قائداعظم ؒ اور پنڈت جواہر لال نہرو (1)

قائداعظم ؒ اور پنڈت جواہر لال نہرو (1)
 قائداعظم ؒ اور پنڈت جواہر لال نہرو (1)

  

دسمبر 1929ء کے آخری ہفتے میں پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنے والد پنڈت موتی لال نہرو سے کانگریس کی صدارت کا چارج لیا۔ ان کی صدارت میں کانگریس نے گول میز کانفرنس میں شریک نہ ہو نے کا فیصلہ کیا۔حکومت پر دباؤ رکھنے کے لئے اس اجلاس میں یہ طے ہوا کہ چونکہ حکومت 1929ء کے دوران نہرو رپورٹ کو نافذنہیں کر سکی ، اس لئے کانگریس کی پہلے سے اعلان کردہ پالیسی کے تحت حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی ایک تحریک چلائی جائے۔اس تحریک کے آغاز کے لئے مناسب وقت اور پروگرام کا فیصلہ کانگریس ورکنگ کمیٹی پر چھوڑ دیا گیا۔ فروری 1930ء میں ورکنگ کمیٹی نے تحریک چلانے کا فیصلہ کیا اور پروگرام کی تفصیل گاندھی جی پر چھوڑ دی ۔13مارچ1930ء کو گاندھی جی نے اعلان کیا کہ وہ ساحل سمندر پر پہنچ کر قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سمندر کے پانی سے نمک بنائیں گے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی ہندوستان بھر میں قانون شکنی کی تیاریاں شروع ہو گئیں اور چند مہینوں کے اندر ہی ہندوستان میں یہ تحریک عروج پر پہنچ گئی، لیکن تحریک خلافت کے تجربے کے بعد مسلمانوں نے اپنے آپ کو اس تحریک سے الگ رکھا ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک سال کے اندر اندر تحریک عملی طور پر ختم ہو گئی۔ یاد رہے کہ اس موقع پر مولانا محمد علی جوہر نے بھی مسلمانوں کویہ مشورہ دیا تھاکہ وہ سول نافرمانی کی اس تحریک سے الگ رہیں، کیونکہ ’’ مسٹر گاندھی فرقہ پرست ہندو مہاسبھا کے زیر اثر ہندوازم کی برتری اور مسلمانوں کی غرقابی کے لئے جدوجہد کررہے ہیں‘‘۔

1937ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کو مسلمانوں کی 492 صوبائی سیٹوں میں سے 108سیٹیں ملی تھیں۔ اگرچہ ہندوستان گیر سیاست کی سطح پر اسے مسلم سیٹوں کے لحاظ سے باقی سب پارٹیوں پر فوقیت ھاصل تھی لیکن صوبائی سطح پردوسری پارٹیاں بھی موجود تھیں۔مثلاً پنجاب میں سر سکندر حیات کی یونینسٹ پارٹی، جس میں تقریباً80 مسلمان ارکان شامل تھے اوربنگال میں مولوی فضل الحق کی کرشک پرجاپارٹی جس میں تقریباً40 مسلمان شامل تھے۔واضح رہے کہ اگرچہ بحیثیت مجموعی مسلم لیگ نے صوبائی انتخابات میں مسلمانوں کی 108 سیٹیں جیت لیں، لیکن مسلم اکثریتی صوبوں میں اس کی حالت بہت پتلی تھی۔اسے بنگال میں 119 میں سے39 اور پنجاب میں 86 میں سے صرف2 سیٹیں ملیں ۔سندھ اور سرحد میں تو ایک بھی نہ ملی ۔البتہ چند مسلم اقلیتی صوبوں میں اس کی پوزیشن بہتر رہی۔بمبئی‘یوپی‘مدراس اور آسام میں اسے مسلمانوں کی بالترتیب 51فیصد،43فیصد،39 فیصداور26 فیصد سیٹیں ملیں لیکن سی پی‘بہار اور اڑیسہ میں کوئی سیٹ نہ ملی۔ان حالات میں مسلم لیگ کس طرح مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہونے کا دعویٰ کرتی تھی؟اس سوال کا جواب دینے کے لئے ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ1937ء کے الیکشن کے فوری نتائج کی بنیادپر مسلم لیگ نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے۔جب جواہر لال نہرو نے یہ اعلان کیا کہ ہندوستان میں صرف دو طاقتیں ہیں: کانگریس اور حکومت تو قائداعظم نے انہیں للکارا کہ نہیں ‘ ایک تیسری طاقت بھی موجود ہے اور وہ ہیں مسلمان۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ تیسری طاقت مسلم لیگ ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مسلم رائے عامہ کا رجحان مسلم لیگ کی طرف ہوتا گیا ۔ مسلم لیگ کے جلسوں میں عوام کی شرکت اور جوش و خروش اس بات کے شاہد تھے کہ مسلمان اب مسلم لیگ کے علاوہ کسی اور پارٹی کی طرف توجہ دینے کو تیار نہیں۔

3ستمبر 1939ء کو دوسری جنگ عظیم کا آغاز ہو گیا۔ برطانیہ نے جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کیا۔مرکزی اسمبلی یا بڑی سیاسی پارٹیوں سے مشورے کے بغیر ہی، وائسر ائے ہند لارڈ لِنلتھگو نے ہندوستان کی طرف سے بھی فوری طورپر جنگ میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔فوری تاثر یہ تھا کہ برطانیہ اور اس کے حلیف جنگ میں کامیاب ہوں گے۔ اسی تاثر کی بنیاد پر گاندھی کا پہلا ردعمل برطانیہ کے لئے غیر مشروط حمایت کا تھا۔ اس سے اگلے دن گاندھی نے وائسرائے سے ملاقات کی ۔ 5ستمبر کو انہوں نے ایک اخباری بیان میں کہا کہ میں نے وائسرائے کو بتایا کہ خالص انسانی نقطہ نظر سے میری ہمدردیاں برطانیہ اور فرانس کے ساتھ ہیں۔ ملاقات کے دوران ( جرمنوں کی بمباری سے ) برطانوی پا رلیمنٹ اور ویسٹ منسٹر ایبے کی تباہی کا تصور کر کے میرے ضبط کا بند ٹوٹ گیا ۔ میں فکر مند ہو گیا تھا ۔ ملاقات کے بعد انہوں نے لکھا : ’’ اس وقت مجھے ہندوستان کی نجات کی مطلق فکر نہیں۔ ہندوستان کو تو ایک نہ ایک دن نجات مل ہی جائے گی، لیکن اگر برطانیہ اور فرانس شکست کھا گئے یا انہوں نے تباہ و برباد ہو کر جرمنی پر فتح پائی تو ہندوستان کی آزادی کا کیا فائدہ ‘‘۔ 8ستمبر 1939ء کو نہرو نے بھی ایک بیان میں برطانیہ کی حمایت کر تے ہوئے کہا: اس جنگ میں ایک طرف آزادی اور جمہوریت ہے اور دوسری طرف فسطائیت اور ہوس ملک گیر ی ، اس صورت میں ہندوستان کو پوری طرح جمہوریت کا ساتھ دینا چاہئے ‘‘۔ لیکن ایک مہینے کے بعد جنگ کی صورت حال جرمنی کے حق میں ہوتی دیکھ کر 10اکتوبر 1939ء کو کانگریس کمیٹی نے آزادی کے اعلان کا مطالبہ کیا اور کہا کہ عملاً زیادہ سے زیادہ اختیارات فوری طور پر ہندوستانیوں کو دے دئے جائیں اور یہ وعدہ کیا جائے کہ بالغ رائے دہندگی کی بنیاد پر ایک دستور ساز اسمبلی بنائی جائے گی۔ ہندوستان میں 75فیصد ہندو آبادی کی وجہ سے ایسی دستور ساز اسمبلی کے قیام کا مقصد ہندو راج کے سوا کچھ اور نہ تھا۔ اس لئے مسلم لیگ نے اس شرط کے ساتھ آزادی کا مطالبہ کیا کہ مستقبل کے دستور کے لئے مسلمانوں اور ہندوؤں دونوں کی منظوری لازمی ہو۔ اس طرح کانگریس نے اپنی پا لیسی جنگ کی صورت حال سے ہم آہنگ کر لی۔ فسطائیت کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو دیکھ کر جمہوریت کی حمایت کا راستہ چھوڑ گئے اور ہندوراج کا راگ الاپنے لگے ۔ اس سلسلے میں وائسر ائے کے ساتھ کانگریس کے مذاکرات کی ناکامی پر کانگریس نے حکومت سے عدم تعاون کا فیصلہ کیا اور صوبوں میں اپنی وزارتوں کو مستعفی ہونے کی ہدایات جاری کردیں۔ چنانچہ کانگریس کی آٹھوں صوبائی حکومتیں مستعفی ہوگئیں اور ان صوبوں میں گورنر راج قائم ہو گیا۔

