کشمیر یوں کیساتھ تھے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے، رافیل ہو یا کوئی اور، پاکستان اپنا دفاع جانتا ہے: دفتر خارجہ

کشمیر یوں کیساتھ تھے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے، رافیل ہو یا کوئی اور، پاکستان ...

  



؎ اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارت کو فرانس کی جانب سے ملنے والے رافیل طیارے سے متعلق ر دعمل میں کہا رافیل ہو یا کوئی اور پاکستان اپنا دفاع کرنا جانتا ہے، گزشتہ روز ہفتہ وار میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی تاز ہ ترین صورتحال پر روشنی ڈالی اورکہا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم اور بربریت جاری ہے، وادی میں گزشتہ 68 دنوں سے کرفیو نافذ ہے جبکہ بھا رتی قابض فوجیوں نے مقبوضہ وادی کے علاقے اوانتی پورہ میں کئی لوگوں کو شہید کردیا ہے، مقبوضہ کشمیر کے مظلوم کشمیریوں کی آواز دنیا بھر میں سنی جارہی ہے۔بریفنگ کے دوران کرتار پور راہداری کے افتتاح سے متعلق ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا اس کی حتمی تاریخ کا اعلان ابھی نہیں ہوا ہے۔دوسری جانب بھارت کا فرانس سے رافیل طیارہ ملنے پر ترجمان دفترخارجہ نے کہا ہم خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ کیخلاف ہیں لیکن پاکستان 27 فروری کی طرح اپنا دفاع کرنا جانتا ہے چاہے رافیل ہویا کوئی اور۔ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا پاکستان کشمیریوں کیساتھ کھڑا ہے، ہمیشہ کھڑا رہے گا، مسئلہ کشمیر پر پوری دنیا بھارتی مظالم کیخلاف آواز اٹھارہی ہے، وزیراعظم کے دورہ سعودی عر ب اور ایران کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔ مسئلہ کشمیر پر امریکہ کے 3صدارتی امیدواروں نے بھی آواز اٹھائی ہے اور ان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی ظلم سے دنیا کو آگاہ کیا گیا۔ پاکستان نے چینی قیادت کو کشمیر کی صورتال سے آگاہ رکھا ہے جبکہ پوری دنیا میں مظلوم کشمیر یوں کی آواز سنی جا رہی ہے۔ امریکی کانگریس کے وفد نے بھی آزاد کشمیر مظفر آباد کا دورہ کیا اور وہاں پر وفد نے کشمیری قیادت سے ملاقاتیں کیں، انہوں نے کہا کہ عراق جانیوالے زائرین کو بلا تعطل ویزے جاری کئے جا رہے ہیں اور اس معاملے میں کوئی بھی مسئلہ نہیں ہے جبکہ پا کستان کی حکومت نے کرتارپور راہداری کے افتتاح میں شرکت کیلئے سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کو باضابطہ دعوت دیدی ہے جبکہ کرتارپور راہداری کا افتتاح اپنے وقت میں ہو گا جبکہ اس حوالے سے راہداری پر کام تیزی سے جاری ہے، سارک کانفرنس کے معاملے پر بھارتی رکاوٹیں ختم کر دی ہیں۔ سعودی عرب اور ایران ثالثی کیلئے وزیراعظم کے دورے کا امکان ہے جبکہ وزیراعظم کے دورہ سعودی عر ب، ایران کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔ ہمیں بھارت سے خیر کی کوئی توقع نہیں اور سارک سربراہ اجلاس سے متعلق حالات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ دنیا خطے کو اسلحے کی دوڑ میں دھکیلے رافیل ہو یا کچھ اور 27فروری کی طرح دفاع کرنا جانتے ہیں۔

دفتر خارجہ 

مزید : صفحہ اول


loading...