مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کے مظالم جاری، بھارتی کانگریس کی برطانیہ سے مداخلت کی اپیل

مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کے مظالم جاری، بھارتی کانگریس کی برطانیہ سے ...

  



سرینگر/نئی دہلی(این این آئی،مانیٹرنگ ڈیسک)مقبوضہ کشمیرمیں جمعرات کو مسلسل 67ویں روز بھی فوجی محاصرہ اور مواصلاتی بلیک آؤٹ جاری رہنے کے باعث وادی کشمیر اور جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں کے لوگوں کو درپیش مشکلات میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطا بق مقبوضہ علاقے کے اطراف و اکنا ف میں بھارتی فوجیوں کی بڑی تعدادمیں تعیناتی کے باعث کشمیری عوام کی زندگیاں جہنم بن چکی ہیں۔انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز مکمل طور پر معطل ہونے کی وجہ سے محصور کشمیری عوام کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ ذرائع مواصلات کی معطلی کے باعث اخبارات کی اشاعت بری طرح متاثر ہے اور صحافیوں کو حقیقی صورتحال پر مبنی اپنی رپورٹس فائل کرنے میں دشواریوں کا سامنا ہے،کاروباری سرگرمیاں اورسڑکوں پر ٹریفک مسلسل معطل ہے جبکہ تعلیمی ادارے کھلے ہونے کے باوجودطلباء اور عملے کے ارکان موجود نہیں ہیں۔دوسری جانببھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے برطانیہ سے مسئلہ کشمیر کے معاملے پر مداخلت کی درخواست کردی۔بھارتی میڈیا کے مطابق اپوزیشن پارٹی کانگریس جماعت کے رہنماؤں نے اپوزیشن لیڈر جیریمی کوربن سے ملاقات کی، کانگریس کے رہنماؤں کی طرف سے برطانیہ سے مسئلہ کشمیر کے معاملے پر مداخلت کی اپیل ہے۔ کانگریس رہنماؤں نے جیریمی کوربن سے درخواست میں کہا ہے کہ 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد وادی کی صورتحال کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے مودی سرکار پر دباؤ ڈالیں۔علاوہ ازیں سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر پر برطانوی اپوزیشن لیڈر جیریمی کوربن کا کہنا تھا کہ بھارتی کانگریس پارٹی کے برطانوی رہنماؤں کے ساتھ ملاقات نتیجہ خیز رہی، ملاقات میں مقبوضہ وادی اور انسانی حقوق کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارتی کانگریس پارٹی کے برطانوی رہنماؤں کی طرف سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہاں پر مداخلت ہونی چاہیے جبکہ وادی میں جاری تشدد کا خاتمہ بھی ہونا چاہیے کیونکہ 5 اگست کے بعد سے اب تک وہاں کی صورتحال بہت زیادہ تشویش ناک ہے جس سے شہری مشکلات کا شکار ہیں۔

مقبوضہ کشمیر /کانگریس اپیل 

مزید : صفحہ اول


loading...