مہنگائی کی وجوہات کا تعین کر رہے ہیں، کل حکمت عملی کے تحت ایکشن لے کر قیمتیں کم کر ینگے، علماء کے قتل میں بھارت کا ہاتھ، مقصد فرقہ واریت پھیلانا: وزیراعظم 

مہنگائی کی وجوہات کا تعین کر رہے ہیں، کل حکمت عملی کے تحت ایکشن لے کر قیمتیں ...

  

اسلام آباد(،سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) وزیر اعظم عمران خان نے وفاق المدارس کے سابق سربراہ مولانا سلیم اللہ خا ن مرحوم کے صاحبزادے اور مہتمم جامعہ فاروقیہ مولانا ڈاکٹر عادل خان اور ان کے ڈرائیو کی ٹارگٹ کلنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کر تے ہوئے کہا ہے بھا رت پاکستا ن میں علماء کو قتل کرا کر شیعہ سنی فرقہ وارانہ تنازع پیدا کرانا چاہتا ہے۔ یہ میری حکو مت جانتی ہے اور میں متعدد با ر ٹی وی پر کہہ چکا ہوں، گز شتہ 3 ماہ کے دوران بھارت نے سنی اور شیعہ علماء کو قتل کرنے کی متعدد کوششیں کیں تاکہ پاکستا ن میں فرقہ وارانہ فسادات شروع ہو جا ئیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں وزیراعظم نے کہا ہم نے گزشتہ چند ماہ کے دوران ایسی متعدد کوششوں کو ناکام بنایا، ہما رے انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے اس واقعے کے ذمہ داروں کو بھی کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ وزیراعظم نے اپیل کی کہ تمام مکاتب فکر کے علماء کو چاہیے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ لوگ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی اس بھارتی سازش کا شکار نہ ہو ں۔قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے اشیائے خورونوش سستی کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، قیمتوں میں اضافے کی وجوہات کا تعین کر رہے ہیں، آ ئند ہ ہفتے حکمت عملی کے تحت ایکشن لیتے ہوئے قیمتوں کو کم کریں گے۔گزشتہ روز انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تعین کرنا ہے قیمتوں میں اضافے کی وجہ سمگلنگ، ذخیرہ اندونی یا رسد کی کمی ہے، بین الاقوامی سطح پر قیمتوں میں اضافے کے پاکستان پر اثرات کا بھی جائزہ لے ر ہے ہیں۔دریں اثنا ء وزیراعظم عمران خان نے سٹیزن پورٹل پر موٹروے ریسٹ ایریاز میں اشیاء کی زائد قیمتوں پر شہریوں کی شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے ناجائز منافع خوروں کیخلا ف سخت کارروائی کی ہدایت کر دی۔وزیر اعظم ڈلیوری یونٹ نے وزارت مواصلات، این ایچ اے اور آئی جی موٹر وے کو مراسلہ جاری کر دیا۔ وزیراعظم آفس نے کہا موٹر و ے ر یسٹ ایریاز پر قیمتوں کی مانیٹرنگ کیلئے خصوصی ٹیم مختص کی جا ئیں، ٹیمیں موٹر وے ریسٹ ایریاز پر دن اور رات باقاعدگی سے چھاپے ماریں، ٹیمیں ضلعی انتظامیہ سے ضرور ت پڑنے پر مدد کسی بھی وقت لے سکتی ہیں۔ موٹروے ریسٹ ایریا ز پر زائد قیمتوں کیخلاف فوری اور سخت ایکش لیا جائے، موٹر وے ریسٹ ایریاز پر مسافروں اور سیاحوں کی آگاہی کیلئے بینرز آویزاں کیے جائیں، سیٹیزن پورٹل پر شکایات کی آگا ہی سے متعلق بھی ریسٹ ایریاز میں اقدامات کیے جائیں۔ متعلقہ حکام کو 21 روز میں ابتدائی رپورٹ جمع کروا نے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا ہے اقدامات کی تکمیل سے پہلے ا و ر بعد کی تقابلی رپورٹ بھی پیش کی جائے۔دوسری طرف  وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کامیاب جوان پروگرام سے متعلق جائزہ اجلاس میں  قرضوں کی بلا تعطل فراہمی اور سکیم کو کامیاب بنانے کے حوالے سے ڈپٹی گورنرسٹیٹ بینک کی زیر صدارت اعلی سطح کی سٹیرنگ کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا،جائزہ اجلاس میں معاون خصوصی عثمان ڈار، مشیر خزانہ حفیظ شیخ، گورنر اسٹیٹ بینک، مشیر تجارت عبدالرزاق داود، ملک بھر کے بینکوں کے صدور اور سربراہان نے شرکت کی۔ عثمان ڈار نے کامیاب جوان پروگرام کے تحت قرضوں کی فرا ہمی پر بریفنگ دی۔  اجلاس فیصلہ کیا گیاکہ کامیاب جوان یوتھ انٹرپرینیورشپ سکیم پر پیش رفت کی رپورٹ وزیرِ اعظم کو باقاعدگی سے پیش کی جائیگی،اجلاس میں کامیاب جوان یوتھ انٹرپرینیورشپ سکیم کے تحت نوجوانوں کو آسان قرضوں کی فراہمی کے حوالے سے تفصیلی جائزہ لیا گیا۔عثمان ڈار نے کہا کامیاب جوان پروگرام کے تحت اب تک چار لاکھ ستر ہزار درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جن کی بروقت جانچ پڑتال کرکے انتہائی میرٹ پر قرضوں کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔ ملک بھر کے اکیس بنک اس سکیم میں بھرپور طریقے سے حصہ لے رہے ہیں اور بنکوں کی جانب سے اس سال پندرہ ارب روپے قرضوں کی مد میں فراہم کیے جانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ اجلاس میں بنکوں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی کے عمل کو آسان بنانے، میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنانے اور اس سکیم کی ذرائع ابلاغ کے ذریعے تشہیر کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم عمران خان نے پر وگرام کی شفافیت اور طریقہ کار پر اظہار اطمینان کیا اور بینکوں کے سربراہان کی پروگرام میں بھرپور شمولیت اور دلچسپی کو سراہا، وزیراعظم نے معاشی ٹیم کو قرضوں کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ نوجوان ہمارے ملک کا بیش قیمت اثاثہ ہیں، اس اثاثے کی صلاحیتیوں کو استعمال میں لانے کیلئے بینکوں کا تعاون نہایت اہم ہے، نوجوا ن ملکی معیشت کے فروغ میں بہترین کردار ادا کر سکتے ہیں، تعمیراتی شعبے، صنعتوں کا فروغ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں معاونت حکومت کی ترجیح ہے، حکومت کو اس ضمن میں بینکوں کا بھرپور تعاون درکار ہے، نوجوانوں کو کاروبار کے مواقع فراہم کرنے کے حوالے سے بینکوں کا تعاون قابل تحسین ہے، قرض کی فراہمی کیلئے بینکوں کو سبسڈی کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے، بینکوں کو پیش آنیوالی ہر مشکل کا ترجیحی بنیادوں پر حل یقینی بنایا جائے گا۔

عمران خان 

مزید :

صفحہ اول -