اپوزیشن کی تحریک، کیا حکومت غلطیاں دہرا رہی ہے؟

اپوزیشن کی تحریک، کیا حکومت غلطیاں دہرا رہی ہے؟
اپوزیشن کی تحریک، کیا حکومت غلطیاں دہرا رہی ہے؟

  

وزیراعظم عمران خان نے انصاف وکلاء فورم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بظاہر یہ پیغام دیا ہے کہ انہیں اپوزیشن کے احتجاج کی کوئی فکر نہیں، لیکن ان کی باتیں یہ ظاہر کر رہی تھیں کہ آج کل ان کے ذہن پر صرف  اپوزیشن کا مجوزہ احتجاج ہی چھایا ہوا ہے۔ یہ وہ موقع ہے کہ جب وزیراعظم سمیت پوری کابینہ اور تحریک انصاف کو سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے چاہئیں، باتیں بھی پہلے تولنے کے بعد کی جائیں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا، کیونکہ جب بھی حکومت کے خلاف تحریک چلتی ہے تو اسے ہوا خود حکومت سے ملتی ہے، اگر ہوا نہ ملے تو اس کے غنچے بن کھلے مرجھا جاتے ہیں، لیکن ایسا نہیں لگ رہا کہ حکومت نے اس حوالے سے کوئی ہوم ورک کیا ہے۔ وہی پرانے ہتھکنڈے اور وہی پرانی حکمتِ عملی اب بھی اختیار کی جا رہی ہے۔ مثلاً اس بات کی کیا ضرورت تھی کہ لیاقت باغ راولپنڈی میں عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا جائے۔ حکومت کا یہ کام نہیں ہوتا کہ وہ جلسے کرے۔ کیا کئی دہائیوں پر مبنی سیاسی تاریخ میں پٹواریوں اور سرکاری عمال کے ذریعے جلسے کرنے کی روایت برقرار نہیں رہی؟ کیا کوئی حکومت اس حکمتِ عملی کی وجہ سے بچ سکی؟ اُلٹا معاملہ ہاتھ سے نکلتا چلا گیا، حتیٰ کہ وہ آمر بھی جو پورے حکومتی وسائل سے اپنی حمایت میں جلسے منعقد کراتے رہے، بالآخر عوامی دباؤ پر اقتدار سے محروم ہوئے۔ حکومت اگر خود جلسے کرنے لگے تو ان سے اپوزیشن کے کارکنوں میں ایک جوش و جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی جلسوں میں شریک ہوتے ہیں، تاکہ اپنی برتری ثابت کر سکیں۔ مجھے لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں کپتان کے مشورہ ساز بھی انہیں ایسے ہی کاموں میں الجھا دیں گے۔ اُدھر اپوزیشن جلسے کرے گی اور اِدھر حکومت جواب دے گی۔اس کا فائدہ کسے ہوگا؟ ظاہر ہے اپوزیشن کو جو ملک میں بے یقینی اور انتشار پیدا کرنا چاہتی ہے۔

کپتان اپوزیشن کے خلاف جتنی زیادہ تقریریں کریں گے، اتنی ہی اس میں جان پڑتی جائے گی۔ یہ بڑا سیدھا سا فارمولا ہے، جسے اقتدار میں رہنے والا ہمیشہ بھول جاتا ہے۔اب بھلا کپتان کو گڑے مردے اکھاڑنے کی کیا ضرورت تھی؟ یہ کہنے کا کیا یہ مناسب وقت تھا کہ نوازشریف فوج کو پنجاب پولیس بنانا چاہتے تھے۔ یہ باتیں تو وہ کنٹینر پر کھڑے ہو کر کئی بار کہہ چکے ہیں۔ کیا وزیراعظم کی حیثیت سے انہیں یہ غیر مصدقہ بات کرنی چاہیے تھی کہ نوازشریف فوج کو پنجاب پولیس بنانا چاہتے ہیں۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ اس کے بارے میں سوچا بھی جائے۔ کیا دنیا کو اس سے کوئی مثبت پیغام ملے گا؟ کیا پاک فوج کا انتظامی ڈھانچہ اور کمانڈ اینڈ کنٹرول اتنا ڈھیلا ڈھالا ہے کہ کوئی بھی اسے فوج سے پولیس بنا سکتا ہے۔ یہ صرف سیاسی الزام تراشی کا سامان تھا، جسے وزیراعظم کی حیثیت سے ہرگز نہیں دہرایا جا سکتا۔ پھر ان کا نوازشریف سے خمینی کا موازنہ کرنا بھی سیاسی بیانیہ ہو سکتا ہے، ایک وزیراعظم کا بیانیہ ہرگز مناسب نہیں۔ اول تو کسی پارٹی عہدیدار کی بات کو لے کر اس طرح موازنہ کرنا دانشمندانہ بات نہیں، کیونکہ یہ خیال بھی رکھنا ضروری ہوتا ہے کہ ایرانی عوام خمینی سے کس قدر عقیدت رکھتے ہیں۔ کوئی غلط جملہ کوئی غلط بات مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ لوگ تو اس پر بھی معترض ہیں کہ وزیراعظم نے طلال چودھری کے حوالے سے قومی سطح پر نشر ہونے والی اپنی تقریر میں تنظیم سازی کی بات کیوں کی، کیوں اس نکتے کو بھول گئے کہ اب اس لفظ کے معانی ذومعنی ہو چکے ہیں اور انہیں مناسب نہیں سمجھا جاتا۔

وزیراعظم عمران خان اگر خود ایسا غیر سنجیدہ ماحول بنا دیں گے تو ان کے وزراء اور مشیر تو پورا باغ اجاڑ دیں گے۔ ان کی بوالعجبیاں تو پہلے ہی ماحول کو پراگندہ کئے ہوئے ہیں۔ کوئی تحریک چل رہی ہو تو حکومت کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہوتی ہے کہ اس کے معمولات بالکل نارمل انداز سے چل رہے ہوں۔ اگر معمولات میں خلل پیدا ہو جاتا ہے تو سمجھو اپوزیشن پہلی کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ابھی نواز شریف کی پہلی تقریر نشر نہیں ہوئی تھی کہ ہاہا کار مچ گئی تھی۔ ان کے خلاف تمام وزراء نے اپنی توپوں کے دہانے کھول دیئے تھے۔ یوں لگتا تھا، جیسے یہ حکومت نوازشریف کے ایک خطاب کی مار ہے۔ اس دن کے بعد سے حکومت غلطی پر غلطی کررہی ہے۔ بغاوت کا مقدمہ،راولپنڈی میں جلسہ، پکڑ دھکڑ، وزیراعظم کی جیلوں میں ڈالنے اور عام قیدیوں کی طرح رکھنے کی وارننگ، وزیروں مشیروں کی دن میں چار چار بار اپوزیشن مخالف پریس کانفرنسیں، آخر کس کو فائدہ پہنچا رہی ہیں؟ کیا حکومت نے تسلیم نہیں کر لیا کہ اسے اپوزیشن کی تحریک سے خطرہ ہے۔محض یہ کہہ دینے سے تو کچھ نہیں ہوتا کہ اپوزیشن عوامی حمایت سے محروم ہے اور اس کے پاس جلسے کرنے کے لئے لوگ ہی نہیں ہیں۔

 اصل قصہ تو یہ ہے کہ ساری حکومت اپوزیشن کی تحریک کو ناکام بنانے پر لگ گئی ہے۔ ابھی پہلا جلسہ ہوا نہیں اور حالت یہ ہے، تحریک آگے بڑھی تو کیا ہو گا۔ صرف یہ بیانیہ شاید کارگر ثابت نہ ہو کہ اپوزیشن احتساب سے بچنے اور لوٹی دولت واپس نہ کرنے کے لئے اکٹھی ہوئی ہے۔ یہ باتیں عوام دو سال سے سن رہے ہیں اور یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ ابھی تک لوٹی  دولت واپس آئی ہے اور نہ کسی کو سزا ہوئی ہے۔ اصل حقیقت جس پر حکومت کو توجہ دینی چاہئے، وہ معیشت ہے، جس نے عوام کو زمین سے لگا دیا ہے۔ معاشی ریلیف دینے کی کوئی راہ نہ نکالی گئی تو حکومت کے لئے یقینا مشکلات پیدا ہوں گی۔ بدقسمتی سے عمران خان اس محاذ پر بُری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ وہ چینی تک سستی نہیں کر اسکے، حالانکہ چینی مہنگی بیچنے والے مافیا کی نشاندہی بھی ہو چکی ہے۔ حکومتی حلقوں کو اس نکتے پر غور کرنا چاہئے کہ رفتہ رفتہ اپوزیشن کا بیانیہ تبدیل ہو رہا ہے۔ اب وہ انتقام یا احتساب کی بجائے یہ کہنے لگی ہے کہ عوام کو جلد مہنگائی اور لوٹ مار سے نجات ملے گی۔ اپوزیشن انہیں حکومت سے چھٹکارہ دلائے گی تو ان کے تمام مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔ مہنگائی ایک بہت بڑی زمینی حقیقت ہے جو براہ راست عوام کی زندگی کو متاثر کر رہی ہے۔ اس سے توجہ ہٹانے کے لئے وزیروں،مشیروں کی جگتیں یا پھبتیاں عوام کو متاثر نہیں کر سکتیں۔ اس کے لئے عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔

مزید :

رائے -کالم -