قائداعظم محمد علی جناحؒ کا تصورِ پاکستان!

قائداعظم محمد علی جناحؒ کا تصورِ پاکستان!
قائداعظم محمد علی جناحؒ کا تصورِ پاکستان!

  

پاکستان کا قیام برصغیر کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس کی یہ اہمیت اس وجہ سے نہیں ہے کہ مسلمانوں نے انگریزوں کی غلامی سے نجات حاصل کرلی اور دنیا کے نقشے پر ایک نئے اور آزاد ملک کا اضافہ ہوا۔ ایسی آزادی تو کئی دوسری قوموں نے بھی حاصل کی ہے۔ دنیا کے نقشے پر نئے ملکوں کا ظہور بھی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس کی اصل اہمیت کی وجہ یہ ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں نے نظریاتی بنیادوں پر اس ملک کو قائم کیا۔ پاکستان جدید دور میں مذہب کے نام پر قائم ہونے والی اولین ریاست ہے۔

جب مسلمانان ہند قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں ایک آزاد اور خود مختار مسلم ریاست کے قیام کے لئے جدوجہد میں مصروف تھے تو ان کے ذہن میں یہ واضح تصور تھا کہ ایک ایسا ملک قائم کیا جائے جہاں مسلمان اپنے عقائداور نظریات کو عملی صورت میں جلوہ گر دیکھ سکیں قائداعظم محمد علی جناحؒ ایک ایسی آزاد مسلم ریاست کے قیام اور حصول کی جنگ لڑ رہے تھے۔ جہاں جمہوریت، مساوات اور رواداری کا دور دورہ ہو۔ جہاں لوگ اسلامی تصورات کے مطابق زندگی گزارنے اور اسے اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کرنے میں آزاد ہوں۔ جب ہم قائد اعظم کی زندگی، شخصیت ، ان کی تقاریر اور بیانات کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں یہ اندازہ لگانے میں دیر نہیں لگتی کہ ان کے ذہن میں کس قسم کے پاکستان کاتصور تھا۔ 1940ء کی قرارداد لاہور کی منظوری کے موقع پر اپنے تاریخی خطبے میں قائداعظمؒ نے ایک جگہ کہا تھا : ’’قومیت کی ہرتعریف کی روسے مسلمان ایک الگ قوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ ان کا اپنا ایک قومی وطن ہو، ان کا اپنا ملک ہواور اپنی ریاست ومملکت ہو۔ ہماری یہ خواہش ہے کہ آزاد اور خود مختار قوم کی حیثیت سے امن واتحاد سے رہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری قوم اپنے تصورات اور مزاج کے مطابق اور جس طرح ہمارے خیال میں بہتر ہو روحانی ، اقتصادی اور سیاسی زندگی میں ترقی کرے۔‘‘

قائداعظم کی تقریر کے اس اقتباس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ برصغیر کے مسلمانوں کو ایک علیحدہ قوم تصور کرتے ہوئے ان کے لئے ایک علیحدہ ریاست کا حصول لازمی سمجھتے ہیں۔ وہ پاکستان کے خطے کو امن وآشتی کا گہوارہ بنانا چاہتے تھے، جہاں مسلمان اپنی قومی روایات کے مطابق زندگی گزارنے میں آزاد ہوں اور اقتصادی وسیاسی طورپر ترقی کرسکیں۔ دہلی میں مرکزی اور صوبائی مجالس قانون ساز کے مسلم لیگی ارکان کے مشترکہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے 9اپریل 1946ء کو کہا تھا: ’’ہم ایسی مملکت کا قیام نہیں چاہتے جو تنگ نظری اور مذہبی تعصب پر قائم ہو۔ مذہب ہمیں انتہائی محبوب ہے اور مذہب کے مقابلے میں تمام دنیاوی چیزیں ہمارے نزدیک کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔‘‘

پاکستان کے قیام سے صرف سولہ ماہ بیشتر قائداعظم کا یہ ارشاد اس امر کی نشاندہی کررہا تھا کہ ان کے سامنے ایسے پاکستان کا تصور تھا جو علاقائی ، لسانی تعصب ، مفاد پرستی اور تنگ نظری سے پاک ہو۔ جہاں اعلیٰ اخلاقی صفات کے حامل افراد اسلامی روایات واقدار کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ پاکستان بلاشبہ مذہب کے نام پر قائم ہوگا لیکن وہ مذہبی تعصب اور تنگ نظری سے قطعاً پاک ہوگا۔ پاکستان جغرافیائی طورپر دو حصوں پر مشتمل ہوگا یا ایک متحدہ ریاست ہوگی، اس بارے میں تحریک پاکستان کے ممتاز رہنما مولانا عبدالحامد بدایوانی لکھتے ہیں:’’یہ صحیح ہے کہ اجلاس لاہور 1940ء میں جو قرارداد منظور ہوئی تھی اس میں مسلم اکثریتی منطقوں کے قیام کی تجویز پیش کی گئی تھی، یہی نہیں بلکہ اپریل 1941ء میں مدراس کے سالانہ اجلاس میں جو قرارداد منظور ہوئی تھی اس میں بھی دو آزاد مملکتوں کی اصطلاح تھی۔ اس اجلاس میں جب پاکستان کو مسلم لیگ کا مقصد قرار دیا گیا تھا تو قرار داد میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی علاقوں کو اکٹھا کرکے مسلمانوں کے آزاد وطن بنائے جائیں گے۔ قائداعظمؒ کی ستمبر 1944ء میں گاندھی سے جو خط وکتابت ہوئی اس میں گاندھی نے قرارداد لاہور کی وضاحت طلب کرتے ہوئے پوچھا تھا کہ کیا دونوں منطقوں میں شامل آزاد ریاستیں ایسے یونٹ ہوں گی جن کی کوئی وضاحت نہیں۔ اس پر قائداعظمؒ نے جواب دیا تھا کہ نہیں، وہ پاکستان میں شریک تصور ہوں گی۔

اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ قائداعظمؒ کے ذہن میں دونوں علاقوں پر مشتمل ایک ہی پاکستان کا تصورتھا۔ اس حقیقت کی وضاحت اس قرارداد سے ہوگئی تھی جو اپریل 1946ء میں دہلی میں مسلم لیگی ارکان اسمبلی کے کنونشن میں منظور کی گئی تھی۔ یہ قرارداد حسین شہید سہروردی نے پیش کی تھی۔ قائداعظمؒ پاکستان کا قیام کیوں چاہتے تھے۔؟ اس کا جواب ان کی اس تقریر کے ایک اقتباس سے ملتا ہے جو انہوں نے قیام پاکستان کے بعد سرکاری افسروں سے خطاب کرتے ہوئے 11اکتوبر 1947ء کو کی تھی : ’’قیام پاکستان جس کے لئے ہم گزشتہ دس برس سے جدوجہد کررہے تھے، خدا کا شکر ہے آج ایک مسلمہ حقیقت ہے ۔ اپنے لئے ایک مملکت قائم کرنا ہی ہمارا مقصود نہیں تھا بلکہ یہ حصول مقصد کا ایک ذریعہ تھا اور مقصد یہ تھا کہ ہم ایسی مملکت کے مالک ہوں جہاں ہم اپنی روایات اور تمدنی خصوصیات کے مطابق ترقی کر سکیں،جہاں اسلام کے عدل و انصاف اور مساوات کے اصولوں کو آزادی سے برسر عمل آنے کا موقع حاصل ہو۔‘‘

اس اقتباس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قائداعظمؒ پاکستان کا حصول اس لئے چاہتے تھے جہاں اسلام کے عدل وانصاف اور مساوات کے اصول عملی طورپر رائج ہوں اور لوگ اپنی دیرینہ روایات اور تمدنی خصوصیات کے مطابق زندگی بسر کرسکیں۔ ان کے اس تصور کی وضاحت ان کے ایک اور قول سے ہو جاتی ہے۔ انہوں نے اسلامیہ کالج پشاور میں 13جنوری 1948ء کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا: ’’ہم نے پاکستان کا مطالبہ محض زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لئے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں‘‘۔

قائداعظمؒ کا یہ بیان ان کے اس واضح نظریے کی عکاسی کررہا ہے کہ حصول پاکستان کا مقصد صرف ایک خطہ ارضی کا حصول نہیں تھا،بلکہ وہ پاکستان کو اسلامی نظام کے عملی نفاذ کے لئے ایک تجربہ گاہ بنانا چاہتے تھے جو باقی اسلامی دنیا کے لئے ایک عملی مثال ہوتی۔ ان کے پیش نظر اسلامی حکومت کا جو تصورتھا اس پر مزید روشنی ان کی 1948ء کی ایک اور تقریر سے پڑتی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا: ’’اسلامی حکومت کے تصور کا یہ امتیاز پیش نظر رہنا چاہیے کہ اس میں اطاعت اور وفا کیشی کا مرجع خدا کی ذات ہے۔ جس کی تعمیل کا عملی ذریعہ قرآن مجید کے احکام اور اصول ہیں۔ اسلام میں اصلاًنہ کسی بادشاہ کی اطاعت ہے، نہ پارلیمنٹ کی، نہ کسی شخص یا ادارے کی۔ قرآن کریم کے احکام ہی سیاست و معاشرت میں ہماری آزادی اور پابندی کی حدود متعین کرسکتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں اسلامی حکومت قرآنی اصول واحکام کی حکومت ہے۔

کسی ملک کا آئین نظام مملکت چلانے کے لئے بنیادی اصول فراہم کرتا ہے۔ قائداعظم کی زندگی میں پاکستان کا آئین نہیں بن سکا تھا۔ وہ اس امر کے خواہش مند تھے کہ جلد ازجلد پاکستان کا مستقل آئین وجود میں آجائے۔ فروری 1948ء میں پاکستان میں آئین کی تشکیل کے مسئلے پر ایک امریکی نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے قائداعظمؒ نے کہا تھا : ’’پاکستان کا دستور بننا باقی ہے اور یہ پاکستان کی دستور ساز اسمبلی بنائے گی۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس دستور کی شکل وہیئت کیا ہوگی لیکن اتنا یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ جمہوری نوعیت کا ہوگا اور اسلام کے بنیادی اصولوں پر مشتمل ہوگا۔ ان اصولوں کا اطلاق آج کی عملی زندگی پر اسی طرح ہو سکتا ہے جس طرح تیرہ سوسال پہلے ہوا تھا۔ اسلام اور اس کے نظریات سے ہم نے جمہوریت کا سبق سیکھا ہے۔ اسلام نے ہمیں انسانی مساوات،انصاف اور ہرایک سے رواداری کا درس دیا ہے۔ ہم ان عظیم الشان روایات کے وارث اور امین ہیں اور پاکستان کے آئندہ دستور کے معمار اور بانی کی حیثیت سے ہم اپنی ذمہ داریوں اور فرائض سے بخوبی آگاہ ہیں۔‘‘

اس اقتباس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قائداعظمؒ کے ذہن میں ایک ایسے دستور کا تصور تھا جو اسلامی اور جمہوری بنیادوں پر استوار ہو۔ ان کے خیال میں اسلامی اصول اور ضابطے آج کے دور میں بھی اس قابل ہیں کہ ان پر عمل کیا جائے۔

ایک اسلامی ریاست میں سیاست ومعیشت اسلامی اصولوں کے تابع ہوتی ہے۔ کیونکہ قائداعظم پاکستان کو صحیح معنوں میں ایک اسلامی ریاست بنانا چاہتے تھے، اس لئے وہاں کی معیشت کو بھی لازماً اسلامی سانچے میں ڈھالنا ضروری تھا ۔ اس لئے جولائی 1948ء میں سٹیٹ بنک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مغرب کے معاشی نظام پر تنقید کی اور کہا: ’’ہمیں دنیا کے سامنے ایک مثالی نظام پیش کرنا ہے، جو انسانی مساوات اور معاشرتی انصاف کے سچے اسلامی تصورات پر قائم ہو۔ ایسا نظام پیش کرکے گویا ہم مسلمانوں کی حیثیت سے اپنا فرض انجام دیں گے ‘‘۔ ایک اسلامی ریاست ہی دراصل ایک فلاحی ریاست ہوتی ہے۔ قائداعظمؒ پاکستان کو اسلامی فلاحی مملکت میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ وہ اسے ایک ایسی فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے جس سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور کی یادتازہ ہوجائے۔

21مارچ 1948ء کو قائداعظمؒ نے اپنی ایک تقریر میں کہا تھا: ’’مَیں نے مسلمانوں اور پاکستان کی جو خدمت کی ہے وہ اسلام کے ایک ادنیٰ سپاہی اور خدمت گزار کی حیثیت سے کی ہے۔ آپ پاکستان کو دنیا کی عظیم قوم اور ترقی یافتہ ملک بنانے کے لئے میرے ساتھ مل کر جدوجہد کریں۔ میری آرزو ہے کہ پاکستان صحیح معنوں میں ایک ایسی مملکت بن جائے کہ ایک بار پھر دنیا کے سامنے فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سنہری دور کی تصویر عملی طورپر کھینچ جائے۔ خدا میری اس آرزو کو پورا کرے! پاکستان میں کسی ایک طبقے کی لوٹ کھسوٹ اور اجارہ داری کی اجازت نہیں ہوگی۔ پاکستان میں بسنے والے ہرشخص کو ترقی کے برابر مواقع میسر ہوں گے‘‘۔

قائداعظمؒ کے ذہن میں سیاسی طورپر کیسے پاکستان کا تصور تھا، ان کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ 25دسمبر 1945ء کو مسلمانان بمبئی نے قائداعظمؒ کی انہتر ویں سالگرہ بڑی دھوم دھام سے منائی۔ اس موقعہ پر مسلم اکثریتی علاقے خوب سجائے گئے تھے۔ سڑکوں ، گلیوں، اور محلوں میں محرابیں بنائی گئی تھیں جگہ جگہ قائداعظمؒ کی قدآور تصاویر لگائی گئی تھیں۔ جے جے ہسپتال کے قریب ایک آرائشی محراب پر قائداعظمؒ کی ایک بہت بڑی تصویر لگی ہوئی تھی، جس کے نیچے لکھا ہوا تھا:’’شہنشاہ پاکستان زندہ باد‘‘۔ قائداعظمؒ اپنی بہن فاطمہ جناحؒ کے ہمراہ یہاں سے گزرے اور اس تصویر پر ان کی نظر پڑی، تو فوراً ڈرائیورکوحکم دیا گاڑی کو روکو۔ کار رکی تو ہزاروں مسلمان پل بھر میں ان کے اردگرد جمع ہوگئے۔ قائداعظمؒ نے ان سے پوچھا: یہ تصویر کس نے لگائی ہے ؟ مجمع میں سے آواز آئی ہم نے۔ قائداعظمؒ کے لہجے میں اگرچہ قدرے برہمی تھی لیکن مسکراتے ہوئے کہا: یہ تصویر آپ فوراً ا تاردیں۔ اگر آپ یہ تصویر نہ ہٹانا چاہیں تو یہ عبارت مٹادیں جو اس کے نیچے لکھی ہوئی ہے۔ بس ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کافی ہے۔ انہوں نے اپنے شیدائیوں کو سمجھاتے ہوئے کہا: ’’پاکستان ایک جمہوری ملک ہوگا۔ ہم جس پاکستان کے لئے لڑرہے ہیں اس میں کسی بادشاہ اور شہنشاہ کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی‘‘۔

اس قسم کا ایک اور واقعہ سرمحمد یامین خان بیان کرتے ہیں: ’’دہلی میں آل انڈیا مسلم لیگ کا جلسہ ہورہا تھا۔ ایک خوشامدی نے نعرہ لگایا: ’’شاہ پاکستان زندہ باد‘‘۔ قائداعظمؒ بجائے خوش ہونے کے فوراً بولے : دیکھئے آپ لوگوں کو اس قسم کی باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔ پاکستان میں کوئی بادشاہ نہیں ہوگا۔ وہ مسلمانوں کی ری پبلک ہوگی، جہاں سب مسلمان برابر ہوں گے۔ ایک کو دوسرے پر فوقیت نہیں ہو گی‘‘۔

قائداعظمؒ کی زندگی کے یہ چھوٹے چھوٹے واقعات ان کے سیاسی نظریات اور ان کے ذہن میں پاکستان کی مجوزہ مملکت کے تصور کی وضاحت کرتے ہیں۔ وہ بلاشبہ ایک ایسے پاکستان کا قیام چاہتے تھے جو اسلامی اور جمہوری اقدار کی تجربہ گاہ ہو، جہاں سب لوگوں کو مساوی حیثیت حاصل ہو اور وہ اپنے عقیدے اور نظریے کے مطابق زندگی گزارنے میں آزاد ہوں۔

مزید :

کالم -