ڈاکٹر عبدالقدیر خان زندہ باد

ڈاکٹر عبدالقدیر خان زندہ باد

  

پاکستان اپنے مایہ ناز ایٹمی سائنس دان سے محروم ہو گیا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی رخصت ہو گئے،اُس دنیا میں جا بسے جہاں ہر ذی روح کو جانا ہے،لیکن واپس نہیں آنا۔ ڈاکٹر صاحب گذشتہ دِنوں کورونا کا شکار ہوئے تھے، ویکسین کی دو خوراکیں لگوا چکے تھے،پھر بھی موذی وائرس حملہ آور ہوا۔ کئی دن ہسپتال میں رہے،انہوں نے بستر علالت سے قوم کے نام ایک اپیل بھی جاری کر دی تھی، جس میں کہا گیا تھا:”ہم سب کو اللہ رب العزت نے پیدا کیا ہے،اور ہم سب کو ایک دن موت کا مزہ چکھنا ہے۔ خالق حقیقی کے سامنے اپنے اعمال کی جواب دہی کرنا ہے۔مَیں چند دِنوں سے سخت بیمار ہوں،علاج جاری ہے۔گناہ گار ہوں۔ دُعائے مغفرت کرتا رہتا ہوں، آپ سب سے میری درخواست ہے کہ میری صحت یابی کی دُعا کریں۔میری وفات کے بعد پورے پاکستان کے ہر شہر، ہر گاؤں، ہر گلی کوچے میں آپ نے میرے لیے نمازِ جنازہ پڑھنا ہے، اور دُعائے مغفرت کرنا ہے۔ڈاکٹر صاحب نے اپنے اسی پیغام میں کہا تھا:”مَیں نے دِل و جان اور خون پسینے سے ملک و قوم کی خدمت کی ہے۔ جو کہا گیا اس پر عمل کیا۔کوئی غلط کام نہیں کیا، اور نہ ہی میرے محب وطن ساتھیوں نے کوئی غلط کام کیا۔میرا اللہ میرا گواہ ہے۔مَیں جہاں چاہتا چلا جاتا، کھرب پتی ہو جاتا۔ مجھے پاکستان عزیز تھا۔آپ عزیز تھے۔آپ کی حفاظت و سلامتی میرا فرض تھا۔مَیں دسمبر1971ء کو کبھی نہ بھلا سکا“۔

ڈاکٹر صاحب ہسپتال میں کئی روز زیر علاج ہونے کے بعد صحت یاب ہو گئے۔انہیں گھر منتقل کر دیا گیا،جہاں ان کی خدمت کے لئے ہسپتال انتظامیہ نے تربیت یافتہ خدمت گذار بھی مقرر کر دیئے۔ ہر آنے والا دن ان کی صحت میں بہتری کی خبر لا رہا تھا، ان کے کروڑوں مداحین اپنے رب کے حضور سربسجود تھے کہ ان کی دُعائیں قبول ہوں گی۔ڈاکٹر صاحب بہت جلد اپنے رفاحی اداروں کی نگرانی کرنے لگیں گے،ان کے معمولات بحال ہوتے نظر آ رہے تھے،لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ان کی طبیعت بگڑی،انہیں ہسپتال لے جایا گیا،لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔

ڈاکٹر صاحب نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو پایہئ تکمیل تک پہنچایا،ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے دور میں پاکستان واپس آئے  اور وہ سب کچھ اس کی نذر کر دیا،جو اعلیٰ تعلیمی اداروں، اور تجربہ گاہوں سے حاصل کیا تھا۔ سقوطِ ڈھاکہ کے سانحے کے بعد انہوں نے پاکستان کو ناقابل ِ تسخیر بنانے کا جو عزم کیا تھا،اُسے پورا کر کے دکھایا۔ پاکستان اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بن گیا، اگر یہ صلاحیت 1971ء سے پہلے حاصل کر لی جاتی تو بھارت کو کبھی پاکستان پر حملہ کرنے کی جرأت نہ ہوتی۔

ڈاکٹر صاحب کو اعلیٰ ترین قومی اعزازات سے نوازا گیا، پوری قوم،بلکہ ملت  ِ اسلامیہ ان کی راہ میں آنکھیں بچھاتی رہی۔جنرل پرویز مشرف کے دور میں ان کے ساتھ جو کچھ ہوا،اور انہوں نے جس طرح ساری خطائیں اپنے نام کر لیں،اس سب کو ڈراؤنا خواب سمجھ کر بھلا دینا ہی بہتر ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو  اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا تھا،اگر ملک کی معاشی ترقی کے لیے انہیں استعمال کیا جا سکتا تو وہ کارِ نمازیاں کر کے دکھا سکتے تھے۔پاکستان کی سائنسی بنیاد کو مضبوط بنا سکتے تھے لیکن ایسا ممکن نہ ہوا، اربابِ ختیار کی کوتاہ نظری نے اس طرف توجہ ہی نہیں دی۔

ڈاکٹر صاحب کی نمازِ جنازہ فیصل مسجد اسلام آباد میں ادا کی گئی، اُنہیں پورے قومی اعزاز کے ساتھ سپردِخاک کر دیا گیا۔پاکستانی پرچم سر نگوں ہوا،اور قومی سوگ کا بھی اعلان کیا گیا۔ پوری قوم نے یک آواز ہو کر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا، اور الوداع کہا۔ڈاکٹر صاحب کی خواہش کے مطابق شہر شہر،اور بستی بستی ان کے لیے دُعائے مغفرت کا اہتمام شروع ہے،ہر شخص ان کے لیے محو ِ دُعا ہے۔انہوں نے پاکستان کو وہ کچھ  دیا جو کوئی دوسرا نہ دے سکتا ہے، نہ دے سکے گا۔ وہ بیمار ہو کر ہسپتال پہنچے، تو اربابِ اقتدار میں سے کسی کو ان کی مزاج پرسی کی توفیق نہیں ہوئی تھی، یہ بے حسی ان کے دِل کا داغ تھی،لیکن اس سے اُن کی عظمت کم نہیں ہوئی، اربابِ اقتدار ہی کی سبکی ہوئی۔اس سے قطع نظر وہ پوری قوم کے ہیرو ہیں، ہیرو تھے۔ اور ہیرو رہیں گے۔اُنہیں ہر ہر پاکستانی کا سلام پہنچے،وہ ہم سب کے تھے، اور ہم سب ان کے لیے دُعا  گو رہیں گے۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان زندہ باد۔

مزید :

رائے -اداریہ -