"کون بنے گا ڈاکٹر عبدالقدیر خان"

"کون بنے گا ڈاکٹر عبدالقدیر خان"
سورس: File

  

اگر تاریخ کا قلم میرے ہاتھوں کا محتاج ہوتا تو میں یہ الفاظ انتہائی افسردگی کے ساتھ سنہرے حروف میں لکھتی کہ بحثیت قوم ہم تباہی کے دہانے پر آ کھڑے ہیں۔  ہمارے ملک کا فخر  ، ہمارا ہیرو جس کے یہ الفاظ قیامت کی صبح تک ہمارے کانوں میں گونجتے رہنے چاہئیں تاکہ احساس شرمندگی ، ندامت اور ملال ہمارے وجود کے ذرے ذرے میں رہے   کہ

" کاش میں نے اس قوم کے لیے کام نہ کیا ہوتا "

یہ وہ آئنہ ہے جو ڈاکٹر صاحب نے ایک انٹرویو میں اس قوم کو دکھایا۔

 ہم چکا پائے ہی نہیں تیرا احسان

زندہ ہے زندہ رہے گا محسن پاکستان

پاکستان کے معروف سائنسدان جن کو کل شام سے   ٹی وی اور اخبارات کی سرخیوں میں ہیرو لکھا جارہا ہے ۔ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والے، ایک بڑے آدمی اور ایک قابلِ فخر مسلمان ڈاکٹر عبدالقدیر خان انتقال فرما گئے ہیں ۔ اللہ تعالی مرحوم کی مغفرت فرما کر اُنہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے، آمین۔

 پاکستان نے یقیناً بہت ہیروز پیدا کیے کسی نے اپنی جان اس ملک کے لیے نچھاور کی، کسی نے اپنے زندگی خدمت خلق میں گزار دی، کوئی دہشت گردی اور دشمنوں سے لڑتے لڑتے شہید ہو گیا تو کسی نے اپنی زندگی اسلام کی خدمت اور تبلیغ میں گزار دی لیکن ڈاکٹر صاحب ان قومی ہیروز میں نمایاں رہے کیوں کہ اُنہوں نے اسلام کے نام پر بننے والے ملک پاکستان کو اسلامی بم دے کراس کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔ 

اس بات کا اعتراف تو ہر محب وطن پاکستانی کر رہا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر پاکستان کے ہیرو تھے، ہیرو ہیں اور ہیرو رہیں گے۔ لیکن ہمیں یہاں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کا ہیرو بننے کے لیے بہت قربانیاں دینی پڑتی ہیں ۔ اس بات کا اندازہ ڈاکٹر صاحب کی زندگی کو دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے۔ ان کی زندگی ایک عام انسان کی طرح ہوتی تو شاید پھر بھی بہتر ہوتا۔ اسی بات کو جون ایلیا نے نہایت خوبصورتی سے یوں  کہا تھا ؛

یہ جو میری لحد پر روتے ہیں نہ  

ابھی اٹھ جاؤں تو جینے نہ دیں 

ایک روایت جو ہمارے ہاں ہے   کاش کہ  نہ ہوتی ۔کاش ! پاکستان میں مرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کی بجائے زندہ لوگوں پر پھول نچھاور کرنے کا رواج ہوتا۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو یقیناً  ہمارے ملک کے بیشتر ہیروز اس طرح شکستہ دل ہو کر ہم سے نہ بچھڑتے۔ 

 بحثیت قوم  ہم نے ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے ۔ اگر آج کی بات کریں تو  ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی زندگی میں بھی ہم نے بہت اہم رول ادا کیا ہے ۔ ہم نے ان کو دنیا کے سامنے ہتھکڑیاں لگوا کر ذلت کا سامنا کروایا ہے ۔  ان پر کرپشن کے گھناؤنے الزامات لگوائے ہیں  اور وہ جن کی موت پر آج ہم  ماتم  کر رہے ہیں ایک وقت تھا کہ ہم نے ان پر زندگی کے حالات تنگ کر دیے تھے ان کی پینشن میں کمی کروا کر چار ہزار کر دی گئی ، ان کو نظر بند رکھا ۔ شاید یہی وہ دکھ تھے جس پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان رنجیدہ ہوتے تھے۔

ایک بار انہوں نے کہا کہ کاش "میں نے بھی کوئی کاروبار کیا ہوتا،  کسی یونیورسٹی کا پروفیسر لگ گیا ہوتا ، تعلیم کے شعبے میں چلا گیا ہوتا مگر اس قوم کے لیے یہ کام نہ کیا ہوتا " یہ الفاظ اس قوم کو اس کی حقیقت سے روشناس کروانے کے لیے کافی ہیں۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان صرف ایک سائنسدان ہی نہیں بلکہ ایک کالم نویس، معلم اور قوم کا درد رکھنے والے باعمل مسلمان تھے، ان کا انتقال نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ان کے انتقال پر جاری ہونے والے بیانات اور جملوں سے دو باتیں تو خوب واضح ہوتی ہیں۔  ایک یہ کہ ہمارے سیاستدان نہایت اچھے اداکار ہیں اور ایک یہ کہ جملوں کی روانی سے بھی خوب واقف ہیں۔ ورنہ آپ سوچیں جو شخص زندگی اور موت  کی کشمکشِ میں تھا اس کی عیادت تک کو یہ نام نہاد سیاستدان نہیں جا سکے اور مرنے کے فوراً بعد انہی سیاستدان  نے غم و دکھ کا  لبادہ اوڑھ لیا ہے ۔ اپنے ملک کہ ہیروز کا جو حال ہم لوگ کرتے ہیں اگر ایسا ہی چلتا رہا تو جلد یہاں ہیروز کی قلت ہو جائے گی  اور ہمیں ہیروز باہر سے ایکسپورٹ کروانے پڑیں گے۔  

 ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اکثر لوگ سائنسدان اور پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والے ہیرو کے طور پر جانتے ہیں لیکن وہ ایک بہترین سائنسدان ہی نہیں بلکہ ایک اچھے مسلمان اور اسلام پسند تھے۔  اُن کے کالم پڑھنے والوں کو یہ  معلوم ہے کہ وہ ایک سچے ، پکے مسلمان اور ایک اسلام پسند انسان تھے  جو پاکستان میں اسلام کے نفاذ کے خواہش مند تھے۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر  صاحب  کی مغفرت فرمائے۔ جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے ۔ ان کے اہل خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے ۔ آمین۔

نوٹ: یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

مزید :

بلاگ -