جو قانون توڑے گا جیل جائیگا

جو قانون توڑے گا جیل جائیگا
 جو قانون توڑے گا جیل جائیگا

  

اسلام علیکم پارے پارے دوستوں سنائیں کیسے ہیں؟ امید ہے کہ اچھے ہی ہونگے۔ جی دوستوں تازہ تازہ بیان جناب کپتان کا، جو بڑی بڑی شہہ سرخیوں میں اخبارات کی زینت بنا،جناب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف فوج کو پنجاب پولیس بنانا  چاہتے تھے۔جناب خان کا تو یہ بھی کہنا تھا کہ اپوزیشن جتنے مرضی جلسے کر لے لیکن جس نے قانون توڑا جیل جائے گا، جی کہا کہنا جناب خان کا، جی ہاں بات تو ٹھیک ہی ہے کہ جو بھی قانون توڑے اس کو جیل میں ضرور ڈالنا چاہئے، لیکن یہاں تو جو ملزم ہیں وہ سب کے سب سیاسی ہیں اور حکومت کے سیاسی  مخالفین ہیں اور دنیا یہ بھی جانتی ہے کہ حکومت محض اور محض انتقامی کاروائی کو فروغ دے رہی ہے۔ویسے یہ تو روایت رہی ہے کہ حکومت اپوزیشن کو دباتی آئی ہے، جو بھی حکومت میں آتا ہے اپنی دلی خواہشات ضرور پوری کرتا ہے۔ ویسے بہت سے دوست کہتے ہیں کہ آج قانون توڑنے والوں کو جیل میں ڈالنے کی بات کی جا رہی ہے لیکن شاید جناب کپتان اپنا وقت بھول گئے جنھوں نے منتخب حکومت کے خلاف دھرنے دئیے،اہم تنصیبات کی توڑ پھوڑ کی، حکومت مخالف تقریریں کی، پی ٹی وی کے دفتر پر چڑھائی کر دی۔ جی شاید حکومتی اراکین وہ وقت بھول گئے ہیں، جب انھوں نے بھی خوب اپوزیشن نبھائی تھی، قانون توڑے، عوام کو بغاوت پر اکساتے تھے۔جناب خان جب اپوزیشن میں تھے تو سرعام جلسے جلوسوں میں بجلی و گیس کے بل پھاڑ دیتے تھے،عوام کو حکومت کے خلاف بھڑکاتے تھے تو یاد کریں کیا وہ انداز باغیانہ نہیں تھا؟ یاد کریں کہ جب آپ نے قانون شکنی کی تو کیا آپ کو کسی نے جیل میں ڈالا؟ جبکہ میاں نواز شریف منتخب ویراعظم تھے انکے پاس بھی حق تھا کاروائی کرنے کا، قانون توڑنے والوں کو جیل میں ڈلنے کا۔

جی ہاں لیکن جناب نواز شریف نے تو نہ قانون توڑنے والوں کو جیل میں ڈالا نہ ہی کسی قانون توڑنے والے کو جیل میں ڈالنے کی بات کی۔لیکن آج جب جناب خان حکومت میں ہیں تو مخالفین کو ڈرا دھمکا رہے ہیں، ن لیگی کی اہم سیاسی قیادت کو جیل میں ڈالا جا رہاہے، جناب شہباز شریف گرفتار ہیں اور میاں نواز شریف کو گرفتا ر کرنے کے لئے خوب شور مچایا جا رہا ہے۔اب اپوزیشن حکومت کے خلاف احتجاج کرنے کا اعلان کر رہی ہے تو حکومت احتجاج کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ہمارے بزرگ سیاستدان جناب جاوید ہاشمی نے کہا تھا کہ اختلاف رائے تو جمہوریت کا حسن ہے، جی ہاں بات تو ٹھیک ہے کہ جمہوریت میں اختلاف رائے کی آزادی حاصل ہے، احتجاج کا حق بھی سب کو ہے،  فیض احمد فیض کے مطابق بول کے لب آزاد ہیں تیرے۔جی ہاں جمہوریت میں یقینا آزادی حاصل ہونی چاہئیے جیسے کہ ہمارے  مذہب اسلام نے ہمیں دی۔ جی دوستوں ہمارے بہت سے دوست برملا کہتے نظر آ رہے ہیں کہ حکومت بڑے پن کا مظاہرہ کرے اور اپوزیشن کو احتجاج کا حق دے کیونکہ اپوزیشن کے احتجاج سے حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑ سکتا، البتہ اگر اپوزیشن کو دبانے کی کوشش کی گئی تو پھر یقینا حکومت کے لئے مشکلات کھڑی ہو سکتی ہیں۔ اور ہمارے تو بہت سے دوست یہ بھی کہہ رہے ہیں حکومت اور اپوزیشن اپنے اپنے ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کے صرف اور صرف ملکی مفاد اور ترقی کے لئے سوچیں تو یقینا ہم سب دنیا بھر میں مثال بن جائیں گے۔ بہر حال دوستوں اب دیکھتے ہیں کہ میدان سیاست میں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے یہ بات بھی وقت ہی بتا سکتا ہے تو بہر حال اجازت چاہتے ہیں آپ سے، تو ملتے ہیں جلد دوستوں ایک ننی منی سی چھوٹی سی بریک کے بعد تو چلتے چلتے اللہ نگھبان رب راکھا

مزید :

رائے -کالم -