قومی ٹی ٹونٹی کپ 2020-21 سینٹرل پنجاب دوڑ میں آگے!

قومی ٹی ٹونٹی کپ 2020-21 سینٹرل پنجاب دوڑ میں آگے!

  

• پہلے مرحلے کے 14 میچوں میں بلے بازوں کا پلڑا بھار ی رہا،

       اب تک  کُل 481 چوکے  اور 180  چھکے لگ چکے

• دفاعی چیمپئن ناردرن اب تک ناقابل شکست، ٹی ٹونٹی فارمیٹ میں لگاتار 11 فتوحات اپنے نام کرچکی

• پوائنٹس ٹیبل پر خیبرپختونخوا کا دوسرا اور بلوچستان کا تیسرا نمبر

• سندھ، سنٹرل پنجاب اور سدرن پنجاب کو  دوسرے مرحلے میں قسمت بدلنے کی امید

 پاکستان کے نوجوان کرکٹرز کے لئینیشنل ٹی ٹونٹی کپ نہایت اہمیت کاحامل ثابت ہورہا ہے زمبابوے کی ٹیم نے اس ماہ پاکستان کا دورہ کرنا ہے اور اس سے قبل کھلاڑیوں کی کارکردگی جانچنے کے لئے اس ایونٹ کی اہمیت بڑھ گئی ہے پہلا مرحلہ ختم ہوچکا ہے جس میں شریک ٹیموں نے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی بھرپور کوشش کی،نیشنل ٹی ٹونٹی کپ کے رواں ایڈیشن کا دوسرا مرحلہ راولپنڈی کے پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں جاری ہے۔ 30 ستمبر سے 6 اکتوبر تک کھیلی گئی ملتان لیگ میں شاداب خان کی زیر قیادت میدان میں اترنے والی ناردرن کی ٹیم نے پانچوں میچوں میں کامیابی حاصل کرکے ایونٹ میں سبقت برقرار رکھی ہوئی۔گزشتہ ایڈیشن کے اختتامی پانچوں میچوں اور پھر ایم سی سی کے خلاف کامیابی حاصل کرنے والی ناردرن کی ٹیم کرکٹ کے اس محدود فارمیٹ میں اب تک لگاتار 11 فتوحات سمیٹ چکی ہے۔اُدھر ٹی ٹونٹی کرکٹ میلہ کے پہلے مرحلے میں بلے بازوں کا راج رہا۔ ملتان کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے کُل 14 میچوں کی 8 اننگز میں 200 یا اس سے  زائد کا مجموعہ اسکور بورڈ پر سجایا گیا۔  یہاں مجموعی طور پر 481 چوکے اور 180 لگے۔ ایونٹ کے پہلے مرحلے میں ناقابل شکست ناردرن کی ٹیم رواں ایڈیشن کے پانچوں میچوں میں ناقابل شکست رہنے کی وجہ سے پوائنٹس ٹیبل پر پہلی پوزیشن پر براجمان ہے۔ ایونٹ کے  چار میچز جیت کر 8 پوائنٹس حاصل کرنے والی خیبرپختونخوا کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر دوسرے اور چھ پوائنٹس حاصل کرنے والی بلوچستان کی ٹیم تیسرے نمبر پر موجود ہے۔پوائنٹس ٹیبل پر آخری تین پوزیشنز پر موجود سندھ، سنٹرل پنجاب اور سدرن پنجاب کی ٹیموں کو 9اکتوبر سے شروع ہونے والی لیگ میں بہتر کارکردگی کی امید ہے۔ اس سلسلے میں سدرن پنجاب نے ٹیم کمبی نیشن میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے ایونٹ کے دوسرے مرحلے میں سنٹرل پنجاب کی قیادت جبکہ پاکستان وائٹ بال کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم سنبھال لیں گے۔جبکہ سنٹرل پنجاب کی ٹیم ایونٹ کے پہلے مرحلے میں متاثرکن کارکردگی کا مظاہرہ تو نہ کرسکی مگران کی بیٹنگ لائن میں شامل 20 سالہ باصلاحیت ٹاپ آرڈر  بیٹسمین عبداللہ شفیق نے ملتان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا خوب منوایا۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں ڈیبیو پر سنچری بنانے والے عبداللہ شفیق ٹی ٹونٹی فارمیٹ میں بھی ڈیبیو میچ پر سنچری بناکر سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے میں کامیاب رہے۔ سدرن  پنجاب کے خلاف میچ میں 102 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلنے والے عبداللہ شفیق اب تک ایونٹ میں پانچ میچوں میں 236 رنز بناکر ٹاپ اسکورر ہیں۔خیبرپختونخوا کے تجربہ کار بیٹسمین محمدحفیظ 207 رنز بناکر اب تک سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہیں۔بلوچستان کے امام الحق 195 اور ناردرن کے ذیشان ملک 192 بالترتیب تیسرے اور چوتھے نمبر پر موجود ہیں۔رواں سال ٹی ٹونٹی کرکٹ کے سب سے کامیاب باؤلر شاہین شاہ آفریدی نیشنل ٹی ٹونٹی کپ میں بھی تمام باؤلرز سے سب سے آگے ہیں۔ ایونٹ میں 2 مرتبہ پانچ وکٹیں حاصل کرنے والے خیبرپختونخوا کے بائیں ہاتھ کے فاسٹ باؤلر اب تک ایونٹ میں 12 وکٹیں اپنے نام کرچکے ہیں۔ناردرن کے حارث رؤف، شاداب خان اور موسیٰ خان اس دوڑ میں شاہین شاہ آفریدی سے پیچھے ہیں۔پوائنٹس ٹیبل پر آخری تین پوزیشنز پر موجو دتینوں ٹیموں کو ایونٹ کے دوسرے مرحلے میں قسمت بدلنے کی امید ہے۔ اس حوالے سے سندھ کے ہیڈ کوچ باسط علی نے اپنی ٹیم پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسی ٹیم کمبی نیشن کو دوسرے مرحلے میں بھی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم پنجاب کی دونوں  ٹیموں نے دوسرے مرحلے کے لیے حکمت عملی کے ساتھ ساتھ اسکواڈز میں بھی تبدیلی کی ہے۔ دونوں ٹیموں نے سیکنڈ الیون میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کو فرسٹ الیون اسکواڈز میں شامل کرلیا ہے۔ہیڈ کوچ شاہد انورنے اعتراف کیا ہے کہ سنٹرل پنجاب کی ٹیم ایونٹ کیپہلے مرحلے میں ا چھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکی۔ انہوں نے  کہا کہ پہلی لیگ میں سنٹرل پنجاب کی ٹیم کم از کم مزید 2 میچز جیت سکتی تھی تاہم وہ پرامید ہیں کہ دوسری لیگ کے لیے بابراعظم کی آمد سے اسکواڈ میں شامل کھلاڑیوں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا، جس سیٹیم کی  کارکردگی میں بہترہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہماری ٹیم میں بہت سے باصلاحیت اور نوجوان کرکٹرز موجود ہیں، امید ہے کہ وہ راولپنڈی میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔ سندھ کے ہیڈ کوچ باسط علی کا کہنا ہے کہ ہماری ٹیم میں معیاری اور ٹی ٹونٹی اسپیشلسٹ کھلاڑی موجود ہیں لیکن بدقسمتی سے وہ توقعات کے مطابق کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کہ شرجیل خان،خرم منظور اور اعظم خان نے مختلف میچوں میں انفرادی طور پر متاثرکن کارکردگی پیش کی مگر ہمیں پوائنٹس ٹیبل پر مستحکم پوزیشن کے حصول کے لیے آئندہ میچوں میں فتوحات سمیٹنا ہوں گی۔باسط علی نے مزید کہا کہ سرفراز احمد بہترین کپتان ہیں اور وہ پرعزم ہیں کہ وکٹ کیپر بیٹسمین کی زیرقیادت سندھ کی ٹیم ایونٹ کے دوسرے مرحلے میں اچھا کھیل پیش کرے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے  کہ ملتان کی طرح راولپنڈی میں بھی پچز بیٹنگ کے لیے سازگار ہوں گی۔ہیڈ کوچ عبدالرحمٰن کا کہنا ہے کہ سدرن پنجاب کے لیے ایونٹ کا آغاز توقعات کے مطابق نہیں رہا تاہم وہ پرامید ہیں کہ ایونٹ کیآئندہ میچوں میں ان کی ٹیم بہتر کھیل پیش کرے گی۔ عبدالرحمٰن نے کہا انہوں نے ایونٹ کے دوسرے مرحلے کے لیے ٹیم کمبی نیشن کے  ساتھ ساتھ حکمت عملی میں بھی کچھ تبدیلی کی ہے، انہوں نے سیکنڈ الیون کیپرفارمرز زین عباس، دلبر حسین اور محمد عمران کو فرسٹ الیون اسکواڈ کے لیے طلب کرلیا ہے۔

قومی ٹی20 و ون ڈے ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہا کہ  بائیو سیکیور ببل کی  عادت ہوچکی ہے تاہم کورونا وائرس کی وباء   کے  باوجود کرکٹ کی سرگرمیاں جاری رہنا خوش آئند ہے۔پہلے انٹرنیشنل اور پھر کاؤنٹی کرکٹ میں مصروفیات کے باعث وہ ایک طویل عرصے سے ڈومیسٹک کرکٹ  میں اپنے ساتھی کھلاڑیوں سے ملاقات  نہیں کرسکے، راولپنڈی میں سنٹرل پنجاب کے  اسکواڈ کو جوائن کرنے پر بہت پرخوش ہیں۔سنٹرل پنجاب کے کپتان بابراعظم کاکہنا ہے  کہ گزشتہ سال سنٹرل پنجاب کی باؤلنگ کمزور تھی مگر اس مرتبہ ہم ٹورنامنٹ میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مزید کہا کہ  اپنی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد کرنا ہی دباؤ دور کرنے  کا بہترین طریقہ ہے، وہ پختہ ذہن اور خود اعتمادی کے  ساتھ میدان میں اترتے  ہیں۔بابراعظم کا کہنا ہے کہ میچ میں اپنی باری کے انتظار میں انہیں دباؤ کا سامنا کرنا پڑے تو وہ ڈریسنگ روم میں موجود ساتھی کھلاڑیوں اور اسپورٹ اسٹاف سے گفتگو شروع کردیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ میدان میں اترنے سے قبل  زیادہ دیر چپ نہیں بیٹھ سکتے بابراعظم نے کہا کہ نیشنل ٹی ٹونٹی کپ 2020 نوجوان اور باصلاحیت کرکٹرز کیساتھ پاکستان کے وائٹ بال اسکواڈ میں شامل کھلاڑیوں کے لیے اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ ایونٹ کے  فوری بعد زمبابوے کرکٹ ٹیم پاکستان کے دورہ پرپہنچ جائے گی اور وہ سیریز ہمارے لیے دورہ نیوزی لینڈ کی ایک اچھی تیاری ہوگی۔انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل سطح پر کوئی بھی ٹیم آسان نہیں ہوتی، اس لیے  زمبابوے  کے خلاف بھرپور تیاری کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔ بابراعظم کا مزید کہنا تھا کہ وہ زمبابوے کے خلاف  کامیابی حاصل کرکے وننگ موومنٹم نیوزی لینڈ لے کر جانا چاہتے ہیں کیونکہ نیوزی لینڈ کے خلاف نیوزی لینڈ میں سیریز آسان نہیں ہوتی ٹیم مستقبل میں ہر سیریز میں کامیابی کے لئے پرعزم ہے۔دوسری جانبقومی ٹیم کے چیف سلیکٹر مصباح الحق تاحال سینئرز کرکٹرز شعیب ملک، محمد حفیظ، وہاب ریاض محمد عامر اور سرفراز احمد کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ نہیں کرپائے۔لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مصباح الحق کا کہنا تھا کہ اچھی کارکردگی دکھانے والے زمبابوے کے خلاف سیریز میں جگہ پاسکتے ہیں۔ قومی ٹی 20 میں بعض نوجوان کھلاڑی زبردست پرفارمنس دے رہے ہیں جو بہت خوش آئند ہے۔ سکینڈ الیون کھلاڑیوں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ زمبابوے کے خلاف سیریز میں تجربہ کار کرکٹرز کو آرام دینے یا کھلانیکے حوالے سے فیصلہ نہیں پر مشاورت جاری ہے۔مصباح الحق کا کہنا تھا کہ زمبابوے کے خلاف سیریز کے لیے ٹیم کا اعلان قومی ٹی ٹوئنٹی کپ ختم ہونے پر کریں گے۔ 22 کے قریب لڑکوں پر مشتمل اسکواڈ کی فہرست تیار کررہے ہیں جنہیں ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے میچز میں کھلایا جائے گا۔ 

مزید :

ایڈیشن 1 -