شیر گڑھ،جرگہ کی کاوشوں سے دیرینہ تنازعہ خوش اسلوبی سے حل 

  شیر گڑھ،جرگہ کی کاوشوں سے دیرینہ تنازعہ خوش اسلوبی سے حل 

  

شیرگڑھ(نامہ نگار) جرگہ کی کوششوں سے دو فریقوں کے درمیان کئی عرصہ سے جاری دیرینہ تنازعہ خوش اسلوبی سے حل دونوں فریقین جرگہ کے سامنے بغل گیر ہوکر ایک دوسرے کو معاف کیا اور آئندہ بھائیوں جیسا رہنے کا عزم کیا تفصیلات کے مطابق شیرگڑھ کے نواحی علاقہ جمعہ خان کلے (قلعہ ظریفے) کے فریق اول ممتاز سیاسی و سماجی شخصیت حاجی ہدایت اللہ،تاجدار محمد،نواب علی اور فریق دوم فقیر تاج،بلال وغیرہ کے درمیان ایک سال سے ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آنے کے بعد تنازعہ چلا آرہا تھا جس سے علاقے کے امن و امان  خراب ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا حالات کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے جرگہ ممبران شوکت خان،محمد یونس خان،اجمل خان،حاجی ریاض اور ملوک وغیرہ نے صلح کے لئے کوششیں شروع کی جو بار اور ثابت ہوئی  اور دونوں فریقین صلح کے لئے راضی ہوئے اسی سلسلے میں گذشتہ روز جمعہ خان کلے(قلعہ ظریفے) میں صلح کی ایک پر وقار تقریب منعقد ہوئی تقریب کی صدارت ممتاز سیاسی و سماجی شخصیت حاجی محمد نذیر خان مہمند نے کی صلح کی تقریب میں علاقے کے عمائد ین،تخت بھائی بار کے وکلاء،صحافیوں اور علماء کرام نے کثیر تعداد میں شرکت کی اس موقع پر تخت بھائی بار کے سابق صدر ممتاز قانون دان قمر زمان ایڈوکیٹ،ممتاز عالم دین مولا محمد عاصم،سابق ناظمین اقبال خان،امبالی خانمسارڈو کے چیرمین حاجی عبد النبی،مسلم لیگی رہنماء حاجی عبد السلام اور ایم پی اے جمشید مہمند کے والد حاجی تاج محمد بھی موجود تھے تقریب سے سابق ایم این اے مولانا محمد قاسم،سابق صوبائی وزیر فضل ربانی ایڈوکیٹ،مولانا شاکر اللہ اور مولانا غلام مصطفی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بہترین انسان وہ ہے جو دو مسلمان بھائیوں کے درمیان صلح کرلیں انہوں نے کہا کہ جرگہ ممبران کے ساتھ اللہ تعالیٰ شامل ہوتا ہے اور جو درگزر کرے اور معافی کرے اللہ تعالی ان کو اجر دیتا ہے جرگہ ممبران معاشرے میں جوڑ پیدا کرتا ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا بہت اجر ہے انہوں نے کہا کہ والدین اپنے بچوں کی تربیت اسلامی اصولوں کے مطابق کرے تاکہ معاشرے کے لئے زخمت بنے کی بجائے رحمت بنے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -