عوام کے مسائل کون حل کرے گا؟

عوام کے مسائل کون حل کرے گا؟

  

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سارے بیروز گار سیاست دان اکٹھے ہو گئے ہیں یہ ڈاکوؤں کا اتحاد ہے، اپوزیشن کا مسئلہ جمہوریت نہیں، کرپشن بچانا ہے۔جمہوریت تو مَیں ہوں،پانچ حلقوں سے جیتا، ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے،اِس لئے اپوزیشن کو حکومت گرانے کی جلدی ہے، نواز شریف بھارت کا ایجنڈا لے کر چل رہے ہیں،فوج پر انگلیاں اٹھانے والوں سے پوچھتا ہوں کہ مجھے فوج سے کیوں کوئی مسئلہ نہیں،فوج نے ہر جگہ ہماری مدد کی، آئی ایس آئی کو کمیشن لینے اور منی لانڈرنگ کرنے والوں کا پتہ ہوتا ہے،آئی ایس آئی کو پتہ ہے کہ عمران خان کیسی زندگی گذار رہے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل(ر) ظہیر الاسلام نے اگر نواز شریف سے استعفا طلب کیا تھا تو نواز شریف اِس لئے خاموش ہو کر بیٹھ گئے تھے کہ ظہیر الاسلام کو نواز شریف کی چوری کے بارے میں معلوم تھا،جو سیاست دان اکٹھے ہوئے ہیں یہ قانون کی بالادستی نہیں مانتے، اصل میں کہتے ہیں کہ ہم قانون سے بالاتر  ہیں اور جواب دہ نہیں،ہمیں کوئی ہاتھ نہ لگائے،اگر کسی نے ہاتھ لگایا تو یہ انتقامی کارروائی ہو گی، اپوزیشن جتنے مرضی جلسے کرے جلوس نکالے قانون توڑنے پر سیدھا جیل جائیں گے اور یہ وی آئی پی جیل نہیں ہو گی، سڑکوں پر نکل کر عمران خان کو بلیک میل کرنے کا خواب دیکھنے والے ناکام ہوں گے۔ وزیراعظم نے اِن خیالات کا اظہار انصاف لائرز فورم کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وزیراعظم اکثر و بیشتر اپوزیشن رہنماؤں پر اسی طرح گرجتے برستے رہتے ہیں،چور اور ڈاکو تو اُن کا روزمرہ ہے،کرپشن کے الزامات بھی وہ تقریباً  روزانہ لگاتے ہیں،لیکن ابھی تک ان کے کوئی ثبوت سامنے نہیں لا سکے،انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ کرپشن سے کما کر باہر بھیجی گئی دولت واپس لائیں گے اور اسے قرضے اتارنے اور عوام کی فلاح کے لئے خرچ کریں گے، لیکن اس دولت سے ابھی تک کوئی رقم واپس نہیں آئی،اب تو انہوں نے اس کا ذکر کرنا ہی چھوڑ دیا ہے، کرپشن کے الزامات کا جواب اپوزیشن یہ دیتی ہے کہ ہم کیسے کرپٹ تھے کہ ہمارے دور میں آٹا 34روپے کلو اور چینی52روپے کلو بک رہی تھی یہ کیسے حاجی ہیں کہ ان کے حکومت سنبھالتے ہی آٹے کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور یہ80روپے کلو بک رہا ہے، وہ وقت دور نہیں جب یہ 100روپے کلو ہو جائے گا،درآمدی گندم کے جو جہاز آ رہے ہیں ہر دوسرا جہاز پہلے جہاز سے مہنگی گندم سے لدا ہوتا ہے۔یہ گندم جب مارکیٹ میں آئے گی تو عوام کی قوتِ خرید سے باہر ہو گی، روپے کی مسلسل گرتی ہوئی قدر نے مزدوروں کی محدود آمدنیوں کی قدر مزید کم کر دی ہے،چینی کی قیمت115روپے کلو ہو چکی ہے اور شوگر ملوں کے مالکان کے گرد جو شکنجہ کسا جا رہا ہے اس کا نتیجہ بالآخر یہ نکلے گا کہ اندرونِ ملک چینی کی پیداوار مزید کم ہو جائے گی،کسان بھی اس صورتِ حال سے براہِ راست متاثر  ہو گا،ملیں اگر دباؤ میں ہوں گی تو کسانوں سے گنا کون خریدے گا؟اِس لئے کسان بھی یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ مل مالکان کو اتنا مجبور نہ کیا جائے کہ وہ ملیں ہی بند کر جائیں،اب تو وہ دور بھی نہیں کہ کسان روایتی طور پر گنے سے گڑ شکر بنانا شروع کر دیں۔

