سپورٹس راؤنڈاپ 

سپورٹس راؤنڈاپ 

  

                                    ہاتھوں سے محروم اسنوکر پلئیر کے چرچے

پیدائشی طور پر دونوں ہاتھوں سے محروم پنجاب کے ٹاؤن سمندری کے 32 سالہ نوجوان محمد اکرام نے تھوڑی سے اسنوکر کھیل کر اپنی صلاحیت سے سب کو حیران کردیا۔اپنی معذوری کو شکست دے کر اسنوکر میں اپنی پہچانا بنانے والے محمد اکرم غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔کبھی اسکول کی شکل نہ دیکھنے والے اکرام نے نوعمری میں مقامی اسنوکر ہال میں کھلاڑیوں کو دیکھنا شروع کیا جس نے ان کے دل میں اسنوکر کھیلنے کی خواہش کو جنم دیا۔اپنے شوق کو عملی جامہ پہنانے کیلئے اکرام نے خفیہ طور پر اسنوکر کھیلنے کی پریکٹس شروع کی۔اکرام کے مطابق  شروع شروع میں خالی پول ٹیبل پر گیندوں کو خود ہی دھکا دیتا تھا، آہستہ آہستہ میں نے اپنے کھیل کو بہتر بنایا اور دوسروں کے ساتھ کھیلنا شروع کیا۔اکرام اب شہر کے بہترین کھلاڑیوں کو چیلنج کرسکتے ہیں،اے ایف پی کی ٹیم کے ساتھ اسنوکر ہال میں اکرام نے بہت سارے شاٹس کا مظاہرہ کر کے بھی دکھایا، جس پر ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔اکرام حکومت کی سپورٹ سے بین الااقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے کے خواہشمند ہیں۔

          کورونا وائرس سے معطل اسکواش سرگرمیاں دوبارہ شروع

کورونا وائرس کی وجہ سے 7 ماہ سے معطل اسکواش کی سرگرمیاں لاہور میں دوبارہ شروع ہو گئیں، انڈر 15 ٹورنامنٹ میں شریک کھلاڑی خوش ہیں جبکہ منتظمین کا کہنا ہے کہ احتیاطی تدابیر کا خیال رکھا جا رہا ہے۔

آل پاکستان انڈر 15 جونئیر اسکواش ٹورنامنٹ سے لاہور میں اسکواش کی سرگرمیاں شروع ہو ئی ہیں، پنجاب اسکواش ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام پنجاب اسکواش کمپلیکس میں کھیلے جانے والے ٹورنامنٹ کا آغاز مین راونڈ سے ہی کیا گیا۔منتظمین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے، کھلاڑی پرجوش ہیں کہ انہیں لمبے وقفے کے بعد ٹورنامنٹ میں حصہ لینے کا موقع ملا ہے۔انڈر 15 ٹورنامنٹ کے بعد پنجاب اسکواش کمپلیکس میں مزید ایج گروپ ٹورنامنٹس جاری رکھنے کے لیے منتظمین پر عزم ہیں۔

                                                                 محمد سجاد نے تیسری مرتبہ رینکنگ اسنوکر چیمپئن شپ جیت لی

سابق عالمی چیمپئن اور سابق ایشین چمپئین محمد سجاد نے سخت مقابلے کے بعد حارث طاہر کو شکست دیکر نیشنل بینک اسنوکر چیمپئن شپ جیت لی۔چیمپئن شپ جیتنے پر محمد سجاد کو خوبصورت ٹرافی اور ایک لاکھ روپے کی انعامی رقم جبکہ رنر اپ حارث طاہر کو ٹرافی اور 40 ہزار روپے کی انعامی رقم ملی۔مہمان خصوصی نیشنل بینک کے صدر عارف عثمانی نے انعامات تقسیم کئے۔عارف عثمانی نے کہا کہ میں جیتنے والے کیوئسٹ محمدسجاد کو مبارک باد دیتا ہوں اور رنر آنے والے کھلاڑی حارث طاہر کو بھی ان کے بہترین کھیل پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ نیشنل بینک ہمیشہ کھیلوں کی سرپرستی کرتا رہے گا۔ اسنوکر کی ترقی کے لئے کوشاں ہیں ہم نے کیوئسٹ کو ملازمت بھی فراہم کی ہے۔عالمگیر شیخ نے کہا کہ نیشنل بینک جس طرح بارہ سالوں سے رینکنگ اسنوکر چیمپئن شپ کو اسپانسر کررہا ہے قابل ستائش ہے اس کے لئے میں نیشنل بینک کا شکرگذار ہوں۔ارشد حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوویڈ 19 کے بعدپاکستان بھر سے آئے ہوئے کیوئیسٹ کو یہ موقع فراہم کیا۔

                                  ڈوین جانسن کے انسٹا گرام پر فالوورز کی تعداد20 کروڑ ہوگئی

مشہور ریسلر اور ہالی وڈ اداکار ڈوین جانسن دی راک کے انسٹا گرام پر فالوورز کی تعداد20 کروڑ سے زیادہ ہوگئی۔ڈوین جانسن نے انسٹاگرام پر مداحوں کا شکریہ ادا کرنے کے لئے وڈیو پیغام بھی جاری کیا جس میں انہوں نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران جو سیکھا اس سے متعلق بات کی۔انہوں نے وڈیو پیغام میں کہا کہ ہمیشہ سچ بولیں اور ہمیشہ عزت و ہمدردی کے ساتھ بولنے کی کوشش کریں۔ایکشن، فائٹ اور خطرناک اسٹنٹس سے بھرپور فلموں میں اداکاری کرنے والے ڈوین جانسن نے مزید کہا کہ وہ پوری کوشش کریں گے کہ ہمیشہ عزت، وقار اور ہمدردی کے ساتھ سچ بولیں۔اپنے پیغام کے آخر میں ڈوین جانسن نے مداحوں سے اپنی محبت کا بھی اظہار کیا۔

 پاکستان فٹبال فیڈریشن نے ملک میں خواتین فٹبال کی سرگرمیاں بحال کردیں 

پاکستان فٹبال فیڈریشن  نے ملک میں خواتین فٹبال کی سرگرمیاں بحال کرتے ہوئے قومی ویمن فٹبال ٹیم کی از سر نو تشکیل کیلئے 30 کھلاڑیوں کو کیمپ میں لاہور طلب کرلیا۔پاکستان میں ویمن فٹبال کی سرگرمیا ں جنوری 2020 سے معطل ہیں، خواتین فٹبالرز قومی ویمن فٹبال چمپئن شپ کے بعد سے ایکشن سے باہر ہیں جس کی ایک وجہ کووِڈ 19 ہے، تاہم اب پی ایف ایف نے خواتین فٹبالرز کو ایک بار پھر متحرک کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ذرائع کے مطابق پی ایف ایف نے قومی ویمن فٹبالرز کیلئے 26 اکتوبر سے یکم نومبر تک لاہور میں کیمپ لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کیمپ کیلئے 30 کھلاڑیوں کو مدعو کیا گیا ہے۔کیمپ کی نگرانی پی ایف ایف کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل ڈینیئل لمونیس کریں گے۔ ذرائع کے مطابق کیمپ کے بعد خواتین فٹبال لیگ کا بھی انعقاد ہوگا اور ان دونوں ایونٹس سے قومی ویمن ٹیم کی تشکیل نو کی جائیگی تاکہ مستقبل کے ایونٹس پلان ہو سکیں جن 30 کھلاڑیوں کو کیمپ میں طلب کیا گیا ہے ان میں تجربہ کار ہاجرہ خان بھی شامل ہیں۔دیگر پلیئرز میں ذوالفیا نذیر، کرن قریشی، سحر زمان، مشعل، عالیہ علاؤالدین، داہلیہ فاروق، فاطمہ بلوچ، نینا زہری، علیزہ، ایشل، خدیجہ کاظمی، نِشا، رامین، روبینہ، بی بی عزیز، غزالہ عامر، کافیہ کریم، سارہ خان، شاہدہ امین، عالیہ صادق، عاصمہ عثمان، دعا گیلانی، ماریہ جمیلہ، مہناز شاہ، رافعہ پروین، شمائلہ ستار، فاطمہ انصاری اور ابیحہ حیدر شامل ہیں۔

سیاہ رنگت کے باعث کم معاوضہ اور کم اہمیت دی گئی، سیرینا ولیمز

امریکی ٹینس اسٹار 39 سالہ سیرینا ولیمز کا کہنا ہے کہ انہوں نے بھی دیگر سیاہ فام افراد کی طرح نسلی تعصب کا سامنا کیا ہے اور انہیں بھی سیاہ رنگت کے باعث نہ صرف کم اہمیت دی گئی بلکہ انہیں معاوضہ بھی کم دیا گیا۔سیرینا ولیمز نے معروف فیشن میگزین ووگ کے برطانوی شمارے سے بات کرتے ہوئے پہلی بار اپنے ساتھ رنگت کی وجہ سے ہونے والے مسائل پر کھل کر بات کی۔سیرینا ولیمز ووگ کے آئندہ ماہ کے نومبر کے شمارے میں سروروق کی زینت بھی بنی ہیں اور انہوں نے اس موقع پر دنیا بھر اور خصوصی طور پر امریکا و یورپ میں سیاہ فام افراد کے ساتھ ہونے والے نسلی امتیاز پر کھل کر بات کی۔ووگ کو دیے گئے انٹرویو میں سیرینا ولیمز نے بتایا کہ انہیں بھی نسلی امتیاز کا سامنا رہا ہے اور انہیں ان کی رنگت کی وجہ سے جہاں کم معاوضہ دیا گیا وہیں انہیں کم اہمیت دی گئی۔سیرینا ولیمز نے یہ واضح نہیں کیا کہ انہیں کہاں کہاں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا تاہم ان کا اشارہ ٹینس کی فیلڈ کی جانب تھا۔سیرینا ولیمز کا شمار نہ صرف امریکا بلکہ دنیا بھر کی معروف ٹینس کھلاڑیوں میں ہوتا ہے، انہوں نے 23 گرینڈ سلم جیت رکھے ہیں جب کہ انہوں نے 2017 میں حاملہ ہونے کے باوجود آسٹریلین اوپن شپ جیتی تھی۔سیرینا ولیمز نے انٹرویو میں اعتراف کیا کہ ٹیکنالوجی سیاہ فام افراد سمیت نسلی تعصب کا شکار دیگر افراد کے لیے مددگار ثابت ہوئی ہے۔ٹینس اسٹار کے مطابق اب جہاں بھی کسی کو اس کی سیاہ رنگت کی وجہ سے تعصب کا نشانہ بنایا جاتا ہے، وہ مذکورہ مسئلے پر ٹوئٹ کرنے سمیت ویڈیو شیئر کرتا ہے اور لوگ اس کی آواز بنتے ہیں۔سیرینا ولیمز نے بتایا کہ نسلی تعصب کا شکار ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی اپنی رنگت نکھارنے یا سفید کرنے سے متعلق نہیں سوچا بلکہ انہیں اپنی تیز اور سیاہ فام رنگت پر فخر ہے۔سیرینا ولیمز نے یہ اعتراف بھی کیا کہ اب سیاہ یا تیز رنگت والی خواتین کی بھی میڈیا میں تشہیر ہونے لگی ہے اور انہیں فخر ہے کہ وہ ایسی رنگت رکھتی ہیں جو دنیا میں تبدیلی کا سبب بن رہی ہے۔اگرچہ پہلی بار سیرینا ولیمز نے اپنی سیاہ رنگت ہونے کی وجہ سے خود کو پیش آنے والے مسائل کا ذکر کیا ہے تاہم وہ نسلی تعصب، جنسی ہراسانی اور صنفی تفریق پر پہلے بھی بات کرتی رہی ہیں۔سیرینا ولیمز کو نہ صرف سیاہ فام افراد بلکہ خواتین کے خلاف ہونے والے مسائل پر آواز اٹھانے والی خاتون کے طور پر بھی جانا جاتا ہے اور انہوں نے ہمیشہ استحصال اور تشدد کے شکار طبقے کے لیے آواز اٹھائی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -