عراق اور شام میں نوعمر لڑکیوں کیساتھ جنسی زیادتی اور ظلم کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی:انجلینا جولی

عراق اور شام میں نوعمر لڑکیوں کیساتھ جنسی زیادتی اور ظلم کو الفاظ میں بیان ...

  

لندن (بیورورپورٹ)ہالی ووڈ کی مشہور شخصیت اقوام متحدہ کی خصوصی ایلچی برائے پناہ گزین انجیلنا جولی نے انکشاف کیا ہے کہ عراق اور شام میں نوعمر لڑکیوں اور بچیوں کو بڑے پیمانے پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور ان کی جنسی غلاموں کے طور پر خرید و فروخت بھی عام کاروبار کی صورت اختیار کرچکی ہے ایک پناہ گزین کیمپ میں ان کی ملاقات ایک ایسی بچی سے ہوئی جس کے عمر محض سات یا آٹھ سال تھی اور اسے متعدد بار جنسی درندگی کا نشانہ بنایا جاچکا تھا بچی کیمپ میں آنے کے بعد بھی ہمیشہ کانپتی رہتی تھی اور کسی سے بات چیت نہیں کرتی تھی ہاوس آف لارڈز کمیٹی کو جنگ سے متاثرہ علاقوں میں جنسی تشدد کے خلاف اپنی مہم کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ حال ہی میں عراق کے ایک پناہ گزین کیمپ میں وہ ایک 13 سالہ لڑکی سے بھی ملیں جس نے بتایا کہ اسے کئی اور لڑکیوں کے ساتھ ایک کمرے میں رکھا گیا تھا اور بارہا جنسی زیادتی کے بعد صرف 40 ڈا لر میں فروخت کردیا گیا تھا لڑکی نے بتایا کہ انہیں دو، دو کرکے ایک غلیظ کمرے میں لے جایا جاتا اور ان کی عصمت دری کی جاتی ان کے جسم سے زیادہ ظلم ان کے ذہن پر کیا گیا جب انہیں قطار میں کھڑا کرکے ان کا معائنہ کیا جاتا تھا اور جانوروں کی طرح ان کی قیمت لگائی جاتی تھی تو وہ خود کو بہت بے بس اور بے وقعت مخلوق محسوس کرتی تھیں انجلینا جولی نے لڑکیوں کی تجارت کے بارے میں بتایا کہ اسے باقاعدہ کاروبار کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے اور کئی ہزار سے لے کر محض 40 ڈالر میں لڑکیوں کو جنسی غلاموں کے طور پر فروخت کیا جارہا ہے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شام اور عراق کے جنگ زدہ علاقوں میں خواتین اور لڑکیوں کی جس بڑے پیمانے پر عصمت دری کی جارہی ہے اسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔

مزید :

عالمی منظر -