وزیراعظم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپوزیشن کے بارے میں جو چاہے رائے رکھیں،انہیں جس نام سے چاہیں پکاریں،لیکن اس کام سے تھوڑی بہت فرصت نکال کر عوام کو بے روزگاری اور مہنگائی کے عذاب سے بچانے کے لئے بھی تو کچھ کریں،عمومی تاثر یہ ہے کہ اس جانب ان کی توجہ نہیں ہے یا پھر زبانی جمع خرچ زیادہ ہے،عمل معدوم ہے،  وہ وزارتوں کو درست اعداد و شمار نہ رکھنے پر تو نکتہ چینی کا ہدف بناتے ہیں،لیکن عوام کی زندگیوں میں آسانی پیدا کرنے کے لئے کچھ نہیں کر رہے اور اگر کر رہے ہیں تو کسی کو نظر نہیں آ رہا،اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے،کوئی قابل ِ ذکر چیز ایسی نہیں جس کی قیمت ہر ہفتے نہ بڑھ رہی ہو، حکومت کی منظوری سے ادویات کی قیمتیں 262 فیصد تک بڑھ چکی ہیں اور سرکاری بزر جمہر یہ دور کی کوڑی لاتے ہیں کہ ادویات کی سپلائی بحال رکھنے کے لئے قیمتوں میں اضافہ ضروری تھا،مہنگائی کے اسی طوفان سے بلبلا کر سرکاری ملازمین نے اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرہ کیا،اپوزیشن جماعتوں کو بھی عوام کے مسائل کا کما حقہ‘ ادراک ہوتا تو وہ بھی مہنگائی کے معاملے کو اُجاگر کرتیں، لیکن وہ صرف یہ دعویٰ کر کے رہ جاتی ہیں کہ ہمارے دور میں اشیا سستی تھیں،لیکن کسی کے پاس اِس مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے کہ موجودہ مہنگائی کا مقابلہ کیسے کیا جائے،بظاہر اس کا حل یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی آمدنیاں بڑھیں،لیکن یہاں تو صورتِ حال یہ ہے کہ بیروزگاری کی وجہ سے لوگوں کی ملازمتیں کم ہو رہی ہیں،معقول مشاہروں پر سالہا سال سے خوشحال طرزِ زندگی سے لُطف اندوز ہونے والے لوگ بھی اب خط ِ غربت سے نیچے لڑھک رہے ہیں،جن لوگوں کی تنخواہیں لاکھوں میں تھیں وہ اب ہزاروں بھی نہیں کما رہے،اِس لئے کہ اُن کو جن آجروں نے ملازمتیں دے رکھی تھیں اُن کے کاروبار بھی متاثر  ہو گئے ہیں او وہ ملازمتیں دینے کے قابل نہیں رہے۔

آئی ایم ایف نے ہماری معیشت کی جو تصویر پیش کی ہے وہ بھی بڑی بھیانک ہے،اِس سال جی ڈی پی کی شرح0.50 فیصد رہنے کا امکان ہے، اگلے سال بھی اس میں معمولی اضافہ ہو گا اور یہ1.50 فیصد تک جا سکے گی،اتنی کم شرح نمو سے نئی ملازمتیں پیدا نہیں ہوتیں،اس کے لئے شرح نمو کم از کم7فیصد ہونی چاہئے،جو خواب وخیال ہے اور شاید اگلے کئی سال تک اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا،روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہو رہے،نوکریوں کی آس امید یا تو راوی رِیور فرنٹ سٹی اور کراچی کے جزیرے میں نیا شہر بسنے سے وابستہ کی جا رہی ہے یا نیا پاکستان ہاؤسنگ پراجیکٹ سے، لیکن جہاں ایک انڈر پاس مقررہ مدت میں مکمل نہیں ہو سکتا وہاں اتنے بڑے بڑے پراجیکٹ کب شروع ہوں گے اور کب لوگوں کو ملازمتیں ملیں گی اور یہ ملازمتیں بھی راج مزدور تک ہی محدود رہیں گی یا اس سے آگے بڑھیں گی؟ فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا،وزیراعظم بلاناغہ اپوزیشن رہنماؤں کو صلوٰتیں سنا رہے ہیں اور جواب میں اپوزیشن بھی اپنا حصہ ڈال رہی ہے،جیلوں میں ڈالنے کے اعلان ہو رہے ہیں تو حکومت کو گھر بھیجنے کے دعوے کئے جا رہے ہیں،اس یُدھ میں عوام ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم کی تصویر بنے ہوئے ہیں اور80روپے کلو آٹا خریدنے پر مجبور ہیں،مہنگائی ان کی آمدنیوں کو نگل رہی ہے، انہیں یہ کہہ کر مطمئن نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپوزیشن سے پیسے اور قیمے والے نان لے کر گھر بیٹھیں،یہ دھماکہ خیز صورتِ حال خطرناک ہو سکتی ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -