بے ثباتی دوراں اور سید عارف شاہ کی وفات!

بے ثباتی دوراں اور سید عارف شاہ کی وفات!
بے ثباتی دوراں اور سید عارف شاہ کی وفات!

  

ہمراز احسن اب مستقل برطانوی اور وہیں مقیم ہیں، پہلے کبھی کبھار آتے تو ملاقات ہو جاتی تھی۔ اب بہت عرصہ ہو گیا کہ آ نہیں سکے، تاہم ان کے ادب اور کلام سے سوشل میڈیا پر محظوظ ہوتے رہتے ہیں، ایک روز قبل ان کی پوسٹ ایک بڑے صدمے والی ثابت ہوئی، ان کی اطلاع تھی کہ ہمارے دیرینہ ساتھی اور محترم سید عارف علی شاہ اللہ کو پیارے ہو گئے وہ ہمرازکے بڑے بہنوئی تو تھے ہی ہماری ٹریڈ یونین والی جدوجہد کے بھی ساتھی تھے اور بہت پکے عہد کے ساتھ نبھانے والوں میں رہے، مجھے حیرت اور صدمے کا جھٹکا لگاکر اتنے سینئر بلکہ اب بزرگ صحافی کی وفات گمنام سی رہی، وہ اسلام آباد میں مقیم تھے، اگرچہ ان سے بھی ملاقات ہوئے عرصہ گزر گیا تھا لیکن خیر خیریت کسی نہ کسی سے معلوم ہو جاتی تھی دکھ یہ ہوا کہ ہم لاہور میں بیٹھے رہے اور ان کی رخصتی کا علم نہ ہو سکا کہ کوئی خبر نظر سے نہ گزری اور نہ ہی کسی یونین، پریس کلب یا فیڈریشن میں سے کسی کی طرف سے کوئی تعزیت ہوئی کہ علم ہو جاتا حالانکہ یہ جو پی ایف یو جے کے نام سے فیڈریشنیں کام کر رہی ہیں،

یہ سبھی ماسوا (دستور) ایک کے باقی سب منہاج برنا کی پیروکار ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں، ان میں سے کسی کو بھی سید عارف علی شاہ کی کوئی خیر خبر نہیں تھی، حالانکہ وہ ایک اچھے صحافی ہونے کے ساتھ ساتھ بہت زبردست ٹریڈ یونینسٹ بھی ثابت ہوئے تھے، ہمراز ہماری جدوجہد کے ساتھی ہیں اور شاہ صاحب ان کے بہنوئی ہی سہی، لیکن ہمارا تعلق تو تحریک سے تھا اور دوستی بھی تھی، حتیٰ کہ جب مئی، جون 1974ء کی چلچلاتی دھوپ میں ہم یہاں بحالیوں کے حق میں تحریک چلا رہے تھے تو عارف علی شاہ اسلام آباد چھوڑ کر لاہور آ گئے اور اس تحریک میں شامل ہوئے۔ انہوں نے بھی رضاکارانہ گرفتاری دی اور کیمپ جیل لاہور کی بیرک نمبر10میں مہمان رہے، صرف یہی نہیں، بلکہ جب ہماری پوری قیادت کے خلاف منہاج برنا، نثار عثمانی اور ہمارے سمیت ان فیئر لیبر پریکٹس کے الزام میں صنعتی تعلقات کی عدالت میں مقدمہ دائر ہوا تو وہ بھی ہمارے ساتھ ہر پیشی پر جاتے اور ہر اجتماع اور اجلاس میں شریک ہوتے تھے، حالانکہ ہم پر چنبہ ہاؤس میں حملے کرانے کا منصوبہ بھی بنا، اس سے پہلے خواجہ غلام حیدر (اب مرحوم) کو لارنس گارڈن کے باہر زد و کوب بھی کیا گیا تھا۔

قارئین اوردوست حیران ہوں گے کہ یہ کیا داستان شروع کر دی، تعزیت کرنا ہے تو سیدھے سادے چار لفظ لکھ کر بات ختم کریں۔ دوستو! یہ اتنی مختصر بات نہیں، یہ وہ جدوجہد تھی جو ستر روز سے زیادہ چلی سخت گرمیوں میں میری ہمراز احسن اور اورنگ زیب (مرحوم) کی بیگمات امید سے ہوتے ہوئے سڑکوں پر ہماری بحالی  کے لئے جلوسوں میں موجود ہوتی تھیں، تب پیپلزپارٹی کی حکومت اور محمد حنیف رامے وزیراعلیٰ تھے۔ وہ روزنامہ مساوات کے بانی ایڈیٹر اور پرنٹر پبلشر بھی تھے ان کے بعد خود ہماری محنت اور کوشش سے سید عباس اطہر کو یہاں نیوز ایڈیٹر کی ملازمت ملی کہ آزاد تو بند ہوگیا تھا اور پھر ہمارے کندھوں پر سوار ہو کر ایک تحریک کے نتیجے میں نذیر ناجی کی جگہ عباس اطہر ایگزیکٹو ایڈیٹر بنے تھے۔ اس کابدلہ انہوں نے یہ لیا کہ پہلے ہم تینوں ہمراز احسن، اورنگ زیب اور مجھے رپورٹنگ سے نیوز روم میں تبدیل کیا۔ جب احتجاج ہوا تو انہوں نے اس وقت ایپنک کے سیکرٹری جنرل حفیظ راقب اور مساوات ورکرز یونین کے صدر وجاہت ڈار اور دیگر ساتھیوں کو برطرف کر دیا۔

یوں بیک وقت 39کارکن بے روزگار کر دیئے گئے۔ اس کے خلاف یونین، پی یو جے اور پی ایف یو جے نے احتجاج کیا  اور مظاہرے کئے تو عباس اطہر نے ان فیرلیبر پریکٹس کا مقدمہ دائر کیا، جس کی سماعت انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن کے چیئرمین جسٹس عبدالحمید نے کی تھی، یہ طویل تحریک ایک ایسے معاہدے پر اختتام پذیر ہوئی، جس کے مطابق ہم تین (رپورٹرز) کے سوا باقی سب لوگ بحال ہو گئے تھے، آج ہم اس پیشہ صحافت میں زندہ ہیں، عباس اطہر اللہ کو پیارے ہوئے اور ان کا حساب کتاب ہو گیا ہو گا، نہ تو روزنامہ مساوات نظر آتا اور نہ ہی حنیف رامے اور میاں محمد اسلم دنیا میں ہیں، اللہ ان سب پر بھی رحم فرمائے اور ہماری محترم بڑی بھابی مسز تمنکت شفقت تنویر مرزا پر رحمت ہو کہ ہماری بیگمات کو سنبھالتی رہی تھیں۔

تو قارئین! یہ ہے صورت حال کہ آج اس دور میں ایسے سینئر اور اہل ترین صحافی کو کوئی یاد نہیں رکھتا، میں نے آج اسلام آباد میں فوزیہ شاہد سے بات کی،وہ ہماری جدوجہد کی سینئر ساتھی ہیں تو انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں کسی کو کوئی علم نہیں اور اس نئے دور میں تو نوجوان اپنے بزرگوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے، یوں بھی عارف علی شاہ کا پریس کلب وغیرہ آنا جانا نہیں تھا اور یوں بھی ان کے دیرینہ رفیق آئی اے رحمن،عزیز صدیقی اور سلیم عاصمی اسلام آباد سے دور ہیں، ان کا ملنا جلنا محدود تھا،سید عارف علی شاہ نے روزنامہ پاکستان ٹائمز سے اپنا کیرئیر شروع کیا اور جلد ہی سپورٹس ایڈیٹر ہوئے۔ کافی عرصہ یہاں کام کیا اسلام آباد مستقل طور پر منتقل ہوگئے اور پاکستان ٹائمز کے بعد گلف نیوز سے وابستہ ہو گئے تھے، کھیلوں کی دنیا والے تو ان سے بہت واقف ہیں، اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔

مزید :

رائے -کالم -