قائداعظمؒ نے اس مناسب وقت کو سمجھنے اور اس موقع کو گرفت میں لانے کے لئے بے پناہ صلاحیت کا مظاہر ہ کیا ۔ کا نگریسی حکومتوں نے اپنے دور میں مسلمانوں پر اتنا ظلم و ستم کیا تھا اور ان کی ثقافت ،تعلیم اقتصادیات نیز مذہب کو تباہ کرنے کے لئے اتنے اقدام کئے تھے کہ کا نگریسی حکومتوں کے استعفیٰ پر قائداعظم نے مسلمانوں کو 22دسمبر 1939ء کو ’’یوم نجات و تشکر ‘‘ منانے کے لئے کہا ۔ مسلمانوں کو کا نگریس کے ظلم ، دباؤ اور نا انصافی سے واقعی نجات ملی تھی کیونکہ کانگریسی وزارتوں نے اپنے دور میں ثابت کر دیا تھا کہ نہ صرف یہ کہ وہ مسلم مفادات کی حفاظت نہیں کر سکتیں، بلکہ لمحہ بہ لمحہ ہندو راج کے قیام کے لئے آگے بڑھ رہی ہیں۔ اس لئے مسلمانوں نے یہ دن بڑے جوش و خروش سے منایا۔ اس سے نفسیاتی طور پر ہندوؤں میں مایوسی پھیلی اور مسلمانوں کے حوصلے بلند ہوئے۔

اس کے تین مہینے بعد ، 23مارچ 1940ء کو مسلم لیگ نے باقاعدہ طور پر ملک تقسیم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ جنگ ہندوستان کے دروازوں پر دستک دے رہی تھی ۔ مصر میں جرمن جرنیل رومیل (Rommel)کی فوجیں قاہرہ اور نہرسویز کی طرف بڑھ رہی تھیں۔ روس اور چین میں صورت حال بے حد خراب تھی ۔ ادھر اتحادی فوجیں برما سے پسپا ہو چکی تھیں۔ گاندھی کا خیال تھا کہ یہ وقت انگریزوں کو ہندوستان چھوڑنے کا کہنے اور ان کے نہ ماننے کی صورت میں سول نافرمانی کی تحریک کے لئے بہت موزوں ہے۔ جیسے ہی تحریک شروع ہوئی حکومت کا نگریس سے سمجھوتہ کرلے گی اور اگر ایسا نہ بھی ہوا تو کم از کم انگریز کوئی سخت قدم نہیں اٹھائیں گے۔ اس طرح انہیں ایک موثر تحریک چلانے کا موقع مل جا ئے گا۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی میں ابو الکلام آزاد اور ایک حد تک نہرو نے بھی ان کی شدید مخالفت کی کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ان حالات میں حکومت کسی قسم کی تحریک کو برداشت نہیں کرے گی اور اسے پوری طاقت سے کچل دے گی۔ ان دونوں کی مخالفت کا زور توڑنے کے لئے گاندھی نے کہا کہ آزاد کو ایک خط لکھا کہ ہمارے خیالات اتنے مختلف ہیں کہ ہم اکٹھے کام نہیں کر سکتے ۔ اس لئے اگر کانگریس کی تحریک مجھے چلانی ہے تو آپ کانگریس کی صدارت اور کانگریس ورکنگ کمیٹی سے مستعفی ہو جائیں اور آپ کے ساتھ نہرو بھی ورکنگ کمیٹی سے استعفیٰ دے دیں۔(جاری ہے)

پٹیل کو جب نہرو اور آزاد سے یہ پتہ چلا تو انہوں نے گاندھی سے کہا کہ ان حضرات کے مستعفی ہو نے کے تباہ کن اثرات ہوں گے اور اس سے نہ صرف عوام میں انتشار پھیلے گا، بلکہ کانگریس کی بنیاد یں بھی ہل جائیں گی۔ چنانچہ گاندھی نے ابو لکلام کو بلا کر ان سے کہہ دیا کہ مَیں نے وہ خط جلد ی میں لکھ دیا تھا اور میں اسے واپس لیتاہوں۔ سہ پہر کو جب ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ ہوئی تو گاندھی نے کہا کہ ایک نادم گنہگار مولانا کے پاس آگیا ہے۔ دراصل ، یہ بھی گاندھی کی ایک تکنیک تھی ۔ اس طرح انہوں نے آزاد اور نہرو پر دباؤ رکھ دیا۔ چنانچہ اس واقعہ کے بعد آزاد اورنہرو اپنے موقف پر اصرار نہ کر سکے اور 14جولائی 1942ء کو کانگریس ورکنگ کمیٹی نے گاندھی کے نقطہ نظر سے اتفاق کر کے ’’ہندوستان چھوڑ دو‘‘(Quit India)کی قرار داد منظور کرلی۔8اگست 1942ء کی شام کا نگریس کمیٹی نے اس کی تصدیق کر دی اور ہندوستانیوں سے اپیل کی کہ وہ خود مختاری حاصل کرنے کے لئے عوامی تحریک شروع کریں۔ اس موقع پر گاندھی نے اپنے رفقاء سے کہا کہ اب آپ میں سے ہر ایک اپنے آپ کو آزاد ہندوستانی سمجھے اور آپ کے عمل سے ظاہر ہو کہ اب آپ اس سامراج کے پاؤں تلے نہیں ہیں۔ آپ میں سے ہر ایک کے دل پر یہ لکھا ہو’’کریں گے یا مریں گے:ہم ہندوستان آزاد کرائیں گے یا اس کوشش میں جان دے دیں گے‘‘۔ گاندھی نے اس تحریک کے لئے مسلمانوں کا تعاون حاصل کرنے کی کوئی خواہش نہیں کی۔ ڈاکٹر امبیدکر نے ٹھیک کہاتھا کہ اگر دانستہ طور پر نہ بھی ہو عملی طور پر یہ تحریک مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کو نظر انداز کر کے آزادی حاصل کرنے کی ایک کوشش تھی۔

قائداعظمؒ نے کانگریس کی نیت کو فوراً بھالپ لیا۔ انہوں نے 31جولائی 1942ء کو بمبئی سے غیر ملکی پریس کے نام ایک بیان میں بتایا کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کا 14جولائی کا یہ ریزولیوشن کہ برطانیہ کے ہندوستان نہ چھوڑنے پر ایک عوامی تحریک چلائی جا ئے گی مسٹرگاندھی اور ہندو کانگریس کی انگریزوں کو بلیک میل کر نے کی پالیسی اور پروگرام کی انتہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انگریزوں کو نظام حکومت اور اقتدار ایک ایسی حکومت کو دینے پر مجبور کر دیا جائے جو برطانوی سنگینوں کے سائے میں فوری طور پر ہندو راج قائم کردے اور اس طرح وہ مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے مفادات کو کانگریس راج کے رحم وکرم پر چھوڑ دیں۔

1945-46 ء کی انتخابی مہم کے دوران،3نومبر 1945ء کو نہرو نے ویول سے کہا کہ مسلم لیگ ایک رجعت پسند جماعت ہے۔ اس کے نظریات ناقابل قبول ہیں اور اس کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔مرکزی اسمبلی کے لئے انتخابات میں مسلم لیگ نے سو فیصد کامیابی حاصل کی، لیکن نہرو انتخابات کے ان نتائج کو قبول کرنے پر اپنے آپ کو فوری طور پر آمادہ نہ کر سکے۔ انہوں نے کرپس کے نام 27 جنوری 1946 ء کو خط لکھا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں مسلم لیگ کے لئے ہندوستان کا میدان صاف تھا۔ کانگریس پر تمام مدت پابندی لگی رہی۔ اس کے رہنما قید رہے ۔ اس لئے ہم مسلمان عوام سے رابطہ نہ کر سکے ۔ گزشتہ تین ماہ میں ہم نے مسلمانوں سے دوبارہ رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کے نتائج حوصلہ افزا نکلے ہیں۔ شاید اس کا انتخابات پر اثر نہ پڑے کیونکہ ہمیں کم وقت ملا ہے،لیکن ہم نے مسلمان عوام میں رابطے کی ٹھوس بنیاد رکھ دی ہے جس کے اثرات بہت جلد ظاہر ہوں گے۔.

یہ تھی نہرو کی طرف سے حکومت کو دھوکہ دینے کی ایک کوشش، یعنی مسلمان عوام سے رابطہ حوصلہ افزا رہا ہے، لیکن اگر اس کے اثرات انتخابات میں ظاہر نہیں ہوں گے تو پھر دُنیا کو اس کا پتہ کیسے چلے گا؟ صرف آپ کے دعوے سے؟ کوئی ان سے پوچھے کہ آپ کا تو ہندو عوام سے بھی کوئی رابطہ نہ تھا۔ پھر انہوں نے ہندو مہاسبھا کو ووٹ کیوں نہیں دئے؟ صرف اس لئے ناکہ وہ کانگریس ہی کو ہندو مفادات کی محافظ جماعت سمجھتے تھے۔

اس خط میں نہرو نے یہ بھی لکھا کہ مسلم لیگ نہ ہی راست اقدام کرنے کے اہل ہے اور نہ ہی کوئی مصیبت کھڑی کر سکتی ہے۔ بلا شبہ نہرو کے یہ اندازے قائد اعظم کی سیاسی بصیرت کے بارے میں شدید غلط فہمی پر مبنی تھے، چنانچہ چند مہینوں کے بعد جب مسلم لیگ نے راست اقدام کا طے کیا تو کانگریس اور حکومت دونوں کی پریشانی قابل دید تھی۔

مرکزی اسمبلی کے انتخابات میں مسلم لیگ کی کامیابی پر21دسمبر1945ء کو قائداعظم نے پنڈت جواہر لال نہرو کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ وہ ایک پر جوش پنڈت ہیں جو نہ (اپنے تصورات اور ناقابل عمل خیالات کو ) بھولتے ہیں نہ (نئے تجربات اور واقعات سے ) کچھ سیکھتے ہیں اور نہ ہی ان کی عمر بڑھتی ہے۔ وہ تو بس پیٹرپان (Peter Pan) ہیں۔

اگرچہ مشن نے گروپنگ کے بارے میں کانگریس کی تشریخ منظور نہیں کی‘ اس کے باوجود 27جون کو مشن نے اعلان کیا کہ چونکہ کا نگریس نے 25جون 1946ء کو طویل المیعاد منصوبے کو مان کر 16مئی کے پلان کی منظوری دے دی ہے‘ اس لئے مسلم لیگ کے ساتھ وہ بھی عبوری حکومت میں شامل ہونے کی حق دار ہو گئی ہے، چنانچہ 29جون کو مشن یہ کہہ کر واپس چلا گیا کہ کچھ وقفے کے بعد وائسرائے عبوری حکومت کے قیام کے لئے کوشش شروع کردیں گے(31)۔ مشن تین مہینے ہندوستان میں رہا ۔ کھلی ناکامی کی صورت میں وہ اپنی حکومت اور اپنے عوام کو اپنی کارکردگی کے بارے میں کیا بتاتا ؟ لہٰذا اس نے اعلان کر دیا کہ سب نے طویل المیعاد منصوبہ منظور کر لیا ہے!

ادھر ‘ جب پنڈت نہرو نے 7جولائی 1946ء کو کانگریس کے صدر کے اختیارات سنبھالے تو 10جولائی 1946ء کو اپنی پریس کا نفرنس میں کہا کہ کانگریس ہر قسم کے معاہدے کی پا بندی سے آزاد ہو کر دستور سازاسمبلی میں شرکت کرے گی۔ کانگریس نے صر ف اسمبلی میں شرکت پر رضامندی ظاہر کی ہے اور اسمبلی میں اس پر پلان میں تبدیلی کرنے پر کوئی پابندی نہیں۔ اس طرح کانگریس جو بات الفاظ کی شعبدہ بازی سے چھپانے کی کوشش کر رہی تھی وہی بات نہرو نے کھل کر کہہ دی ۔ (ویسے یہ بات گاندھی کیبنٹ مشن پلان کے اعلان کے فوراً بعد ہی کہہ چکے تھے، لیکن وہ اس بات کا فائدہ اٹھاتے تھے کہ وہ تو کانگریس کے ممبر بھی نہیں ہیں)۔

پنڈت نہرو کے اس بیان پر قائداعظم کی ہدایت پر مسلم لیگ کونسل کی میٹنگ کے لئے نوٹس جاری کردیا گیا۔ یہ میٹنگ 27جولائی 1946ء کو شروع ہو ئی اور تین دن تک جاری رہی۔ قائداعظم نے اپنی تقریر میں بتایا کہ کس طرح کانگریس اور حکومت دونوں مسلسل وعدہ خلافی کرتے رہے ہیں۔کیبینٹ مشن کانگریس کے ہاتھوں میں کھیلتا رہا ہے۔ ان مذاکرات کے دوران ‘ کیبنٹ مشن اور وائسرائے کا نگریس کی دہشت اور دھمکیوں میں تھے۔ وہ اپنے وعدے سے مکر گئے ہیں اور اس تجویز کو جسے وہ اپنی آخری تجویز کہہ رہے تھے ترک کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے طویل المیعادمنصوبہ کبھی منظور ہی نہیں کیا ۔ واقعات نے ایک دفعہ پھر ثابت کر دیا ہے کہ ہندوستان کے مسئلہ کا صرف ایک حل ہے اور وہ ہے پاکستان۔مسٹر گاندھی یوں بات کرتے ہیں گویا وہ دنیا بھر کے مشیر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کانگریس ہندوستانی عوام کی ٹرسٹی ہے۔ ہمیں ایک ٹرسٹی کاکافی تجزبہ ہو چکا ہے جو 150سال سے یہاں ہے ۔ اب ہم کانگریس کو اپنا ٹرسٹی نہیں بنانا چاہتے ۔ مسلمانوں کا صرف ایک ٹرسٹی ہے اور وہ ہے مسلم قوم۔ اپنی تقریر کے دوران قائداعظمؒ نے کرپس پر الزام لگایا کہ وہ الفاظ کی شعبدہ بازی سے برطانوی پارلیمینٹ کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے رہے ۔ کرپس پر شدید طنز کرتے ہوئے قائداعظمؒ نے کہا کہ انہوں نے اپنی قانونی صلاحیتوں کی تذلیل کی ہے۔ اس کے بعد ارکان نے تقریریں کیں۔ سرفیروز خاں نون نے کہاہمیں تسلیم کر لینا چاہئے کہ کیبینٹ مشن پلان مان کر ہم نے غلطی کی۔ اب دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم تمام آئینی تجاویز مسترد کردیں۔ہمارے سامنے روشنی کا صرف ایک مینار ہے۔ پاکستان کی مکمل آزاد ریاست ۔ مولانا حسرت موہانی نے تالیوں کی گونج میں کہا کہ اگر قائداعظم ہمیں حکم دیں تو ہندوستان کے مسلمان ایک لمحے کے نوٹس پر بغاوت کے لئے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ راجہ غضنفر علی نے کہا کہ اگر مسٹر جناح کال دیں تو پاکستان حاصل کرنے کی جدوجہد میں چھوٹے بڑے سب مسلمان میدان میں آجائیں گے۔

29جولائی 1946ء کو مسلم لیگ کونسل نے دو قراردادیں منظور کیں۔

پہلی قرارداد میں کہا گیا کہ رونما ہونے والے واقعات کی روشنی میں مسلم لیگ محسوس کرتی ہے کہ دستور ساز اسمبلی میں مسلمانوں کے مفادات محفوظ نہیں رہیں گے، اس لئے مسلم لیگ کابینہ مشن پلان کی منظوری واپس لیتی ہے۔

دوسری قرارداد میں کہا گیا:

جبکہ مسلم انڈیا ‘ ہندوستان کے مسئلے کا مصالحت اور آئینی ذرائع سے پر امن حل نکالنے کی تمام کوششوں میں ناکام ہو گیا ہے۔

جبکہ کانگریس انگریزوں کے ساتھ مل کر ہندوستان میں اونچی ذات کے ہندوؤں کا راج قائم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

جبکہ موجودہ واقعات نے بتادیا ہے کہ ہندوستان کے معاملات میں انصاف اور ایمانداری کی بجائے سیاست کی طاقت فیصلہ کن امر ہے۔

جبکہ یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہے کہ ہندوستان کے مسلمان ایک آزاد اورمکمل طور پر خود مختار پاکستان سے کم کسی چیز پر مطمئن نہ ہوں گے۔

وہ وقت آگیا ہے کہ پاکستان کے حصول کے لئے مسلم قوم راست اقدام کرے تاکہ اس کی عزت محفوظ رہے اور وہ برطانیہ کی موجودہ غلامی اور اونچی ذات کے ہندوؤں کے آئندہ غلبہ سے چھٹکارا حاصل کر سکے۔

31جولائی کی صبح ویول کی نہرو سے ملاقات ہوئی۔ ویول کا تاثر یہ تھا کہ مسلم لیگ کی قرارداد سے نہرو ہل گئے ہیں اورانہیں احساس ہے کہ کم از کم جزوی طور پر یہ ان کے جلد بازی میں دئے گئے غیر محتاط بیان کی وجہ سے ہوا ہے۔ دراصل، جب نہرو نے یہ بیان دیاتھا تو وہ یہ سمجھتے تھے کہ مسلم لیگ کوئی غیر آئینی قدم اٹھانے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی،لیکن قائد اعظمؒ کا ردعمل عام طور پر غیر متوقع ہوتا تھا اور اس دفعہ تو راست اقدام کی قرارداد نے نہ صرف نہرو، بلکہ پوری ہندو قوم کو ہلا کر دکھ دیا تھا۔ یہ اقدام کانگریس اور حکومت برطانیہ دونوں کے لئے انتہائی غیرمتوقع تھا۔ اس سے ہندوستان کی سیاست کا نقشہ ہی بدل گیا ۔ انگریزوں اور ہندوؤں کو پورا پورا یقین ہو گیا کہ مسلمان قوم اپنے حقوق کے لئے جان ہتھیلی پر رکھ کر میدان میں آگئی ہے۔ اب پورے ہندوستان پر ہندو راج کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔

یاد رہے کہ پنڈت نہرو نے 27جنوری 1946ء کو سرسٹیفورڈ کرپس کے نام ایک خط میں لکھا تھا :

’’مسلم لیگ کی قیادت اس طرح کے زمینداروں اور مفاد پرستوں کے ہاتھوں میں ہے جو سماجی تبدیلی کے خلاف ہیں۔ وہ کسی قسم کے راست اقدام کی جرات نہیں کر سکتے۔ وہ اس کے اہل ہی نہیں کیونکہ وہ آرام دہ زندگی بسر کر نے کے عادی ہیں‘‘۔

حالانکہ مسلم لیگ کی قیادت قائد اعظم کے ہاتھ میں تھی اور ہر ایک کو معلوم ہے کہ وہ زمیندار تھے نہ مفاد پرست ۔ بہرحال‘ مسلم لیگ کی اس قرارداد نے ان کی غلط فہمی دور کردی۔

ادھر پیتھک لارنس نے اس قرارداد کے بعد ویول کو لکھاکہ وہ جتنی جلد ی ممکن ہو جناح سے رابطہ کریں اور انہیں عبوری حکومت میں شرکت کے لئے کہیں، لیکن ویول نے کہا: اگر اس وقت میں نے جناح سے رابطہ کیا تو انہیں ہمارے خوف زدہ ہونے کا احساس ہو گا اور جناح کی قدرو قیمت بڑھ جائے گی ۔ میری تجویز یہ ہے کہ اس وقت جناح کو نظرانداز کیا جائے۔

گاندھی نے روز اول ہی سے کیبینٹ مشن پلان کی وہ تشریخ کی تھی جو اسے مسترد کرنے کے مترادف تھی۔ کانگریس بھی حیل و حجت کے بعد وہی بات کہہ رہی تھی۔ تاہم 10 جو لائی 1946ء کو کانگریس کے صدر نہرو نے ایک پریس کانفرنس میں کھل کر یہ بات کہہ دی کہ ہم دستور ساز اسمبلی میں جو چاہیں گے کریں گے‘ ہم پر کیبنٹ مشن پلان کے فریم ورک کی کوئی پابندی نہیں ۔ اس پر حکومت کا رویہ دیکھتے ہوئے مسلم لیگ نے پلان کی منظوری واپس لے لی اور قائداعظمؒ کی قیادت میں پہلی دفعہ راست اقدام کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں یہ طے ہوا کہ 16اگست 1946ء کو مُلک بھر میں جلسے ‘ مظاہرے اور ہڑتالیں کی جائیں۔

مزید :

کالم -