ایک اور جے آئی ٹی!

ایک اور جے آئی ٹی!

  

انسپکٹر جنرل پولیس انعام غنی کی ہدایت پر پولیس کی ایک چار رکنی جے آئی ٹی بنا دی گئی،جو تھانہ شاہدرہ میں درج ہونے والی ایف آئی آر کے حوالے سے بغاوت کے الزام کی تفتیش کر ے گی، اطلاع یہ بھی ہے کہ اس سلسلے میں فی الحال کوئی گرفتاری متوقع نہیں،اس کا فیصلہ تفتیش کی روشنی میں سی سی پی او لاہور عمر شیخ کریں گے،اس تفتیشی ٹیم کی سربراہی ایس ایس پی، سی آئی اے عاصم افتخار کمبوہ کر رہے ہیں،جبکہ ڈی ایس پی شفیق آباد محمد غیاث، انچارج سی آئی اے اقبال ٹاؤن انسپکٹر طارق الیاس اور انچارج انوسٹی گیشن شاہدرہ سب انسپکٹر شبیر اعوان رکن ہیں۔یہ ایف آئی آر آدھی رات کے بعد درج ہوئی اور وفاقی حکومت اور وزرا نے لاتعلقی ظاہر کی تھی،جبکہ صوبائی حکومت کی طرف سے تفتیش اور گرفتاریوں کا عندیہ دیا گیا تھا،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب ایک درمیانی راستہ نکالا گیا اور تفتیش شروع کرا دی گئی، جبکہ وفاقی حکومت نے زیر حراست محمد شہباز شریف کی اہلیہ اور صاحبزادیوں کے نام ای سی ایل میں شامل کر دیئے،جبکہ نیب نے  محمد نواز شریف کے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ منسوخ کرنے کی سفارش کی۔ان اقدامات سے بالکل واضح ہوتا ہے کہ بیانات جو بھی ہوں،لیکن کارروائی لازم ہو گی اور حکومت کوئی بھی کوشش چھوڑنا نہیں چاہتی، اب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وقتی طور پر ایف آئی آر کے اندراج سے جو احتجاج ہوا اس کے باعث کچھ وقفہ دیا گیا،لیکن عمل سے ظاہر ہے کہ یہ سب کسی مشیر کی تجویز پر ہی ہوا ہے اور اس کے نتائج پر ان سب نے اپنے طور پر سوچ اور غور کر لیا ہو گا،تاہم سیاسی حلقوں میں مجموعی طور پر اس عمل کو درست قرار نہیں دیا جا رہا،ویسے بھی قانونی اور آئینی ماہرین کی اکثریت یہ قرار دے چکی ہے کہ یہ ایف آئی آر قانون اور آئین کے خلاف ہے،ایسے میں لازم آتا ہے کہ حکومت سنبھل کر اقدام کرے کہ محاذ آرائی میں شدت مناسب نہیں اور ایسے اقدام، اور جے آئی ٹی کو عوامی سطح پر پذیرائی نہیں ہو گی۔بہرحال اب انتظار کرنا چاہئے کہ یہ جے آئی ٹی کیا سفارش کرتی اور اگلا عمل کیا ہوتا ہے۔مسلم لیگ(ن) والے تو گرفتاری دینے اور ضمانتیں نہ کرانے کا اعلان کر چکے  ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -