ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، وزیر قانون فروغ نسیم کا معاملہ انضباطی کمیٹی کے سپرد

  ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، وزیر قانون فروغ نسیم کا معاملہ انضباطی کمیٹی کے ...

  



اسلام آباد(آن لائن) وکلا برادری کی سب سے بڑی تنظیم پاکستان بار کونسل (پی بی سی) کی ایگزیکٹو کمیٹی نے ’پیشہ ورانہ قواعد‘ کی خلاف و زری پر وقافی وزیر قانون فروغ نسیم کا معاملہ انضباطی کمیٹی کے سپرد کردیا۔واضح رہے انضباطی کمیٹی کی سربراہی سپریم کورٹ کے جسٹس عمر عطا بندیال کررہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق پی بی سی ایگزیکٹو کمیٹی کے مطابق اگر کوئی وکیل عوامی عہدہ کی ذمہ داری قبول کرتا ہے تو وہ بی پی سی سے اپنا پریکٹس لائسنس منسوخ کرانے کا پابند ہے لیکن ڈاکٹر فروغ نسیم نے ضابطہ اخلاق کی پاسداری نہیں کی جبکہ پی بی سی نے ازخود وفا قی وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم کا لائسنس معطل کردیا تھا،جس کے بعد ڈاکٹر فروغ نسیم نے پی بی سی کے اقدام کو اٹارنی جنرل کے سامنے چیلنج کیا جسے بعدازاں اٹارنی جنرل نے بحال کردیا تھا،اس کے ردعمل میں بی پی سی نے اٹارنی جنرل کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور عد ا لت نے مذکورہ معاملہ پی بی سی کے حوالے کردیا۔اس ضمن میں پی بی سی کی ایگزیکٹو کمیٹی نے بتایا ڈاکٹر فروغ نسیم کو 5 مرتبہ شوکاز نوٹس ارسال کرنے کے باوجود کوئی جواب موصول نہیں ہوا اور انہوں نے شوکاز نوٹس کو ہی غیرقانونی قرار دیا۔نتیجے میں کمیٹی نے وفاقی وزیر کا جواب غیر تسلی بخش قرار دے کر ان پر ضابطہ اخلاق کی ورزی کا الزام عائد کردیا اورایگزیکٹو کمیٹی کی جانب سے ڈاکٹر فروغ نسیم کا لائسنس منسوخ کر دینے کے بعد معاملہ انضباطی کمیٹی کو منتقل کردیا گیا،واضح رہے جون میں اٹارنی جنرل انور منصور خان نے وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم کیخلا ف جاری شوکاز نوٹس کو معطل کردیا تھا۔اٹارنی جنرل نے پاکستان لیگل پریکٹشنرز اینڈ بار کونسلز رولز 1976 کی شق 84 (اے)، پاکستان لیگل پریکٹشنر اینڈ بار کونسلز ایکٹ 1973 کی شق 12(8) کے تحت اپنے اختیارات کا استعمال کیا تھا۔

فروغ نسیم معاملہ

مزید : صفحہ اول


loading...