آئینی ادارے یا ادارہ جاتی آئین؟

آئینی ادارے یا ادارہ جاتی آئین؟
آئینی ادارے یا ادارہ جاتی آئین؟

  

چونکہ ملک میں بنیادی سیاسی معاملات پر عوام میں ابھی مکمل اتفاق رائے نہیں پایا جاتااور یہ طے ہونا باقی ہے کہ یہاں پارلیمانی جمہوریت ہونی چاہئے یا صدارتی نظام، طاقت کا سرچشمہ عوام ہوں یا کوئی ادارہ، آئین بالادست ہے یا آئینی ادارے اور ووٹ کو عزت دینی ہے یا وفاقی وزیر برائے آبی وسائل کے بقول بُوٹ کو!....اس لئے جب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے آئین کی بالادستی کے لئے تحریک کا اعلان کیا ہے،اسے چار دانگ عالم پذیرائی ملی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ نواز شریف ملک سے نکل جانے کے باوجود عوام کے دلوں سے نہیں نکلے اور جس طرح کبھی ہر گھر سے بھٹو نکلتا تھا اسی طرح ہر شام اب تھڑے کی سیاست سے نواز شریف کا بیانیہ نکلتا ہے۔

اس سے بڑھ کر نواز شریف کی مقبولیت کی دلیل کیا ہوگی کہ عدالتیں خصوصی ریلیف دیتی نظر آتی ہیں، وفاقی کابینہ ای سی ایل سے نام نکالتی ہے اور ڈی جی آئی ایس پی آر کو ان کے بیانئے پر ردعمل دیناپڑتاہے۔یہی نہیں بلکہ وفاقی وزیر خارجہ کو کہنا پڑتا ہے کہ ان کے پاس ایسی کوئی اطلاع نہیں کہ نواز شریف کے بھارت سے رابطے ہیں اور وفاقی حکومت کو ان کے خلاف درج ہونے والے غداری کے مقدمے سے اعلان لاتعلقی کرنا پڑتا ہے۔اس کا سبب یہ ہے کہ عوام نواز شریف کو سن رہے ہیں، عوام نواز شریف کو سننا چاہتے ہیں اور عوام نواز شریف کو سنیں گے۔ پیمرا جو چاہے کرلے نواز شریف کو پاکستان سے کاٹا نہیں جا سکتا، اب سوشل میڈیا ریگولر میڈیا پر بازی لے چکا ہے۔

نوا ز شریف ملک میں آئین کی بالادستی کی تحریک اس لئے بھی بپا کرلیں گے کہ مریم نواز گراؤنڈ میں موجود ہیں اور شہباز شریف جیل میں ہیں۔ ان دو عوامل سے بڑھ کر نواز شریف اس لئے بھی عوام کو سڑکوں پر لے آنے میں کامیاب ہوں گے کہ مہنگائی اور بجلی کے بلوں میں بے تحاشا اضافہ ہونے سے عمران خان کی مقبولیت گہنا گئی ہے۔ان سے لگائی جانے والی توقعات دم توڑ گئی ہیں اور نواز شریف کے لئے پولیٹیکل سپیس پیدا ہوگئی ہے، کیونکہ پنجاب میں اس وقت یا تو نواز شریف کا ووٹ ہے یا پھر نواز شریف مخالف ووٹ ہے، پیپلز پارٹی کا ووٹر سپورٹر یا تو دم سادھے چپ چاپ کھڑا ہے یا پھر 2018ئسے قبل عمران خان کا مینا ر پاکستان کا جلسہ دیکھ کر انہیں بھٹو مانتے ہوئے پی ٹی آئی کی چھترسایہ میں پناہ لے چکا ہے۔

تاہم یہ بات ماننا پڑے گی کہ مہنگائی اور بجلی کے بلوں میں اضافے سے عمران خان کی مقبولیت گہنانے کے باوجود، موجود ہے۔ ان کی پارٹی ان کے پیچھے جم کر کھڑی ہے اور ان کے اراکین اسمبلی اس طرح ان سے ناراض نہیں ہیں جس طرح نوا ز شریف کے ایم پی ایز ان سے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ملک میں عمران خان کی سپورٹ بیس بھی ابھی موجود ہے اور پی ٹی آئی میں ٹوٹ پھوٹ کی باتیں اس طرح شروع نہیں ہوئی ہیں جس طرح نون لیگ میں ٹوٹ پھوٹ کی باتیں ہو رہی ہیں اور سنانے والے م اور  ش کی ڈائریاں سنا سنا کر عوام کو انہونیوں پر یقین رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ یہ الگ بات کہ جس طرح انصاف لائرز فورم سے خطاب کے لئے عمران خان کو آگے آنا پڑا ہے اس سے لگتا ہے کہ شیخ رشید کا چورن زیادہ دیر بکنے والا نہیں، خاص طور پر شہباز شریف کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد جب سے مریم نواز نے کہا ہے کہ نون میں سے شین لیگ نکالنے والوں کی اپنی چیخیں نکل گئی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ نواز شریف آئین کے ساتھ کھڑے ہیں تو عمران خان اداروں کے ساتھ کھڑے نظر آرہے ہیں، حالانکہ ادارے آئین کی پیداوار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عام انتخابات کے دو برس بعد نواز شریف نے بات وہیں سے شروع کی ہے جہاں چھوڑی تھی، ان کے ’مجھے کیوں نکالا‘ کی گونج اب اقتدار کے ایوانوں سے آتی دکھائی دیتی ہے جبکہ خود نواز شریف اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر آئین کی بالادستی کی تحریک شروع کر چکے ہیں۔ 

اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ ملک کو اداروں کی بھی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی ایک آئین کی بلکہ یوں کہئے کہ آئین کا مطلب ہی ادارے ہیں۔ تاہم یہ بات ہر وقت ذہن میں رہنا چاہئے کہ اداروں کا مطلب آئین نہیں ہے۔ اس لئے کوئی کچھ کہہ لے، ملک میں آئین بھی رہے گا، ادارے بھی رہیں گے اور سیاستدان بھی رہیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اداروں کو ان کی آئینی حدود میں رکھنے کے لئے آئینی اصلاحات کا عمل شروع ہو جس کے لئے نواز شریف نے بحث کا آغاز کردیا ہے۔ اپوزیشن کی گیارہ جماعتیں اس بحث کا حصہ بن چکی ہیں، آج نہیں تو کل حکومت اور اداروں کو بھی بننا پڑے گا۔ اس وقت یہ بات غیر اہم ہو چکی ہے کہ سینٹ میں کس کی اکثریت ہوگی یا کس کی اقلیت ہوگی کیونکہ مداخلت کی بنا پر سینٹ میں اکثریت کو اقلیت میں بدل لیاجاتا ہے اور اقلیت کو اکثریت میں بدل لیاجاتا ہے۔

اس کاروائی سے مطلوبہ مقاصد تو حاصل ہو جاتے ہیں لیکن عوام کا اعتماد بھی اٹھ جاتا ہے۔ چنانچہ اب وقت آگیا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے 1973ء کے آئین کو نواز شریف اور دیگر سیاسی قائدین اس کی اصل روح کے مطابق نافذ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ماضی میں غلطیاں سب سے ہوئی ہیں، ان غلطیوں کو ٹُروتھ کمیشن میں بیان کرکے ڈاکومنٹ کردیا جائے اور ملک کو چلانے کے لئے آئین کی نئی تشریح پر اتفاق کرلیا جائے۔ اگر اداروں کے بغیر حکومتیں نہیں چل سکتیں تو اداروں کے اس رول کو آئینی کور دیا جائے اور اگر اس پر اتفاق نہیں ہوتا تو اداروں کو آئین کی بالادستی پر ایمان لے آناچاہئے۔آئینی ادارے یا ادارہ جاتی آئین؟....ہمیں بحیثیت قوم کسی ایک بات پر اتفاق رائے پیدا کرلینا چاہئے تاکہ ملک آگے بڑھ سکے۔

مزید :

رائے -کالم -