دھوپ چھاؤں کا تعزیت نامہ  (3)

دھوپ چھاؤں کا تعزیت نامہ  (3)
دھوپ چھاؤں کا تعزیت نامہ  (3)

  

کیا کسی بچے کا اچھا حافظہ لفظوں کی کمزور پہچان کا مداوا کر سکتا ہے؟ جواب حاصل کرنے کے لئے کسی ماہرِ نفسیات سے رجوع کیا جائے تو وہ انسانی یادداشت کو آواز اور تصویر کے الگ الگ خانوں میں بانٹنے کی کوشش کرے گا۔ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ بعض لوگوں کو کانوں سُنی باتیں اچھی طرح یاد رہتی ہیں جبکہ دوسروں کو آنکھوں دیکھی۔ اِس کی روشنی میں اردو کی دوسری کتاب کو معیار بناؤں تو میرے ابتدائی زمرے کا تعین ایک عجیب بارڈر لائن کیس بن جائے گا۔ اتنا یاد ہے کہ کہانیاں اور اُن سے زیادہ روانی کے ساتھ نظمیں خود بخود یاد ہو جاتی تھیں۔ جیسے ’تاروں کی بارات میں نکلا، چاند سہانی رات میں نکلا‘، ’آؤ آؤ کھیل جمائیں، گیت اسی کی حمد کے گائیں‘ یا ’وہ دیکھو ہوائی جہاز آ رہا ہے‘ جس میں میرے دوست عارف وقار یہ تصحیح کرنے پہ مصر ہیں کہ ’وہ دیکھو ہوائی جہاز آ گیا ہے‘۔

 شاعری کے یاد رہ جانے ایک بڑی وجہ بحروں کے اوزان یا گیتوں کا ترنم ہے۔ مگر وہ جو احمد ندیم قاسمی کہہ گئے ہیں کہ ’رگِ جاں کا کوئی رشتہ ہے رگِ ساز کے ساتھ‘۔ میری طبیعت کا ترنم تو پھو پھو ممتازکے اسکول میں صبحگانہ اسمبلی نے سیٹ کیا۔ پہلے دو لڑکیا ں کہتیں ’پاک وطن، شاداب چمن، اے پیارے پاکستان‘۔ پھر سارا اسکول آواز ملاتا: ’اونچی تیری شان، پیارے پاکستان‘۔ گائیکی کے لحاظ سے پہلی لائن کی خوبی یہ تھی کہ اِس میں ہندی بحروں کی طرح ماترائیں آسانی سے گنی جا سکتی تھیں۔ یہی نہیں بلکہ اُن کے بیچ ’پاک وطن، شاداب چمن‘ میں پہلے دو الفاظ کا جزم پہ خاتمہ اور اِس کے باوجود ساکن حرف ِ علت یا آدھے الف کی پنجابی آواز، پھر ’وطن‘ اور ’چمن‘ دونوں میں تواتر کے ساتھ ایک کے بعد دوسری زبر۔ استھائی دہرا کر اگلا انترا نئے سرے سے پھر دو نو عمر آوازوں سے شروع ہوتا:

 سورج سے بھی چمکیلی ہے تیرے پہاڑوں کی پیشانی

 چاند کی کرنوں سے اُجلا ہے تیرے دریاؤں کا پانی

 دو مصرعے پورے ہوتے ہی سارے اسکول کا مترنم شور گونجتا جس میں استانیاں اور تمام طالبات ہم آواز ہو کر جوش سے کہتیں:

 جنت کو شرمائیں تیرے ہرے بھرے میدان 

 پیارے پاکستان، اونچی تیری شان۔۔۔

 اونچی تیری شان، پیارے پاکستان

 اپنے عام فہم اسلوب، سیدھی سادی دھُن اور بطور کورَس انتہا درجہ کی موزونیت کے لحاظ سے مَیں نے زندگی بھر اِس سے زیادہ وجد آور قومی نغمہ کبھی نہیں سنا۔ اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پھوپھو مرحومہ کے اسکول میں یہ روح پرور گیت اور اُس سے وابستہ وطن کی اپنائیت کا احساس مجھے گائیکی کے راستے پر آگے لے جاتا۔ لیکن نہیں، اِس دوران دو واقعات اَور ہوئے۔ ایک تو مونسپل کمیٹی کے اسکول میں تین ماہ کے اندر تیسری میں بٹھائے جانے کے روشن امکان پر پھوپھو کی کلاس میں میری دلچسپی کچھ کم ہو گئی تھی۔ دوسرے جمعہ کے دن شہر سیالکوٹ کی پاپڑاں والی خانقاہ میں مفتی حبیب احمد کا وعظ سُن سُن کر (اُس وقت تک عام لوگ جمعہ کے خطاب کو وعظ ہی کہتے تھے) تحت الشعور میں یہ احساس بھی جاگا ہوگا کہ ’پاک وطن، شاداب چمن‘ کی طرح مفتی صاحب کی تقریر بھی سُر تال سے عاری نہیں۔

