نادرا، مستحق سائلین کی قانونی امداد کیلئے مختص رقم 6برس میں بھی خرچ نہ کی جاسکی 

نادرا، مستحق سائلین کی قانونی امداد کیلئے مختص رقم 6برس میں بھی خرچ نہ کی ...

  

 لاہور(نامہ نگارخصوصی)پنجاب حکومت کی جانب سے نادار اور مستحق سائلین کی قانونی امدادکیلئے مختص کی گئی رقم ایک کروڑ 60 لاکھ روپے 6 برس میں بھی خرچ نہ کی جا سکی،ذرائع کے مطابق مستحق سائلین کے کیسز میں پیش ہونے والے وکلاء کو84 لاکھ 88 ہزار 966 روپے ادائیگیاں کی گئیں، تاحال 75 لاکھ 11 ہزار 34 روپے کے فنڈز موجود ہیں،محکمہ پراسیکیو شن کے ذرائع کے مطابق صوبے بھر میں 801 مستحق سائلین کو ان کے مقدمات میں سرکاری خرچ پر وکیل فراہم کیا گیا، لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کی ہدایت پر ڈسٹرکٹ لیگل ایمپاورمنٹ کمیٹیز تمام اضلاع میں 2011ء میں قائم کی گئیں، ایمپاورمنٹ کمیٹی مستحق اور نادار سائلین کو پرائیویٹ وکیل فراہم کرنے کی منظوری دیتی ہے،مستحق سائلین خود مفت وکیل کیلئے سیشن جج کو درخواست دے سکتے ہیں، ضلعی عدالتیں بھی مستحق سائلین کی قانونی مدد کیلئے وکیل فراہم کرنے کی ہدایت کر سکتی ہیں،ڈسٹرکٹ لیگل ایمپاورمنٹ کمیٹیز کے پینل پر موجود وکلاء میں سے کسی ایک وکیل کو مستحق سائل کا کیس لڑنے کیلئے ذمہ داری سونپی جاتی ہے،وکیل کو فی کیس 20 ہزار روپے اور فائل کی تیاری کے اخراجات ادا کئے جاتے ہیں، یہ اخراجات پراسکیوٹر جنرل آفس کی منظوری کے بعد وکیل کو ادا کئے جاتے ہیں،  2013 ء میں پنجاب حکومت نے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے کا فنڈ مستحق سائلین کو قانونی معاونت کے لئے فراہم کیا،2013 ء سے 2019 ء تک صوبے بھر میں پنجاب حکومت کے مختص کردہ فنڈز میں سے صرف 84 لاکھ 88 ہزار 966 روپے مفت قانونی معاونت کیلئے استعمال کئے جا سکے، 2013 ء میں مختص کردہ رقم دو گرانٹوں میں تمام اضلاع کو فراہم کی گئی، 2013 ء میں 2 لاکھ روپے فی ضلع کے حساب سے کل 72 لاکھ روپے کے فنڈز فراہم کئے گئے، دوسری گرانٹ 2017 ء میں 88 لاکھ روپے جاری کئے گئے، 30 جون 2018 ء سے 20 مئی 2019ء تک ایک برس کے دوران مستحق سائلین کے 371 کیسوں پر فیصلے جبکہ 430 کیسز عدالتوں میں زیر التواء ہیں۔

امدادی رقم

مزید :

صفحہ آخر -