تجدیدِ عہدِ وفا کا دن

تجدیدِ عہدِ وفا کا دن
تجدیدِ عہدِ وفا کا دن

  

 انسانی زندگی میں کئی دن بے شمار یادوںکو سمیٹے ہوئے آتے ہیں۔11ستمبر ایسے ہی دنوں میں سے ایک ہے۔ اس روز بانی ¿ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ ہم سے جدا ہو گئے اور یہ ملک عظیم مفکر اور ایک قائد سے محروم ہو گیا۔ آج کے دن پوری قوم ان کی یادوں کے چراغ روشن کرتی ہے اور عقیدت کے پھول نچھاور کرتی ہے، جس نے ثابت کر دیا کہ جو ذرائع اور وسائل بڑے بڑے بادشاہوں اور جرنیلوں کے پاس میسر ہوتے ہیں، ان کے مقابلے میں انسانی کردار کی پختگی، عزم صمیم، راست گفتاری اور یقین محکم زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور ان صفات کے حامل بھی علیحدہ ملک حاصل کر سکتے ہیں جیسا کہ بابائے قوم نے کر دکھایا۔ قائد اعظمؒ نے جس انداز سے مسلمانوں کی قیادت کا چراغ روشن کیا تاریخ میں اس کی مثال ڈھونڈے سے نہیں ملتی، قائد اعظمؒ ملک میں اسلامی مساوات کا حامل اور سماجی انصاف پر مبنی معاشرہ قائم کرنا چاہتے تھے، مگر عمر نے وفا نہ کی۔

حقیقت کے چہرے سے نقاب اُٹھانے پر معلوم ہوتا ہے کہ قائد اعظمؒ کے آخری لمحات اور ان کی موت تاریخ کا بہت بڑا سانحہ ہے، جسے ہم قائد ملت لیاقت علی خان کے قتل، مادرِ ملت کی موت اور سقوط ڈھاکہ کی طرح بھول چکے ہیں، لیکن جنہوں نے بانی پاکستان کے آخری لمحات میں بیماری کی حالت میں بھی لاپرواہی بے اعتنائی کا برتاﺅ کیا۔ وہ اقتدار کی دوڑ میں سب سے آگے نکلتے رہے۔ اِدھر قائد اعظمؒ کی آنکھیں بند ہوئیں، ادھر ہم نے ان کے اور ان کے غیر معمولی احسان کو بھلا دیا اور اب اس کی سزا پوری قوم بھگت رہی ہے۔ پاکستان پوری قوم کی امانت ہے، جو قائد اعظمؒ نے ہمارے سپرد کی تھی، مگر ہم شرمندہ ہیں کہ ہم نے اپنے اقتدار کی خاطر پاکستان کے بھی دو ٹکڑے کر دیئے۔ پُرکشش نعروں کی دوڑ میں ماضی کے بعض حکمرانوں نے نہ صرف وطن عزیز کا بے دریغ لہو بہایا، بلکہ پوری قوم کا اقتصادی، معاشی، ثقافتی اور اخلاقی قتل عام کرکے قومی خزانے کو اپنی عیش و عشرت، لوٹ مار اور انعام و اکرام کی بھینٹ چڑھا دیا۔ سفارش، نا انصافی اور اقرباءپروری نے احساس محرومی کو انتہا تک پہنچا دیا۔ ملک کی اقتصادی حالت ناگفتہ بہ ہو گئی اور ملک غیروں کا مقروص ہو کر رہ گیا۔ پاکستان کو ہمارے سیاست دانوں اور حکمرانوں نے اتنا کمزور اور نحیف بنا دیا ہے کہ اس ملک کو بے دریغی سے لوٹ کر اس کا دیوالیہ نکال دیا ہے۔ تحریک پاکستان کے ایک فعال کارکن ہونے کی حیثیت سے اتنا عرض کروں گا کہ جن لوگوں کو وطن پاکستان سے صحیح محبت اور عقیدت تھی ،وہ قوم کی فلاح کے لئے سب کچھ کرنا چاہتے تھے، مگر یہاں اغراض پسندوں کی ایک دوڑ شروع ہو گئی۔ ہمیں آج بھی یہ ہر گز نہ بھولنا چاہئے کہ بھارت چانکیائی سیاست کے تحت اب بھی اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل میں اشوکا ایمپائر اور اکھنڈ بھارت کے خواب دیکھ ر ہا ہے۔

وطن عزیز میں مخلوط حکومت کی موجودہ دور حکمرانی میں امید رکھی جا سکتی ہے کہ ان حالات میں روشنی کی کرن نظر آ جائے، لیکن کہیں وہ روشنی ایسی نہ ہو جو سرنگ سے دوسرے سرے سے آنے والی ریل گاڑی کی لائنوں سے نمودار ہونے کی صورت میں دو گاڑیوں میں تصادم کا خطرہ پیدا کرتی ہے اور تصادم کے معنی اور نتائج آپ خوب سمجھتے ہیں۔ ہم ایٹمی قوت ہونے کے باوجود بھی کشکول اُٹھا کر دُنیا سے بھیک مانگ رہے ہیں، لیکن اس ملک سے لوٹ مار کی دولت کو ہمارے سیاست دانوں اور حکمرانوں نے اپنے ملک سے باہر ممالک میں محفوظ کر لیا ہوا ہے۔ باعزت خود اختیار قومیں اغیار کی بھیک، امداد، قرض اور ”دان“ پر گذارہ نہیں کر سکتیں، بلکہ وہ صرف اپنے زور بازو پرکرتی ہیں۔ چین کا ایک محاورہ ہے کہ ہم اپنے ہی پانی سے گزر بسر کر سکتے ہیں۔ دُور کے پانی سے ہم اپنی پیاس نہیں بجھا سکتے۔ خواہ ایف16کے ذریعے امریکہ ہی سے کیوں نہ لایا جائے۔

 غیور قومیں صرف اپنے زور بازو پر ترقی کرتی ہیں۔ پاکستان ایک اسلامی جمہوری اور فلاحی مملکت کے طور پر ہی زندہ رہ سکتا ہے، جس کا ہم نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ کیا تھا۔ مایوسی کفر ہے، اب بھی بھروسہ ہے کہ عوام میں صحیح روح بیداری کی تڑپ پیدا ہو گی اور وہ ہماری قیادت کو صالح اور نیک بنانے کا وسیلہ پیدا کرے گی۔ پاکستان کے بنیادی فلسفہ پر سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم ماضی، حال اور مستقبل کے قرض اتار کر ہی آگے بڑھ سکتے ہیں۔ آج قائداعظم ؒ کے مزار پر کھڑے ہو کر دُعا کرنے والوں کو حضرت قائداعظم ؒ کی روح بھی پکار کریہ کہہ رہی ہے کہ مجھ سے زیادہ دُعا کا مستحق پاکستان ہے جسے تم لوگوں نے دو لخت کر دیا،مگر اب تک تم ذاتی اغراض کے بندے اور غلام بنے ہوئے ہو۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ من الحیث القوم ہمیں اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر خلوص قلب سے اس عہد وفا کی تجدید کرنا چاہئے کہ ہم نہ صرف یہ کہ پاکستان پر آنچ نہ آنے دیں گے، بلکہ براعظم ایشیا میںمسلمانوں کے شاندار ماضی کے شایان شان پاکستان کی توقیر کے لئے جان لڑا دیں گے۔ زندہ لوگ منزل پا کر رُک نہیں جاتے۔

تاریخ اسے اس کی مسیحائی کااعجاز کہے گی جس کی بصیرت نے دو سو سال کی طویل جدوجہد کو سات سال میں ایک منزل سے آشنا کیا۔ دُنیا کا نقشہ زیرو بم ہوا، ایک عظیم سلطنت وجود میں آئی وہ جو عظیم تھا فولاد سے زیادہ مضبوط، ہمالیہ سے بلند ارادوں کا مالک اپنا مشن مکمل کر کے11ستمبر1948ءکو ہم سے جدا ہو گیا۔ وہ اب بھی مینار پاکستان کی بلندیوں پر کھڑا ہمیں دیکھ رہا ہے۔

جا لپٹ جا لہر سے دریا کی کچھ پروا نہ کر

مزید :

کالم -