ضربِ عضب کا نیا مرحلہ

ضربِ عضب کا نیا مرحلہ
 ضربِ عضب کا نیا مرحلہ

  

پچھلے پندرہ مہینوں سے کامیابی سے جاری آپریشن ضربِ عضب اب ایک نئے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ یہ انتہائی خوش آئند بات ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نے اپنی ڈویلپ کی ہوئی ڈرون ٹیکنالوجی کا میدانِ جنگ میں استعمال شروع کر دیا ہے۔ پاکستان کی عسکری اور قومی قیادت کے عزم نے دہشت گردوں کی کمر پہلے ہی توڑ دی تھی، لیکن اب اس نئی ڈویلپمنٹ سے دہشت گردی کے خلاف آپریشن ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے، جو نہ صرف فیصلہ کن ہو گا، بلکہ پاکستان سے دہشت گردی جڑ سے اکھاڑ پھینکی جائے گی۔ پاکستان نے اپنا ڈرون جہاز براق، تو2009ء میں ہی بنا لیا تھا اور گزشتہ برسوں میں کئی بار اس کی پرواز کے کامیاب تجربات کئے گئے تھے، لیکن اب پاکستان نے اپنے اس انتہائی اہم اثاثہ کو کامیابی سے میدانِ جنگ میں بھی استعمال کر لیا ہے۔ اس کامیابی پر پاکستانی قوم، حکومت اور افواجِ پاکستان کو جتنی مبارکباد دی جائے کم ہے۔ یہ کامیاب تجربہ7ستمبر کی صبح کیا گیا، جب پاکستان نے اپنے بنائے ہوئے ڈرون جہاز سے شمالی وزیرستان کے علاقہ شوال میں دہشت گردوں کے ٹھکانے پر حملہ کیا اور غیر ملکیوں سمیت تین ہائی پروفائل دہشت گرد جہنم واصل کر دیئے۔ لگتا ہے اب تواتر سے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ڈرون حملے ہوں گے، جس کی وجہ سے وہ نہ صرف نیست و نابود ہو جائیں گے، بلکہ مُلک میں امن اور خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہو گا۔

پاکستان کے لئے ڈرون ایک اجنبی نام نہیں، کیونکہ کئی سال سے امریکی ہمارے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے کر رہے ہیں۔ ڈرون ٹیکنالوجی امریکہ سمیت دُنیا کے کئی ممالک کے پاس تھی، لیکن پاکستان میدانِ جنگ میں ڈرون استعمال کرنے والا چوتھا مُلک بن گیا ہے۔ پہلے ڈرون حملے امریکہ کی صوابدید تھی کہ وہ کب اور کہاں حملے کرے گا، لیکن اب چونکہ پاکستان خود ڈرون جہاز نہ صرف بنا چکا ہے، بلکہ اسے میدانِ جنگ میں استعمال بھی کر چکا ہے، اِس لئے میرا خیال ہے کہ آئندہ وہی ڈرون حملے ہوں گے، جو افواجِ پاکستان اپنے طور پر کرنا چاہیں گی اور امریکہ کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے بند کر کے اسے مکمل طور پر افواجِ پاکستان کی صوابدید پر چھوڑ دینا پڑے گا۔ اس کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہو گا کہ پاکستان کے وہ سیاست دان جو امریکی ڈرون حملوں کو اپنی سیاست چمکانے کے لئے استعمال کر رہے تھے، ان کے پاس اب ڈرون حملوں کی سیاست کرنے کا موقع نہیں رہے گا۔ پی ٹی آئی کے عمران خان ڈرون کے نام پر اِسی طرح سیاست چمکانے کی کوشش کرتے رہے جیسے وہ مختلف قومی معاملات پر کرتے ہیں مجھے نہیں معلوم امریکی ڈرون حملوں پر آج کل ان کا موقف کیا ہے، لیکن گمان یہ ہے کہ جیسے وہ بہت سارے معاملات میں یو ٹرن لیتے رہتے ہیں اِسی طرح امریکی ڈرون حملوں کے معاملہ میں بھی وہ یوٹرن لے چکے ہیں، کیونکہ ایک طویل عرصہ سے امریکی ڈرون حملوں پر ان کی خاموشی دیکھی جارہی تھی۔

ڈرون ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے،جس میں بغیر پائلٹ کا ایک چھوٹا ہوائی جہاز کمپیوٹر کی مدد سے اڑتا ہے اور متعلقہ ٹارگٹ کو کامیابی سے بدف بنا کر واپس آجاتا ہے۔اس ٹیکنالوجی کا کمال یہ ہے کہ اس سے فائرکیا گیا میزائل مکمل سو فیصد درستگی سے اپنے نشانے کو ہٹ کرتا ہے اور اس میں غلطی کا احتمال تقریباً صفر ہوتاہے۔پچھلے چند سال میں ڈرون حملوں میں افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بہت سے ہائی پروفائل دہشت گرد مارے جاچکے ہیں،خاص طور پر القائد ہ اور تحریک طالبان پاکستان کی قیادت کا ایک بڑا حصہ ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا جا چکا ہے اب پاکستان نے اپنے بنائے ہوئے ڈرون جہاز سے شمالی وزیرستان کے علاقہ شوال میں دہشت گردوں کے ٹھکانے پر حملہ کر کے اورغیر ملکیوں سمیت تین ہائی پروفائل دہشت گرد جہنم واصل کر کے اس جدید ٹیکنالوجی میں اپنی مہارت پر مہرہ تصدیق ثبت کر دی ہے۔

پاکستان نے اپنے بنائے گئے ڈرون جہاز کا نام براق رکھا ہے اور عالمی ماہرین اِس بات پر متفق ہیں کہ براق ڈرون جہازوں کی ٹیکنالوجی امریکہ، اسرائیل اور انڈیا وغیرہ کے تیار کردہ ڈرون جہازوں سے بہت زیادہ بہتر ہے ۔اس وقت براق ہی دُنیا کا سب سے بہترین ڈرون ہے اور اِس بات کی تصدیق اِس شعبہ کے عالمی جر نلز سے بھی کی جاتی ہے۔پاکستانی ڈرون براق دفاعی ادارہ نیسکام اور پاکستان ائر فورس کی مشترکہ کاوش کا نتیجہ ہے، جہاں انجینئرز کی ٹیم رات دن اس میں مزید بہتری لانے کے لئے کوشاں ہے۔ڈرون طیارے اپنے ہدف پر فضا سے زمین پر مار کرنے والا میزائل فائر کرتے ہیں۔نیسکام نے براق ڈرون سے فائر کرنے کے لئے جو میزائل تیار کیاہے اس کا نام برق ہے۔7ستمبر کو افواجِ پاکستان نے دہشت گرد وں کے ٹھکانے پر برق ہی فائر کیا تھا، جو سو فیصد ایکوریسی کے ساتھ اپنے ہدف کو جا لگا۔

اس سال6ستمبر کو یومِ دفاع اور7ستمبر یومِ فضائیہ روائتی ولولہ اور جوش وخروش سے منایا گیا،بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ جنگ ستمبر1965ء کی گولڈن جوبلی پر ہماری مسلح افواج نے اپنے ڈرون براق اور میزائل برق کی عملی رونمائی کی تو غلط نہ ہو گا۔ 6ستمبر کی شام کو آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے جی ایچ کیومیں بہت شاندار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہیں ہوئے کہا کہ ہم ہر طرح سے تیار ہیں،آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے واضح پیغام دیا کہ ہم کولڈ سٹارٹ یا ہاٹ سٹارٹ دونوں کے لئے پوری طرح چوکس اور تیار رہیں۔اس وقت افواجِ پاکستان آپریشن ضربِ عضب کر رہی ہیں، جو ملکی بقا کی جنگ ہے، اس کا سب سے اہم مرحلہ شمالی وزیرستان میں فتوحات کی شکل میں ظاہر ہو رہا ہے،اس کے علاوہ بلوچستان کے حالات بھی اب پہلے کے مقابلے میں انتہائی حوصلہ افزا ہیں، جہاں روزانہ فراری بڑی تعداد میں ہتھیار ڈال رہے ہیں،جبکہ کراچی میں کِیا جانے والا آپریشن بھی کامیابی سے ہمکنار ہو رہاہے،گویا بھارت نے پاکستان کے حالات خراب کرنے کے لئے، جہاں جہاں آگ لگائی تھی، اب وہ بجھائی جا چکی ہے اور کچھ ہی عرصے میں ملکی حالات امن اور خوشحالی کا نمونہ بن جائیں گے۔

آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور وزیراعظم میاں نواز شریف نے پاکستان کو وہ قیادت دی ہے،جس نے ملکی تاریخ کے مشکل ترین دِنوں میں بہت کامیابی سے حالات پر نہ صرف قابو پا لیا ہے،بلکہ اب بہت تیزی سے مُلک کو استحکام کی طرف لے کر جا رہی ہے۔ 8ستمبر کو امریکی اخبار ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ نے ایک خصوصی مضمون شائع کیا ہے، جس میں ان تمام عوامل کی تفصیل بیان کی گئی ہے، جن کی بدولت وزیراعظم میاں نواز شریف داخلی استحکام کے بعد اب مُلک کو اقتصادی استحکام کی طرف تیزی سے لے جا رہے ہیں۔اِس بات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ جنرل راحیل شریف پاکستان کی تاریخ کے سب سے بہادر سپہ سالار ہیں،جنہوں نے بہادری سے پاکستان کو لاحق خطرات سے مُلک کو نکال لیا ہے،میری دانست میں اِس بات کا کریڈیٹ بہت حد تک وزیراعظم میاں نواز شریف کو جاتا ہے،جن کی دور بین نگاہوں نے جنرل اشفاق پرویز کیانی کی ریٹائرمنٹ کے وقت جنرل راحیل شریف میں پائی جانے والی خوبیوں کو پہچان کر افواجِ پاکستان کا سپہ سالار مقرر کیا تھا۔اس سال وزیراعظم نواز شریف یومِ دفاع کے موقع پر 1965ء کی جنگ کے سب سے بڑے ہیرو میجر راجہ عزیز بھٹی شہید نشانِ حیدر کی یادگار پر گئے اور پھول چڑھائے اور اگلے ہی روز میجر راجہ عزیز بھٹی شہید نشانِ حیدر کے بہادر بھانجے جنرل راحیل شریف نے ضربِ عضب کے آخری، لیکن فیصلہ کن مرحلے کا آغاز کر دیا۔سچ تو یہ ہے کہ پاکستانی فوج کی قیادت اِسی جرنیل کا حق تھا، جس کے خاندان میں دو نشانِ حیدر تھے اور اس سچ کو حقیقت بنانے کا تمام تر سہرا وزیراعظم میاں نواز شریف کو ہی جاتا ہے۔

مزید :

کالم -