ہائر ایجوکیشن کمیشن کے پندرہ سال

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے پندرہ سال
 ہائر ایجوکیشن کمیشن کے پندرہ سال

  



ادارے کسی بھی قوم کی فکری و معاشرتی تاریخ میں بڑی قدرومنزلت کے حامل ہوتے ہیں۔تاریخ شاہد ہے کہ اقوام کے نشیب و فراز اداروں کے عروج و زوال کے ساتھ مشروط رہے ہیں۔ مغرب کی ترقی کا سنجیدہ تجزیہ واضح کرتاہے کہ مغربی معاشرے کے استحکام و ترقی کا راز ادارہ سازی میں پوشیدہ ہے ۔ مغرب نے صدیوں کی ریاضت سے اپنے سیاسی،معاشرتی، فکری اور تعلیمی اداروں کو مضبوط بنایا ہے۔ تعلیم و تربیت کا اعلیٰ نظام سماجی حیات میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی ستمبر 2002ء میں ایک ایسے ہی ادارے کی تشکیل کا آغاز ہوا، جس کا اوّلین مقصد پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کر کے روح عصر سے ہم آہنگ کرتا اور قومی تقاضوں کا حامل بنانا تھا۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے گزشتہ ایک عشرے میں اپنے فعال، متحرک اور نتیجہ خیز کردار سے قومی تفاخر میں اضافہ کیا ہے۔ وطن عزیز کی معاشرتی، معاشی اور تکنیکی پیش رفت کے لئے یونیورسٹی نظام تعلیم کی اہمیت کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے دُنیا کے بیشتر ممالک، بالخصوص وفاقی نظام حکومت کی حامل ریاستوں میں اعلیٰ تعلیم کے نظام کی نگرانی اور انہیں مربوط رکھنے کے لئے بین الجامعاتی اداروں کے قیام کی مستحکم روایت کو اپنایا گیا۔ ترکی، بھارت، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، سری لنکا جیسے ممالک اس فہرست میں شامل ہیں۔کسی بھی مُلک میں ڈگریاں عطا کرنے والے سرکاری و نجی اداروں کی تعداد میں اضافے ، ان کے تدریسی پروگرام کے تنوع، نصابی مضامین کی کثرت اور قومی تقاضوں کی حساسیت کی وجہ سے ایسے نگران اداروں کی ناگزیریت مسلمہ ہے،جو اپنے عمل و کارکردگی سے قومی ضرورتوں میں باہمی مطابقت پیدا کریں اورخود وفاق کا نمائندہ بھی ہوں۔

پاکستان جیسے کثیر الجہتی سماج میں قومی مسائل کے ادارک اور ان کے حل کے لئے تعلیم، بالخصوص اعلیٰ تعلیم کے فروغ اور مطابقت کے لئے ایسے ثمر آور ادارے کی ضرورت شروع ہی سے محسوس کی جانے لگی تھی، تاہم مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں پنہاں تعلیمی نظام کی ابتری کے کردار کی بناء پر یہ احساس بڑھ گیا ۔سقوط ڈھاکہ کی کوکھ سے یہ احساس بھی پیدا ہوا کہ تعلیم ہی وہ بنیاد ہے، جس پر صوبوں یا علاقوں کی ترقی کا انحصار ہے۔ 1973ء کے دستور سے پہلے تعلیم صوبائی معاملہ تھا، تاہم دساتیر کی مشترکہ فہرست میں پالیسی و معیار کے حوالے سے موجود شقوں کی موجودگی بھی لازم سمجھی گئی۔ 1974ء میں جامعات کی کارکردگی کی نگرانی کے لئے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کا قانون منظور ہوا تو وفاق پاکستان نے اعلیٰ تعلیم کو مربوط کرنے، تحقیق و تدریس کو بہتر کرنے اور اداروں کی کارگذاری کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لئے پالیسی سازی کا اختیار حاصل کر لیا، تا ہم بیسویں صدی کے آخری عشرے میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں کی کارکردگی کے حوالے سے بحث زور پکڑ گئی اور یو جی سی کے حوالے سے تنقید میں شدت آگئی تو اس ادارے ،تنظیم کو صوبوں کے حوالے کرنے کی تجویز گردش کرنے لگی۔ اسی کے نتیجے میں1992ء میں پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے حوالے عالمی بینک کی رپورٹ میں اس تنظیم کو مستحکم کرنے کی تجویز آئی اور برطانیہ کی یوجی سی کے سابق سربراہ نے یو جی سی کی ضرورت کو ناگذیز قرار دیتے ہوئے یہ بھی لکھ دیا کہ اگر یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کا وجود نہ بھی ہوتا، پھر بھی اسے ایجاد کرنا پڑتا۔

