راولپنڈی میں ” ماں جی برگر والی “ عظیم خاتون جس نے برگر بیچ کر اپنے اور سوتن کے بچوں کو پالا لیکن اب ان کا ڈاکٹر شوہر کہاں ہے؟

راولپنڈی میں ” ماں جی برگر والی “ عظیم خاتون جس نے برگر بیچ کر اپنے اور سوتن ...
راولپنڈی میں ” ماں جی برگر والی “ عظیم خاتون جس نے برگر بیچ کر اپنے اور سوتن کے بچوں کو پالا لیکن اب ان کا ڈاکٹر شوہر کہاں ہے؟

  



راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن )خواتین کسی سے کم نہیں اور اگر مصیبت آن پڑے تو یہ اپنے بچوں کیلئے پہاڑ تک کو چیرنے کی ہمت اور جذبہ رکھتی ہیں جس کا عملی مظاہر ہ راولپنڈی کے علاقے میں سکیم تھری میں برگر کا ٹھیلہ لگانے والی اس خاتون سبیلہ بی بی بی کی صورت میں دیکھنے کو ملتا ہے ، انہوں نے ہر کسی کیلئے مثال قائم کر دی ہے ۔

تفصیلات کے مطابق راولپنڈی کے علاقے سکیم تھری میں سبیلہ غلام حسین چوہدری برگر کا ٹھیلہ لگاتی ہیں جہاں ان کی دو بیٹیاں ان کا ہاتھ بٹاتی ہیں جبکہ دونوں بیٹیاں یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور اپنی ماں کا فخر بھی ہیں ۔ ان کے برگر پوائنٹ کا نام ” ماں جی بر گر والی “ ہے اب دراصل اس نام کے پیچھے بھی ایک ایسی جذباتی کہانی ہے جو کہ پڑھ کر یا سن کر کسی بھی شخص کے آنکھوں میں آنسو لے آئے اور ہر کوئی ان کے حوصلے اور جذبے کو سلام کرنے لگے ۔

سبیلہ غلام حسین چوہدری کی دو بہنیں بھی ہیں جن میں سے ایک بہن کو اس وقت طلاق ہو گئی جب وہ ماں بننے والی تھی لیکن سبیلہ بی بی نے اپنی بہن کی ذمہ داری اٹھائی اور ساتھ ہی ساتھ اس کے بچے کو پیدا ہونے کے بعد گود لے کر پروان چڑھایاجبکہ انہوں نے اپنی بہن کا بھی بھر پور خیال رکھا ۔ اس کے علاوہ سبیلہ بی بی کی بڑی بہن بھی تھی جو کہ غریب اور نادار تھی لیکن اس بہادر خاتون نے ہمت نہ ہاری اور ان کا بھی سہارا بنی ، انہوں نے اپنی غریب بہن کے بچوں کی ہر ممکن مدد کے ساتھ ساتھ پرورش بھی کی ۔

سبیلہ بی بی کی جس شخص سے شادی ہوئی وہ دراصل پیشے سے ڈاکٹر ہیں ، سبیلہ ان کی دوسری بیوی تھیں کیونکہ پہلی بیوی سے علیحدگی ہو گئی تھی اور ان کے پہلی اہلیہ میں سے چار بچے تھے جن میں تین بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا ۔ سبیلہ بی بی نے اپنے شوہر کے پہلی بیوی میں سے چار بچوں کو اپنے بچوں سے زیادہ پیار دیا اور ان کی زندگی کو جنت بناتے ہوئے بہترین پرورش کی جس پر ان کے والد بھی ناز کرتے ہیں ۔

یعنی دراصل سبیلہ بی بی نے اپنی بہن اور سوکن کے بچوں کے علاوہ اپنے بچوں کو بھی پالا اور بے پناہ پیار دیا ۔اس عظیم خاتون نے اسی مناسبت سے اپنے ٹھیلے کا نام بھی ” ماں جی برگر والی “ رکھ لیا اور بے شک یہ ان کی شخصیت کی درست الفاظ میں عکاسی کرتا ہے ۔ان کی دو بیٹیاں ہیں جو کہ ان کا ٹھیلے پر ہاتھ بٹاتی ہیں وہ دونوں ہی یونیورسٹی میں تعلیم بھی حاصل کر رہی ہیں ، ان میں سے ایک ایم فل پولیٹیکل سائنس تو دوسری بی ایس ای کر رہی ہے ، ان میں سے ایک ان کی سوتیلی بیٹی ہے لیکن انہوں نے انہیں اپنے سگے بچوں سے بھی زیادہ پیار کیا ہے ۔

سبیلہ بی بی نے روزنامہ پاکستان کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ جب میرے شوہر بیمار ہو گئے تو ان پر معالی مشکلات آن پڑیں لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری اور خود محنت کرتے ہوئے روزگار کا ذریعہ بنایا ۔انہوں نے بتایا کہ مجھے اپنے ملک سے بہت زیادہ پیار ہے ، میں سمجھتی ہوں کہ شائد اللہ نے مجھے اس آزمائش میں اسی لیے ڈالا تھا کہ میں اپنے ملک کیلئے فخر اور عزت و وقار بن سکوں ۔

ان کا کہناتھا کہ اللہ کا کرم ہے اور لاکھ شکر ہے کہ سٹال لگانے کے بعد انہیں بہت ہی اچھے عزت کرنے والے لوگ ملے ، جس کا میں سو چ بھی نہیں سکتی تھیں ، انہوں نے بتایا کہ ان کے ٹھیلے پر آرمی کے افسر اور بچے بھی برگر کھانے آتے ہیں اور ساتھ کہتے ہیں کہ ہر کوئی ہمیں سلام کرتا ہے لیکن ہم آپ کو سلام کرتے ہیں ۔انہو ں نے بتایاکہ جب میں 11 سال کی تھی تو میرے والد گزر گئے اور 13 سال کی تھی تو والدہ کا انتقال ہو گیا ۔سبیلہ بی بی کی زندگی کی کہانی جان کر ایسا محسوس ہوتاہے کہ ان کے دل میں ماں کی مامتا اور محبت کے علاوہ کچھ نہیں اور بس وہ بدلے میں بھی محبت ہی چاہتی ہیں ۔

ویڈیو دیکھیں:

مزید : قومی