تجھ سا کہاں سے لائیں۔۔۔ کل اور آج کے پاکستانی رہنماء

تجھ سا کہاں سے لائیں۔۔۔ کل اور آج کے پاکستانی رہنماء
تجھ سا کہاں سے لائیں۔۔۔ کل اور آج کے پاکستانی رہنماء

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) 14 اگست 1947ءکی صبح کراچی میں قیام پاکستان کی تقریب ہونے والی تھی۔ قائداعظم آخری وائسرائے لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کے ساتھ تقریب میں شرکت کیلئے اسمبلی ہال جانے کیلئے تیار تھے۔ اچانک لارڈ ماﺅنٹ بیٹن نے قائداعظم کو ایک لفافہ دیا اور کہا کہ اسے پڑھ لیجئے۔ قائداعظم نے اسے کھولا اور سرسری پڑھا، پھر اسے تہہ کر کے لفافہ جیب میں رکھا گیا اور کہا: ” اب چلیں؟“ لارڈ ماﺅنٹ بیٹن نے کہا ”دیکھئے، میں نے آپ کو اطلاع دے دی ہے اور پھر دہراتا ہوں کہ آپ کی جان خطرے میں ہے، سکھوں نے منصوبہبنایا ہے کہ جس وقت آپ اسمبلی ہال جائیں گے تو آپ کو قتل کر دیا جائے گا۔ “ قائداعظم نے کہا : ” اگر مجھے قتل کر دیا گیا تو میں شہید ہوں گا اور مسلمان کیلئے شہید ہونا تو افضل ترین اعزاز ہے لہٰذا فکر نہ کرو۔“ لارڈ ماﺅنٹ بیٹن نے کہا: ”نہیں نہیں، مجھے تمہاری جان کی بڑی ضرورت ہے اور میں یہ چاہتا ہوں کہ تمہاری حفاظت کا اہتمام کروں۔ “ یہ کہہ کر ماﺅنٹ بیٹن نے ایک بار پھر قاعداعظم سے پروگرام ملتوی کرنے پر اصرار کیا، لیکن قائداعظم نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ اسمبلی ہال میں تقریب ہوئی اور کچھ بھی نہیں ہوا۔ واپسی پر لارڈ ماﺅنٹ بیٹن نے کہا: مسٹر جناح آپ کو دلی مبارک باد دیتا ہوں کہ آپ بچ کر آ گئے، غالباً اس لئے کہ میں آپ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ قائداعظم نے کہا: ” نہیں اللہ میرا محافظ تھا اس لئے میں بچ گیا۔“ لارڈ ماﺅنٹ بیٹن نے دراصل قائداعظم پر نفسیاتی حملہ کیا تھا۔ وہ یہ بتلانا چاہتا تھا کہ قائداعظم ایک آزاد مملکت کے سربراہ ہونے کے باوجود غیر محفوظ ہیں اور انگریزوں کی مدد کے محتاج ہیں لیکن قائداعظم نے اس حملے کو ناکام بنا دیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ موجودہ رہنماءانتہائی بھاری پروٹوکول کے ساتھ بھی تقریبات میں آنے سے گھبراتے ہیں۔ جہاں وزیراعظم نواز شریف نے سیکیورٹی وجوہات کی بناءپر کراچی کا دورہ منسوخ کیا وہیں سابق صدر زرداری نے لاڑکانہ میں تقریب سے خطاب کرنے سے اجتناب کیا۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -