عزیز بھٹی شہید ’’جنگِ ستمبر1965ء کے عظیم ہیرو‘‘

عزیز بھٹی شہید ’’جنگِ ستمبر1965ء کے عظیم ہیرو‘‘
 عزیز بھٹی شہید ’’جنگِ ستمبر1965ء کے عظیم ہیرو‘‘

  



میجر عزیز بھٹی شہید (نشانِ حیدر) جنگ ستمبر 1965ء کے ایک ایسے ناقابلِ فراموش کردار ہیں، جن کی مادرِ وطن کے لئے دی جانے والی لازوال قربانی، حوصلہ مندی اور بے جگری کے اہلِ پاکستان اور عسکری حلقے معترف ہیں۔

میجر عزیز بھٹی 6اگست 1923ء بروز سوموار ہانگ کانگ میں پیدا ہوئے ،جو اس وقت حکومتِ برطانیہ کی کالونی کی حیثیت رکھتا تھا۔ ان کے والد ماسٹر محمد عبداللہ بھٹی وہاں بسلسلہ ملازمت اپنے اہل وعیال سمیت سکونت پذیر تھے۔ میجر عزیز بھٹی نسبی لحاظ سے کشمیری النسل راجپوتوں کی مشہور شاخ ’’بھٹی‘‘ سے تعلق رکھتے تھے ان کے آباؤ اجداد 1844ء کے لگ بھگ خط�ۂ کشمیر کی ایک بستی ’’دیودرگڑ‘‘ سے نقل مکانی کرکے پنجاب کے شہر گجرات کے ایک چھوٹے سے گاؤں ’’لادیاں‘‘ میں آکر آباد ہوئے۔ میجر بھٹی نے ہانگ کانگ ہی سے مڈل اور میٹرک کے امتحانات پاس کئے۔ ان کی شاندار تعلیمی قابلیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پرنسپل کو ئنز کالج کی پُر زور سفارش پر حکومت برطانیہ نے ان کو سرکاری خرچہ پر برطانوی یونیورسٹی سے پوسٹ گریجویٹ کورس اور تربیت حاصل کرنے کے بعد ہانگ کانٹ ہی میں ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں ممتاز عہدہ پر فائز کرنے کی پیشکش کی،مگر اسی اثناء میں دوسری جنگِ عظیم کی ابتدا ہوگئی اور اس دوران میں جاپان کے ہانگ کانگ پر قبضہ کے باعث ان کا اعلیٰ تعلیم کے حصول کا خواب ادھورا ہی رہ گیا۔ ہانگ کانگ پر جاپانی تسلط قائم ہونے کے بعد وہاں کے حالات نہایت مخدوش ہو گئے اور شدید معاشی بحران کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ اس غیر یقینی صورتِ حال کے پیش نظر عزیز بھٹی کا خاندان دسمبر 1945ء میں ہانگ کانگ سے واپس لادیاں گجرات آ گیا۔ جون 1946ء میں عزیز بھٹی اپنے ہی خاندان میں محترمہ زرینہ اختر سے رشت�ۂ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ اِسی سال وہ انڈین ائیر فورس میں ائیر مین کے عہدے پر فائز ہوگئے۔

قیام پاکستان کے بعد عزیز بھٹی نے 1948ء میں پاک فوج میں کمیشن کے لئے درخواست دے دی اور بعدازاں وہ اپنی شدید محنت وقابلیت کی بنا پر 1950ء میں پنجاب رجمنٹ میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کے عہدہ پر فائز ہوئے۔ 4فروری 1950ء کو پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول (ایبٹ آباد) کے فرسٹ ریگولر کورس کی پاسنگ مرحوم نے کیڈٹس سے خطاب کیا۔ انہوں نے راجہ عزیز بھٹی بٹالین سینئر انڈر آفیسر کو اکیڈمی کے دوسالہ کورس میں عسکری اور تعلیمی دونوں اعتبار سے بطور بہترین کیڈٹ ایک شمشیر اعزازی اور طلائی تمغہ عطا کیا۔ میجر عزیز بھٹی نے اپنے فوجی کیرئیر کے دوران متعدد پیشہ ورانہ کورسز بھی کئے،جن میں سے چند کی تفصیل نذرِ قارئین ہے۔

1950ء اور1951ء میں کوئٹہ سے بالترتیب ویپن کورس اور انٹیلی جنس کورس کیا اور انٹیلی جنس کورس میں اول آئے۔ وہ اپنی کم فوجی سروس کے باوجود اپنی شاندار علمی و عسکری قابلیت کی بنا پر کنگسٹن سٹاف کالج کینیڈا میں کورس کے لئے منتخب کرلئے گئے۔ اس کورس کی تکمیل کے لئے کینیڈا روانی سے قبل ہی ان کو کیپٹن سے میجر کے عہدہ پر فائز کردیا گیا۔ وہ نومبر 1956ء میں امتیازی حیثیت سے مذکورہ کورس پاس کرکے واپس آگئے۔ علاوہ ازیں انہوں نے 1960ء میں جرمن انٹر پریٹر شپ کورس میں اول پوزیشن حاصل کی۔ وہ پاک فوج میں جرمن زبان کے سرکاری ترجمان کی حیثیت حاصل کی۔ ان کو انگریزی، چینی، جاپانی، جرمن، اُردو اور پنجابی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔

میجر عزیز بھٹی ایک ذمہ دار فوجی آفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک راسخ العقیدہ مسلمان بھی تھے۔ وہ نماز کا اہتمام پابندی کے ساتھ کرتے تھے اور دوسرے مجبور و مظلوم افراد کا ساتھ دینے میں فرحت محسوس کرتے تھے۔ وہ سادہ طرز زندگی گزارنے والے عظیم المرتبت انسان تھے۔

1965ء میں رن آف کچھ کے محاذ پر بھارتی سینا کو پاکستانی افواج کے ہاتھوں شدید ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا،چنانچہ اپنی شکست کا داغ دھونے اور اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے بھارت نے 6ستمبر 1965ء کو لاہور پر اچانک علی الصبح حملہ کر دیا۔ دشمن کے جنگی طیاروں نے بزدلی و کمینگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیر آباد ریلوے سٹیشن پر کھڑی ایک مسافر ٹرین کو بھی بمباری کا نشانہ بنایا۔

جنگِ ستمبر1965ء کے دوران میجر عزیز بھٹی کی پوسٹنگ لاہور سیکٹر میں برکی کے محاذ پر ہوئی۔ بی آر بی نہر دفاعی نقطہ نظر سے نہایت اہمیت کی حامل تھی اور اب بھی ہے۔دشمن بی آر بی کو عبور کر کے لاہور شہر میں وارد ہونا چاہتا تھا،مگر میجر عزیز بھٹی ان کے مذموم ارادوں کی راہ میں آہنی دیوار ثابت ہوئے۔ برکی کے حساس اور دفاعی اعتبار سے نازک ترین جنگی محاذ پر انڈین آرمی کی ایک بریگیڈ کے مقابل میجر عزیز بھٹی کی کمان میں17پنجاب رجمنٹ کی ایک پلاٹون تھی،جس میں صرف 148 جوان شامل تھے۔قوم کے اس عظیم جری سپوت نے بھارتی سینا کا 148 گھنٹے تک پوری دلیری اور شجاعت کے ساتھ مقابلہ کیا۔ انہوں نے اپنی جنگی حکمتِ عملی اور لازوال جذبہ ایمانی کے ساتھ جنگ کے پہلے روز ہی دشمن کی پیش قدمی روک کر اُسے زبردست جانی نقصان سے دو چار کیا۔ انہوں نے دشمن کا بے شمار سامانِ حرب (جن میں جنگی ٹینک بھی شامل تھے)تباہ کر کے رکھ دیا۔ میجر عزیز بھٹی کی کمان میں 6سے12ستمبر تک مسلسل چھ دن اور چھ راتیں دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے برکی کے محاذ پر صرف11جوان شہید ہوئے،جو کہ آپ کی عسکری حکمتِ عملی اور قابلیت کا حیرت انگیز کارنامہ ہے۔

بحیثیت کمپنی کمانڈر میجر عزیز بھٹی کی پوسٹ ریزرو پلاٹون نمبر3 کے ساتھ بی آر بی نہر کے دائیں کنارے پر تھی،مگر آفرین ہے اس پیکر جرأت پر جس نے سب سے پیچھے رہ کر اپنی کمپنی کو لڑانے کی بجائے سب سے آگے او پی پوسٹ پر قیام کو ترجی دی۔اُن کے کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل محمد ابراہیم قریشی نے اُن کو آرام کی غرض سے واپس پچھلے مورچوں پر آنے کے لئے کہا،مگر میجر عزیز بھٹی نے معذرتی رویہ اختیار کرتے ہوئے انہیں یہ تاریخی کلمات کہے ’’مَیں آرام نہیں کرنا چاہتا مَیں واپس نہیں آؤں گا،بلکہ اپنے پیارے وطن کی حفاظت کرتے ہوئے جام شہادت پسند کروں گا‘‘۔ آخر کار 12ستمبر 1965ء کا آفتاب طلوع ہوا۔ وہ مسلسل دوربین سے بی آر بی نہر کے کنارے پر کھڑے دشمن کی نقل و حرکت کا بغور مشاہدہ کر رہے تھے،اسی اثناء میں انہیں برکی سے نہر کی طرف بڑھتے ہوئے دشمن کے چند ٹینک دکھائی دیئے جن کے عقب میں پیادہ بھارتی فوجی دستے بھی دھیرے دھیرے پیش قدمی کر رہے تھے۔میجر عزیز بھٹی نے ڈگری دے کر اُن پر فائر کرایا،مگر بدقسمتی سے گولہ صحیح نشانہ پر نہ لگ سکا۔انہوں نے دوبارہ فائر کا اپنا پیغام پاس کیا اس مرتبہ گولے اپنے درست نشانوں پر لگے اور نتیجتاً دشمن کے دو جنگی ٹینک تباہ ہو گئے۔اتنے میں اچانک سامنے والی سمت سے ایک گولہ آیا اور میجر عزیز بھٹی کے قریب ہی شیشم کے پیڑ کو کاٹتا ہوا نیچے گرا۔گردو غبار کا ایک طوفان سا اُٹھا، فوجی جوان مجھے شاید میجر عزیز بھٹی گولے کی زد میں آ کر زخمی ہو گئے ہیں وہ دوڑ کر مدد کے لئے آگے بڑھے،لیکن میجر عزیز بھٹی گولے کی زد میں آنے سے بال بال بچ گئے تھے۔انہوں نے جوانوں سے کہا:’’آپ لوگ فوراً واپس اپنی پوزیشنوں پر چلے جائیں‘‘۔اس کے بعد میجر عزیز بھٹی دوبارہ دور بین لے کر ان پُر خطر حالات میں دشمن کی نقل و حرکت کا بغور جائزہ لینے ہی والے تھے کہ اچانک دشمن کے ایک ٹینک کا گولہ آیا جو اُن کے سینے کو چیرتا ہوا دائیں پھیپھڑے سے پار نکل گیا۔ وہ منہ کے بل زمین پر گر پڑے اور یوں ارضِ پاک کے اِس عظیم جری سپوت نے مادرِ وطن کے دفاع اور سبز ہلالی پرچم کے وقار اور سربلندی کے لئے اپنی جان قربان کر دی۔ اُن کے کی آخری آرام گاہ لادیاں گجرات میں ہے۔اُن کی عظیم قربانی،شجاعت اور کارنامے کا اعتراف کرتے ہوئے صدرِ پاکستان فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان نے 23مارچ1966ء کو یوم جمہوریہ کے موقع پر میجر عزیز بھٹی شہید کو پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز نشانِ حیدر عطا کیا جسے اُن کی بیوہ محترمہ ’’زرینہ اختر بھٹی‘‘ نے وصول کیا۔ میجر عزیز بھٹی شہید قوم کے حقیقی ہیرو ہیں جنہوں نے ہمارے کل کے لئے اپنا آج قربان کر دیا۔ جب تک پاکستانی قوم میں میجر عزیز بھٹی شہید جیسے جری، بلند حوصلہ اور کوہ پیکر عزم سپوت ہیں پاکستان قائم رہے گا۔

اے راہِ حق کے شہیدو وفا کی تصویرو!

تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہی

مزید : کالم