بھارتی عدالت میں مسلمان خاتون کا شوہر کے خلاف انوکھا مقدمہ، جج کو بھی مشکل میں ڈال دیا

بھارتی عدالت میں مسلمان خاتون کا شوہر کے خلاف انوکھا مقدمہ، جج کو بھی مشکل ...
بھارتی عدالت میں مسلمان خاتون کا شوہر کے خلاف انوکھا مقدمہ، جج کو بھی مشکل میں ڈال دیا

  

نئی دلی (نیوز ڈیسک) بھارت میں ایک مسلمان خاتون اپنے خاوند کی دوسری شادی کے خلاف شکایت لے کر عدالت پہنچ گئی جہاں اس معاملے نے ایک نئی اور پیچیدہ قانونی بحث کی شکل اختیار کرلی ہے۔ اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ کے مطابق بھاونگر شہر سے تعلق رکھنے والی خاتون ساجدہ بانو کی شادی رائے پور شہر کے ظفر عباس مرچنٹ سے ہوئی تھی مگر 2001ء میں گھریلو ناچاقی کے باعث خاتون اپنے والدین کے گھر آگئی۔

ظفر عباس نے 2003ء میں نئی شادی کرلی، جس کے خلاف ساجدہ بانو نے عدالت سے رجوع کرلیا۔ ان کا موقف تھا کہ ان کے خاوند نے ان کی رضامندی کے بغیر دوسری شادی کرکے قانون کی خلاف ورزی کی تھی۔ ظفر عباس نے اس الزام کے خلاف گجرات ہائیکورٹ میں درخواست دے دی اور موقف اختیار کیا کہ شرعی قانون اور مسلم پرسنل لاء کے مطابق اسے چار شادیاں کرنے کی اجازت ہے اور اس معاملے میں انڈین پینل کوڈ لاگو نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیں:مقدمے کا انوکھا فیصلہ،بیوی شوہر کو ماہانہ خرچہ ادا کیا کرے گی

عدالت نے معاملات پیچیدہ ہونے پر شرعی قوانین کے ایک ماہر کی خدمات حاصل کیں جن کا کہنا تھا کہ مسلم مرد بیوی کی اجازت کے بغیر، اور کل چار شادیاں کرسکتا ہے، البتہ شرعی حکم کے مطابق سب بیویوں میں انصاف کرنا اور مساوی حقوق ادا کرنا ضروری ہے۔ خاتون کے وکیل کا کہنا تھا کہ ظفر عباس اپنی بیوی کے ساتھ بدسلوکی کا مرتکب ہوا اور نئی شادی کے لئے اس کے ساتھ بات تک کرنا مناسب نہ سمجھی لہٰذا یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ وہ بیویوں کے درمیان انصاف کررہا ہے یا کرسکتا ہے۔ وکیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس ضمن میں انڈین پینل کوڈ بھی لاگو ہوگا اور ظفر اقبال شادی پر شادی کے جرم کا مرتکب ہوا ہے۔

عدالت نے قانونی مشیر سے پوچھا ’’جب ایک خدا نے سب انسانوں کو بنایا تو مختلف اقوام کیلئے مختلف قوانین کیوں؟‘‘ شرعی قوانین کے ماہر مشیر کا جواب تھا ’’خدا نے سب کیلئے ایک جیسا قانون مقرر کیا لیکن انسانوں نے اس میں ردوبدل کرلیا۔‘‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہندومیرج ایکٹ 1955ء‘ کا قانون بننے سے پہلے ہندو مرد بھی ایک سے زائد شادیاں کیا کرتے تھے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -