مہتم جامعہ فاروقیہ مولانا ڈاکٹر عادل خان اور ان کا ڈرائیور قاتلانہ حملے میں شہید، وزیراعلٰی سندھ کی قاتلوں کو فوری گرفتارکرنے کی ہدایت

  مہتم جامعہ فاروقیہ مولانا ڈاکٹر عادل خان اور ان کا ڈرائیور قاتلانہ حملے ...

  

 کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)وفاق المدارس کے سابق سربراہ مولانا سلیم اللہ خان مرحوم کے صاحبزادے اور مہتمم جامعہ فاروقیہ مولانا ڈاکٹر عادل خان اور ان کے ڈرائیور قاتلانہ حملے میں شہید    ہوگئے۔پولیس کے مطابق مولانا ڈاکٹر عادل خان ویگو گاڑی میں شاہ فیصل کالونی نمبر 2 میں موجود تھے کہ ان کی گاڑی پر مبینہ طور پر موٹر سائیکل سوار ملزمان نے فائرنگ کی۔پولیس ذرائع کے مطابق حملے کے بعد انہیں فوری طور پرہسپتال روانہ کیا گیا۔لیاقت نیشنل ہسپتال ذرائع کے مطابق مولانا عادل خان ہسپتال لائے جانے کے دوران انتقال کر چکے تھے۔ ہسپتال ترجمان کے مطابق مولانا عادل خان کو دو گولیاں لگیں۔جناح ہسپتال کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق مقصود نامی شخص کی میت جناح ہسپتال کی ایمرجنسی پہنچائی گئی ہے۔خیال رہے کہ ڈاکٹر عادل خان جامعہ فاروقیہ کے مہتمم تھے اور مولانا سلیم اللہ خان کے صاحبزادے تھے۔پولیس حکام کے مطابق مولانا ڈاکٹر عادل کی گاڑی شاہ فیصل میں مٹھائی کی دکان پر رکی تھی، جیسے ہی گاڑی رکی موٹرسائیکل پر سوار ملزمان نے فائرنگ کی۔حکام نے بتایا کہ جس گاڑی پرفائرنگ ہوئی، اس میں تین لوگ موجود تھے، جن میں مولانا عادل، مقصود اور عمیر شامل تھے۔پولیس کا کہنا ہے کہ عمیر شمع شاپنگ سینٹر پر مٹھائی کی دکان پر مٹھائی لینے گیا، جب گاڑی پر فائرنگ کی گئی تو گاڑی رکی ہوئی تھی اور موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے ٹارگٹ کرکے فائرنگ کی۔پولیس حکام کے مطابق ایسا لگتاہے کہ دہشت گرد ان کا پیچھا کررہے تھے،  جبکہ موقع سے نائن ایم ایم کے 5 خول ملے ہیں۔وفاق المدارس نے مولانا ڈاکٹر عادل خان کی شہادت کو ملکی امن پر حملہ قرار دیاہے۔اپنے بیان میں وفاق المدارس کا کہنا ہے کہ مولانا ڈاکٹرعادل خان پر حملہ قومی سلامتی اور ملکی امن پر حملہ ہے، مولانا ڈاکٹر عادل خان کی شہادت عالم اسلام کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے جامعہ فاروقیہ کے مہتمم ڈاکٹر عادل خان پر قاتلانہ حملے کا نوٹس لے لیا۔وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ مولانا عادل کے قاتلوں کو فوری طورپرگرفتار کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ شدت پسند شہر کا امن خراب کرنا چاہتے ہیں۔

ڈاکٹر عادل خان  

مزید :

صفحہ اول -