلوم ہے۔

 شاہ محمود قریشی

مزید : صفحہ اول


loading...