صوابی،پی ٹی آئی کے شاہ  زیب خان کے قتل کیس میں سہولت کار کو قید وجرمانے کی سزا

صوابی،پی ٹی آئی کے شاہ  زیب خان کے قتل کیس میں سہولت کار کو قید وجرمانے کی سزا

  

صوابی(بیورورپورٹ) ماڈل کورٹ صوابی نے عام انتخابات کے موقع پر فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے پی ٹی آئی کے رکن شاہ زیب خان کے قتل کے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سہولت کار جان محمد عرف خان کو مجموعی طور پر چودہ سال قید اور دو لاکھ نویں ہزار روپے جر مانہ کی سزا کا حکم سنا دیا۔ تفصیلات کے مطابق پچیس جولائی 2018کو پولنگ کے وقت انتخابی رنجش پر شاہ زیب خان فائرنگ سے جاں بحق جب کہ ان کا والد مختیار جان کاکا کے علاوہ شہزاد اور سلیم سمیت تین افراد زخمی ہوئے تھے۔ جس کی دعویداری اس وقت کے اے این پی کے ضلعی صدر و ضلع ناظم و سابق ایم پی اے حاجی امیر الرحمن پر کی گئی تھی۔ حاجی امیر الرحمن نے ضمانت قبل از گرفتاری کے لئے مقامی عدالت سے حاصل کی اس دوران وہ بیرون ملک چلے گئے جب کہ ماڈل کورٹ نے گرفتار سہولت کار جان محمد عرف خان پر اس کیس کا مقدمہ چلایا جرم ثابت ہونے پر ماڈل کور ٹ صوابی کے جج محمد زیب خان نے قتل کے مقدمے میں جان محمد عرف خان کو دس سال قید اور دو لاکھ روپے جر مانے کی سزا کا حکم سنایا جب کہ اقدام قتل کے مقدمے میں مجموعی طور پر چار سال قید اور نو یں ہزار روپے جرمانے کی سزاکا حکم سنایا۔ عدالت پہلے ہی حاجی امیر الرحمن کو عدم پیشی پر اشتہاری قرار دے چکی ہے۔ اس الیکشن میں حاجی امیر الرحمن اے این پی کی طرف سے جب کہ موجودہ صوبائی وزیر تعلیم شہرام خان ترکئی پی ٹی آئی کی طرف سے مد مقابل امیدوار تھے۔مقتول شاہ زیب کے والد مختیار جان کاکا نے میڈیا کو بتایا کہ عدالت نے جس طرح انصاف پر فیصلہ کیا اسی طرح مستقبل میں بھی انصاف پر مبنی فیصلہ کرینگے ہم انصاف کے حصول کے لئے عدالت سے لے کر وزیر اعظم تک جائیں گے۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -