کہروڑ پکا: کچی آبادی گرانے کی تیاریاں‘ 60 گھروں کو نوٹس‘ غریبوں کا احتجاج 

کہروڑ پکا: کچی آبادی گرانے کی تیاریاں‘ 60 گھروں کو نوٹس‘ غریبوں کا احتجاج 

  

کہروڑ پکا (نما ئندہ خصوصی)اے سی نے کچی آ بادی کے 60گھروں کو گرانے کے نوٹس جاری کر دئیے ہیں، نوٹس با اثر افراد کے زیر قبضہ سرکاری اراضی کو بچا نے کے لیے جاری کیے گئے۔ تفصیل کے مطا بق نواحی علا قہ بستی اللہ دتہ والی موضع جھا نبی واہن میں 88کے سیلاب (بقیہ نمبر34صفحہ 6پر)

سے متاثرہ60خاندا نوں کوانتظا میہ نے متبادل جگہ نالہ میں دی تا کہ یہ لوگ اپنے گھر بنا کر رہیں کیو نکہ ان کے رقبے و مکان دریا میں تباہ ہو چکے تھے ان افراد نے یہاں پر سر کاری رقبہ میں اپنے مکا نات تعمیر کر لیے اور 32سال سے رہا ئش پذیر ہیں حکو مت کی ہدایت پراے سی نے دو سال قبل با اثر افراد کے قبضہ سے رقبہ وا گزار کر وایا تو اس آ بادی کے خلاف کو ئی کاروا ئی نہ کی گئی با اثر افراد نے واگزار رقبہ پر دو بارہ قبضہ کر لیا ہے جس پراے سی نے ان سے رقبہ وا گزار کروا نے کے ساتھ ساتھ 60غریب خا ندا نوں جو تقریبا400سے زائد افراد پر مشتمل ہیں کو بھی نوٹس جا ری کر دئیے کہ 15یوم کے اندر رقبہ خا لی کر دیں  اس نوٹس پر کو ئی تاریخ اجراء نہیں ہے واپڈا کی طرف سے اس بستی میں پول لگا کر بجلی بھی فراہم کر دی گئی ہے سر کاری سڑک بھی موجود ہے محمد رمضان،محمد ناصر،محمد سیفل،فیاض،مختیارنے میڈیا کو بتایا کہ حکو مت کی طرف سے ہدا یات ہیں کہ کچی آ بادی کو نہ گرایا جا ئے اس کے علاوہ کاشت سر کاری اراضی کو وا گزار کیا ا ئے مگر اے سی نے ان کو نوٹس جا ری کر دئیے ہیں حکومت تو گھر بنا کر دینا چا ہتی ہے مگر اے سی عوام کے سروں پر سے ہی چھت چھین کر ان کو بے گھر کرنا چا ہتا ہے انہوں نے وزیر اعلیٰ،کمشنرملتان،ڈپٹی کمشنر لودھراں سے مطا لبہ کیا ہے کہ اے سی کے جاری کردہ نوٹس کو منسوخ کیا جا ئے اور ان کو مالکا نہ حقوق دئیے جا ئیں بستی کے رہا ئشی مردوں، عورتوں، بچوں نے ٹا ئروں کو آگ لگا کر شدید احتجاج کیا انہوں نے کہا کہ اگر ان کے گھروں کو گرایا گیا تو وزیر اعلیٰ ہاوس کے سا منے خود کو آگ لگا کر خود سوزی کر لیں گے باوثوق مبینہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ با اثر افراد کے زیر قبضہ زر عی سر کاری اراضی کو بچا نے کے لیے کچی آ بادی کے مکینوں کو جان بوجھ کر نوٹس جاری کروا ئے گئے ہیں تا کہ ان کی آڑ میں بااثر افراد کے خلاف بھی کاروا ئی نہ کی جائے۔

غریب

مزید :

ملتان صفحہ آخر -