36 لاکھ شامی مہاجرین یورپ بھیج دونگا، ترک صدر

    36 لاکھ شامی مہاجرین یورپ بھیج دونگا، ترک صدر

  



انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک)ترک صدر رجب طیب اردوان شام میں فوجی کارروائی کی مخالفت کرنیوالے ممالک پر برس پڑے۔ترکی کی جا نب سے شام کے سرحدی علاقے میں فوجی کارروائی کو آج تیسرا دن ہے، بہت سے ممالک نے اس کارروائی پر خدشات کا اظہار کرتے ہو ئے ترکی پر تنقید کی ہے اور کہا ہے اس سے پہلے سے غیر مستحکم مشرق وسطیٰ مزید خطرات سے دوچار ہوجائیگا۔ مخالفت کرنیوالوں میں یورپی یو نین، سعودی عرب، ایران اور مصر جیسے ممالک شامل ہیں۔تاہم ترک صدر نے تمام ناقدین کو دو ٹوک جواب دیدیا ہے۔ ترک صدر نے کہا وہ جو ترکی کے اقدام پر اعتراض کررہے ہیں وہ خود مخلص نہیں۔ترک صدر نے یورپی یونین کو خبردار کیا اگر یورپی ممالک نے شام میں ترک کارروائی کو حملہ قرار دیا تو وہ اپنے ملک میں موجود 36 لاکھ شامی مہاجرین کو یورپ بھیج دیں گے۔اردوان نے خبردار کیا ترکی دروازے کھول دیگا اور 36 لاکھ مہاجرین کو یورپ کی جانب بھیج دے گا۔ترک صدر نے مصر اور دیگر ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا یہ لوگ مخلص نہیں، صرف باتیں بناتے ہیں جبکہ ہم ایکشن لیتے ہیں، ہم میں اور ان میں یہی فرق ہے۔اردوان نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے حوالے سے کہا کہ سیسی ترکی کی مذمت کیسے کرسکتے ہیں کیونکہ ان کے دور میں تو مصر میں جمہوریت کا قتل ہوا۔خیال رہے ترکی نے 9 اکتوبر سے شام میں کْرد ملیشیا کیخلاف زمینی و فضائی کارروائیاں شروع کیں، ترک افواج کی بمباری کے دوران اب تک شامی کْرد ملیشیا کے 16 ارکان ہلاک ہوگئے۔ترکی کی جانب سے شام کے شمال مشرقی سرحدی علاقے راس العین میں کْرد ملیشیا کے 181 ٹھکانوں پر بمباری کی گئی جس کے دوران کْرد ملیشیا کے 16 ارکان کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔واضح رہے ترکی اپنی سرحد سے متصل شام کے شمالی علاقے کو محفوظ بنا کر ترکی میں موجود کم و بیش 20 لاکھ شامی مہاجرین کو وہاں ٹھہرانا چاہتا ہے۔اس علاقے میں موجود شامی کرد ملیشیا (وائے پی جی) ’جسے امریکی حما یت بھی حاصل رہی ہے‘ کو انقرہ دہشت گرد گروہ قرار دیتا ہے اور اسے ترکی کے علیحدگی پسند اسیر کرد رہنما عبداللہ اوجلان کی سیاسی جماعت کردش ورکر ز پارٹی کا عسکری ونگ قرار دیتا ہے۔

اردوان

مزید : صفحہ اول