 چنانچہ ایک شام جب مَیں گھر میں مفتی حبیب کی نقل اتار رہا تھا، رشتہ کے ایک چچا یہ کہہ کر مذکورہ مسجد میں لے گئے کہ چلو، مائیکروفون کے سامنے کھڑے ہو کر تقریر کرو۔ چونکہ لفظوں کی پوری پہچان نہ رکھنے والے لڑکے کو اردو کی دوسری کتاب ازبر تھی، اِس لئے پہلا ہی مضمون ’ہمارے پیارے نبی (صلعم)‘ ذرا ذرا وقفہ دے کر زبانی سنا دیا۔ وقفہ اِس لئے کہ مفتی صاحب کا انداز یہی تھا۔ البتہ اُن کے برعکس مجھے گعیربدل بدل کر بولنے کی مشق نہیں تھی۔ خیر، محلہ میں دھوم مچ گئی کہ شاہد نے تقریر کی ہے۔ اگلے روز پھوپھو کے اسکول میں سالانہ جلسہ تھا۔ کارروائی کے دوران اچانک میرا نام بھی پکارا گیا۔ مَیں نے مسجد والا مضمون پھر سنا دیا۔ یہاں مقرر کے سامنے سامعین بھی تھے، جنہوں نے خوب داد دی۔ پھوپھو کی خوشی دیدنی تھی۔ بس یہیں گڑ بڑ ہوئی۔

 گڑبڑ اِس لئے کہ تقریریں ختم ہوتے ہی تقسیمِ انعامات کا مرحلہ آ گیا۔ انعام کی کتابیں کریپ پیپر یا گُڈی کاغذ میں بندھے ہوئی تھیں۔ ہماری تربیت ایسی کہ کسی کی چیز کو دیکھ کر اُسے حاصل کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ یہاں تک کہ کسی ملنے والے کے یہاں امی یا پھوپھو کے اشارے کے بغیر کھانے پینے کی کسی چیز کو ہاتھ لگانے کا کوئی سوال نہیں تھا۔ اسی لئے ریلوے اسپتال سیالکوٹ کے ایک دفتر میں خالو معظم کے اصرار کے باوجود کریم رول کی پلیٹ چھوڑ دینے کا آج تک ملال ہے۔ لیکن جب انعام پانے والی لڑکیوں کو پولی تھین کے شفاف بیگوں میں اُون کے رنگا رنگ بنڈل تھمائے جانے لگے تو خیال ہے کہ میرا دل بہت للچایا ہوگا۔ اے بی سی، پاکوُل اور او کے۔۔۔ یہ ہیں اُس دور کی اُون کے مشہور برانڈ، مگر اصل دلکشی کا سامان اُن کے پیارے پیارے سبز، پیا زی اور نیلگوں شیڈ تھے جن سے نظریں نہ ہٹتیں۔

 پھوپھو نے اُس وقت میرے چہرے پر بے بسی کے آثار ضرور دیکھے ہوں گے۔ اِس لئے جب ہم جلسہ کی کارروائی ختم ہونے پر اسٹاف روم میں گئے تو انہوں نے میری طرف اشارہ کر کے کہا: ”ویسے کیا تھا، اِسے بھی تقریر کرنے پہ انعام دے دیتے“۔ جواب ملا کہ انعامات تو صرف اپنے اسکول کے بچوں کے لئے تھے۔ پھو پھو کے منہ سے نکلا: ”مَیں صدقے جاؤں“۔ لہجہ میں ہلکا سا احتجاج ایک زخم خوردہ احساسِ برتری کے ساتھ جڑا ہوا تھا۔ ساتھ ہی پرس میں ہاتھ ڈالا اور دس روپے کا نوٹ نکال کر کھٹ سے میری جیب میں ڈال دیا۔ اب روایتی بزرگوں کی طرح کہوں گا کہ ”دس روپے، اتے اوس زمانے وچ“۔ گھر پہنچے تو امی نے پیسے واپس کر دیے۔ تاہم، خاندانی دیو مالا میں اِس کچی پکی کہانی کا مستقل اضافہ بھی ہو گیا کہ ہمارے لڑکے کو چھ سال کی عمر میں سیرت النبی پہ تقریر کرنے پر دس روپے انعام ملا تھا۔    (جاری ہے)

  

مزید :

رائے -کالم -