ایسے ہی ماہرین کی تجاویز کے نتیجے میں 2002ء میں وزارت تعلیم کے زیر انتظام پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کی ترقی کے لئے ماہرین کی کمیٹی قائم ہوئی، جس نے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر میں اعلیٰ تعلیم کے معیار و ثمرات کو بہتر بنانے کے لئے ایک مرکزی ادارے کی ضرورت کو کلیدی قرار دیا اور اس ادارے کو ’’ہائر ایجوکیشن کمیشن ‘‘ کے نام سے تجویز کیا۔ ماہرین کی سفارش کو منظو ر کرتے ہوئے حکومت پاکستان نے گیارہ ستمبر2002ء کو آرڈی ننس جاری کیا، جس کے تحت ’’کمیشن برائے اعلیٰ تعلیم‘‘ یعنی ’’ایچ ای سی‘‘کا قیام عمل میں آ گیا اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کا ایکٹ مجریہ1974ء منسوخ قرار پایا۔ گزشتہ ڈیڑھ عشرے سے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے کمیشن نے جذبے، حوصلے، لگن سے تعلیم و تطہیر کا کام کیا، جس کے نتیجے میں اعلیٰ تعلیم کے میدان میں ہماری کارکردگی ہر حوالے سے بہتر ہوئی اور اسے عالمی سطح پر پذیرائی بھی ملی۔ہمارے ہاں تحقیقی مطبوعات کی تعداد میں اضافے کو دُنیابھر میں دوسرا اہم ترین اضافہ قرار دیا گیا۔ نامساعد حالات کے باوجود پاکستان فی کس آبادی کے لحاظ سے ہندوستان سے زیادہ تحقیقی مقالے شائع کر رہا ہے۔ ہماری جامعات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری کے حامل اساتذہ کی تعداد میں قابل رشک اضافہ ہوا ہے۔ مُلک بھر میں ایم فل اور پی ایچ ڈی سکالرز کی انرولمنٹ میں خاطرخواہ اضافہ اعلیٰ تعلیم کے لئے خاص اہمیت کا حامل ہے۔ جامعات کو ملنے والی گرانٹس میں اضافے نے تعلیمی و تدریسی ماحول کو بہت بہتر بنایا ہے۔ اعداد وشمار سند فراہم کرتے ہیں کہ گزشتہ عشرے میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری نفع بخش ثابت ہوئی ہے۔ ان کامیابیوں پر ہر کسی کو مسرور ہونا چاہئے ۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن نے تمام تر نامساعد حالات کے باوجود مثبت اور نتیجہ خیز اصلاحات متعارف کروائیں۔ انفراسٹر کچر کی بہتری کے لئے ہر ممکن کوشش کی اور اعلیٰ تعلیم کی بہتری کے لئے محققین کو ڈیجیٹل لائبریری تک رسائی ، اساتذہ کی تربیت ، ممتاز عالمی اداروں کے ساتھ اشتراک اور وظائف کی میرٹ پر تقسیم کے کلچر نے پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اگر کوئی انقلاب پیدا نہیں بھی کیا تو اس کی سمت کا تعین ضرور کر دیا ہے۔ صرف ایک دہائی میں پچاس کے قریب نئی یونیورسٹیوں کا قیام کسی کارنامے سے کم نہیں۔ یونیورسٹی کی سطح پر زیر تعلیم طالب علموں کی تعداد میں قابل قدر اضافہ ہوا ہے۔ ڈیڑھ عشرے میں چھ ہزار سے زیادہ لوگ ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، ورنہ قبل ازیں 55سال میں تین ہزار کے قریب سکالر ہی پی ایچ ڈی تک رسائی حاصل کر سکے تھے۔ اس وقت بھی ’’ایچ ای سی‘‘ سے منظور شدہ پونے دو سو تحقیقی جرائد شائع ہو رہے ہیں۔ ہر پی ایچ ڈی کے مقالے کے لئے بیرون مُلک یونیورسٹی سے ایک بیرونی ممتحن لازمی قرار پایا ہے۔ہر سال نو ہزار سے زیادہ عالمی معیار کے تحقیقی مقالات کی اشاعت ہوئی ہے۔90کے قریب جامعات میں کوالٹی انہانسمنٹ سیل کام کر رہے ہیں،جبکہ کیفیتی تیقن کی ایجنسی بھی قائم کر دی گئی ہے۔ تعلیمی پسماندگی کے شکار علاقوں کے لئے خصوصی فنڈز جاری کئے گئے۔ تمام صوبوں کو یکساں مواقع فراہم کر کے قومی یکجہتی میں متحرک کردار ادا کیا گیا۔ انڈسٹری اکڈیمیا لنکجز اور انٹرپینیور شپ بز نس انکوبیشن سنٹرز جیسے تصورات کو متعارف کروایا گیا۔الغرض اس کمیشن نے گذشتہ پندرہ سال میں ادارے کے کردار کی بہتر مثال قائم کی ہے۔ تمام تر ترقی اور کارناموں کے باوجود یہ ادارہ چند سال شدید دباؤ اور تنقید و مباحثے کا بھی شکار رہا اور تنزلی کے خطرات کا سایہ بھی اس پر رہا ، تاہم ڈاکٹر مختار احمد جیسی حوصلہ مند اور صاف ستھرے فکر و عمل کی حامل شخصیت کی قیادت نصیب ہونے کے بعد ایک بار پھر اس کی جلوہ افروزیاں قومی اُفق پر جگمگانے لگی ہیں۔

علمی معیشت اور معلوماتی معاشرت میں برق رفتار تبدیلیوں سے جو قومی چیلنج نمودار ہو رہے ہیں، ڈاکٹر مختار احمد کی رہنمائی میں یہ ادارہ ان کا مقابلہ کرنے کی سعی میں شب و روز مصروفِ عمل ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے شفاف سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر کی بہتری، کاروباری دُنیا اور صنعتی شعبہ سے مضبوط روابط کے لیے قابل عمل پالیسیوں پر گامزن ہے۔ اعلیٰ تعلیم کی ثقافت کو فروغ دئیے بغیر جدیدیت سے آنکھیں نہیں ملائی جا سکتیں۔ اعلیٰ تعلیم ہی وہ راستہ ہے، جس پر چل کر دیگر اقوام نے ترقی کی ہے اور اپنی معیشتوں کو توانائی فراہم کی ہے۔ ہمیں بھی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لئے اس ادارے کی کارکردگی کو سراہنا ہو گا اوراعلیٰ تعلیم کے کمیشن کو مزید مؤثر بنانے کے لئے اس ادارے کے شانہ بشانہ ہونا چاہئے۔ ستمبر اعلیٰ تعلیم کے فروغ کا خواب دیکھنے والوں کے لئے تجدید عہد کا مہینہ ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے پالیسی سازوں کو نئی حکمت عملیوں، فکری تنوع اور کیفیتی معیار کی بڑھوتری میں اضافے، تعاون اور جدیدیت کو اپنی پالیسیوں کا محور بنانا ہو گا۔ ایسا لائحہ عمل جو قومی سطح پر خیالات کی سانجھ کا سبب بنے اور باہمی طور پر عمل پذیر بھی ہو۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن محض ایک ادارہ یا تنظیم نہیں ہے، بلکہ یہ قومی ارمانوں، تمناؤں اور مقاصد کو حقیقت کا روپ بخشنے والا مرکز فضیلت ہے۔ یہ ادارہ نہیں ادارہ ساز ادارہ ہے، ہمیں قوی اُمید ہے کہ یہ اعلیٰ تعلیم کے مراکز و اداروں کو قومی تقاضوں اور ملّی ضروریات سے ہم آہنگ کرکے علمی ثقافت پیدا کرنے کے قابل بنائے گا۔ ایسے کثیر خرچ اداروں کا مقصد صرف تدریس کے عمل اور ڈگری کی تقسیم کو بڑھانا نہیں ہوتا، بلکہ ایسے ادارے مُلک و قوم کی تقدیر بدلنے والی علمی ثقافت کے نصب العین کو فروغ دینے کے ضامن ہوتے ہیں۔ ایسے اداروں کی کارکردگی کو منطقی انداز میں پرکھنے اور ان کے ثمرات کو سراہنے کی بھی اشد ضرورت ہے تاکہ ثمر آور سفر جاری رہ سکے۔مَیں اور میری جامعہ پاکستانی جامعات اور اعلیٰ تعلیم سے محبت کرنے والے افراد کی نمائندگی کرتے ہوئے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو کامیابیوں کے پندرہ سالہ سفر کی تکمیل پر مبارکباد پیش کرتے ہیں، ڈاکٹر مختار احمد کی علم دوست شخصیت کی قیادت میں اس کے قابلِ تحسین کردار کو سراہتے ہیں اور آنے والے سالوں میں مزید کامیابیوں کے لئے دعا گو ہیں۔

مزید : کالم