حکومت کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کیلئے عملی طور پر اقدامات کرئے، شاہینہ کوثر

حکومت کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کیلئے عملی طور پر اقدامات کرئے، شاہینہ ...

  

لاہور( لیڈی رپورٹر) امنگ ڈویلپمنٹ فاؤ نڈیشن کی ڈائریکٹر شاہینہ کوثر نے کہا ہے کہ حکومت کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کیلئے عملی طور پر اقدامات کرئے،لڑکی کی شادی کیلئے شناختی کارڈ لازمی قرا دیا جائے،جرمانہ 50ہزار سے بڑھا کر 2لاکھ کیا جائے اور عمرقید 6سے بڑھا کر 5سال کم از کم کی جائے،جو نکاح خواں کم عمر بچیوں کا نکاح پڑھاتے ہیں ان کے لائسنس منسوخ کیے جائیں ،پنجاب پاکستان کا واحد صوبہ ہے جہاں کم عمر بچیوں کی شادیوں کی شرح سب سے زیادہ ہے،خواتین اراکین اسمبلی کو اس میں کردار ادا کرنے کی اشد ضرورت ہے،وہ گزشتہ روز مقامی ہوٹل میں ایک سیمینار سے خطاب کررہی تھی،شاہینہ کوثر نے مزید کہا جنوبی پنجاب کم عمری کی شادیاں عام رسم ورواج کی شکل اختیار کرچکی ہیں،حکومت کو آگاہی مہم شروع کرنی چاہیے اس سیمینار منعقد کیے جائین جن میں جنوبی پنجاب سیمت دیگر پسماندہ علاقوں کی خواتین اور بچیوں کو شامل کیاجائے ان کو کم عرمی کی شادی کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے،اس سلسلے میں سول سوسائٹی پنجاب حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کیلئے تیار ہے ۔

،انہوں نے مزید کہا پنجاب حکومت کو اس ایشو پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کم عمری کی شادیاں اکثر ماں اور بچے کیلئے بھی انتہائی نقصاندہ ثابت ہوتی ہیں ہمارے معاشرے میں آج بھی کچھ لوگ جہالت کی زندگی گزار رہے ہیں ان کو راہ راست پر لانے کی ضرورت ہے ،لڑکے کی شادی کیلئے اگر18سال عمر لازمی ہے تو لڑکی کی عمر بھی 18سال ہو اور شناختی کارڈ بھی لازم ہونا چاہیے ،رجسٹرار کو ریاست کے قوانین کے مطابق سزا دی جائے ۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -