زیادہ فیس بک استعمال کرنے والے بچوں کو سب سے زیادہ خوف کس بات کا ہوتا ہے؟ جدید تحقیق میں انتہائی افسوسناک انکشاف

زیادہ فیس بک استعمال کرنے والے بچوں کو سب سے زیادہ خوف کس بات کا ہوتا ہے؟ جدید ...
زیادہ فیس بک استعمال کرنے والے بچوں کو سب سے زیادہ خوف کس بات کا ہوتا ہے؟ جدید تحقیق میں انتہائی افسوسناک انکشاف

  

گلاسگو(مانیٹرنگ ڈیسک) نوجوان نسل کو فیس بک کی لت کسی نشے کی طرح لگ چکی ہے، فیس بک کے استعمال میں نوجوان دن اور رات کی تمیز بھول چکے ہیں، جب دیکھو سٹیٹس اپ ڈیٹ ہو رہا ہوتا ہے، میں فلاں کام کر رہا ہوں، میں فلاں جگہ جا رہا ہوں، میں فلاں چیز کھا رہا ہوں، حتیٰ کہ فیس بک کی وجہ سے ابا جی سے جوتے کھانے کی سعادت نصیب ہونے کا سٹیٹس بھی فوراً اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔اس حوالے سے ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ میں ماہرین بتاتے ہیں کہ فیس بک کا اس قدر استعمال نوجوان نسل میں ڈپریشن اور نیند کی بے سکونی کا باعث بنا رہا ہے۔ نوجوان زیادہ سے زیادہ وقت فیس بک پر آن لائن رہتے ہیں تاکہ اپنے دوستوں کے ساتھ رابطے میں رہیں اور ان کے پیغامات کا بروقت جواب دے سکیں۔

تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں تقریباً 90فیصد نوجوان لڑکے اور لڑکیاں سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ ان میں سے جو لوگ رات کے وقت بھی فیس بک یا دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹس سے چپکے رہتے ہیں ان میں ذہنی اور نفسیاتی مسائل پیدا ہونے کا چانس بہت بڑھ جاتا ہے۔گلاسگو یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ہیتھر کلے لینڈ کا کہنا ہے کہ نوجوان ڈپریشن اور دیگر ذہنی امراض کا آسان ہدف ہوتے ہیں اور سوشل میڈیا کے اندھا دھند استعمال کے باعث نیند کی بے سکونی انہیں عمر بھر کے لیے ان امراض میں مبتلا کر سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے اس تحقیق کے لیے 467نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے انٹرویوز کیے اور بعد میں ان کے دماغ کے ٹیسٹ کیے گئے۔ان میں سے جن لوگوں نے بتایا کہ وہ رات کے وقت بھی سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں ان کے دماغ کے ٹیسٹ سے ثابت ہوا ہے کہ وہ کسی حد تک ڈپریشن کا شکار ہو چکے ہیں۔ان نوجوانوں کی پرسکون نیند میں 13.5فیصد تک کمی واقع ہو چکی تھی۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -