نائن الیون کی کہانی کا یہ حقیقی پہلو

نائن الیون کی کہانی کا یہ حقیقی پہلو
نائن الیون کی کہانی کا یہ حقیقی پہلو

  



9/11 کو گزرے 14 برس ہو گئے ہیں۔آج بھی دنیا میں اس افسوس ناک واقعے کو دیکھ کر لوگوں پر دہشت اور ہیبت چھا جاتی ہے۔امریکی حکومت کے مطابق 11 ستمبر 2001 کو چار مسافر ہوائی طیارے اغوا ہوئے جو نیو یارک کے مشہور و معروف ٹریڈ سینٹر سے ٹکرا دئیے گئے تھے۔ ٹوونزٹاور دیکھتے ہی مٹی، خاک اور گرد کا ڈھیر بن گئے۔ امریکہ سمیت دنیا کے تمام ممالک میں اس سانحے کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا۔ امریکہ کی خفیہ انٹیلیجنس رپورٹ کے مطابق اس حملے کی منصوبہ بندی القاعدہ و طالبان نے مل کر کی جس کے بعد افغانستان میں امریکہ نے طالبان اور القاعد ہ کو ختم کرنے کے لئے حملہ کر دیا۔ جس پر آج تک کئی سوال اٹھائے جارہے ہیں۔

نیویارک سٹی میں واقع ٹریڈ سینٹر کا ساوتھ ٹاور9:59 منٹ پر صرف 10 سیکنڈ میں گر گیا۔ 10:29 پر نارتھ ٹاور بھی زمین بوس ہو گیاجس کو بھی 10 سیکنڈ لگے ۔اس کے بعد ورلڈ ٹریڈ سینٹر 7 بھی مٹی اور خاک میں تبدیل ہو گیا۔ شام کو 5:20 منٹ پرورلڈ ٹریڈ سینٹر کی 47 منزلہ عمارت جس میں امریکی کی نیشنل سیکورٹی آفس جن میں امریکی سی آئی اے، حکومتی دفاع، سیکرٹ سروس، آئی آر ایس سمیت انتہائی حساس اداروں کے دفاتر تھے صرف 45 سیکنڈ میں تمام فلورزمین بوس ہو گئی۔ یہاں ایک بات جو بہت ہی حیران کن ہے کہ اطراف کی تمام عمارتیں اپنی جگہ پر صحیح و سلامت قائم دائم رہی۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی یہ بلند بالا عمارت نارتھ ٹاور سے 200 فٹ کے فاصلے پر واقع تھی جورہتی دنیا کے عبرت کا نشان چھوڑ گئی۔

سرکاری انوسٹی گیشن رپورٹ کے مطابق ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا ملبہ گرنے سے آگ کے شعلے بڑھ اٹھا جس نے پوری بلڈنگ کو اپنی گرفتار میں لے لیاجس سے بلند بالا عمارت میں ایندھن نے آگ پکڑ لی جس سے عمارت لمحوں میں مٹی اور خاک کا ڈھیر بن گئی۔ دنیا کی تاریخ میں دو ٹوونز ٹاور اور تیسری عمارت ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی ہے جو آگ اور ایندھن کے دباؤ سے تباہ ہوئی۔ دنیا کی تاریخ میں کئی بلند و بالا عمارتوں میں آتش زدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے لیکن کسی میں بھی عمارت مٹی اور ملبہ کا ڈھیر نہیں بنی۔ تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ آگ نے کئی ٹاورز اور عمارتوں کو جلا یالیکن جلنے کے باوجود یہ عمارت قائم رہیں۔ مثلاً

28 جولائی 1945 کو ائر فورس کا بی بمبارہ طیارہ موسم کی خرابی اور دھند کے باعث ایمپائر سٹیٹ ٹاور کی بلند بالا عمارت کی 88 فلور سے ٹکرا گیا جس میں 22 افراد لقمہ اجل بن گئے جب کہ ایمپائر سٹیٹ ٹاورآج بھی بھر پور طور پرقائم ہے۔

14 فروری 1975 کو نارتھ ٹاور کی 10 سے14 فلور پر آگ لگ گئی ، ریسکیو کے کام کے بعد ماہرین نے عمارت کا معائنہ کرنے کے بعد اس کو استعمال کے لئے موزوں قرار دیا گیا۔

4 مئی 1988 کو لاس اینجلس کی 62 منزلہ عمارت میں آتش زدگی کا واقعہ پیش آیاجس کی عمارت کی 5 منزلہ کو گھیر لیا۔ 7 گھنٹوں کی تگ و دو کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیالیکن عمارت مضبوطی سے قائم رہی۔

فیلے ڈیلفیا میں23 فروری 1991 کو 38 فلور پر مشتمل بلند بالا عمارت کی8 منزلہ پر آگ لگی جس کو 23 گھنٹے بعد بجھادیاگیا لیکن اس کے باوجود یہ عمارت آج بھی اپنی بنیادوں پر کھڑی ہے۔ اس عمارت کو 23 جولائی 1973 کو تعمیر کیا گیا۔

وینزویلا 17 اکتوبر 2004 میں 57 منزلہ بلند بالا عمارت کی 26 فلور پر آگ 24 گھنٹے تک لگی رہی لیکن یہ عمارت کھڑی رہی جس کو بعد میں تعمیر نو میں لایاگیا۔

1973 میں تعمیر ہونی 110 فلور پر مشتمل دو بلند بالا ٹاور 11 ستمبر 2001 کو چند لمحو ں میں مٹی ، گرد کے بادلوں میں تبدیل ہو گئے۔

دنیا کے فرانزک ماہرین آج بھی اس بات کو سمجھنے سے قاصرہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے آگ ان دو نوں ٹاورز کی صرف 4 منزلہ تک آگ پھیلی جس کے ایک سے دو گھنٹے کے دوران یہ خاک کا منظر پیش کرنے لگے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق نیویارک کے ان ٹاورز کی تعمیر میں بہت بڑی کثیر رقم خرچ ہوئی۔ ٹاروز کی تعمیری ساخت میں ڈھائی لاکھ ٹن لوہے کے اسٹیل، پانچ لاکھ کیوبک یاڈ کنکرڈ کے ساتھ فلورز کے رابطہ کے لئے 105 ڈیجیٹل لفٹ، 44 ہزار کھڑکیاں، ٹاوز میں 7 ہزار وزنی کولنگ سسٹم مشینری ، 360 فٹ اونچا ٹی وی انٹینا پر مشتمل تھا۔ وریڈ ٹریڈ سینٹر ز کو تمام ممکن خطرات کے پیش نظر ڈائیزائن کیا گیا تھاجن میں طوفان و ہوائیں، زلزلہ ، آتشزدگی اور ممکن فضائی حملے سے بچاؤ کو مد نظر رکھا گیا۔ امریکی حکومت کے مطابق یہ مضبوطی کا شکار ٹاورز صرف 10 ہزار گیلن فیول سے تباہ ہو ئے۔

دنیا کے ماہرین، انجئیرنگ، آرکیٹکنگ ، بلڈرزامریکی حکومت کے اس دعوے کو ماننے کو تیار نہیں۔ فرانزک رپورٹ، ویڈیوز رپورٹ کے مطابق یہ بیان بالکل غلط ہے کہ صرف طیاروں کے ٹکرانے سے دونوں ٹاورزمندہم ہوئے، یہ ایک فلمی سین کے طور پر ناظرین کے سامنے پیش تو کیا جا سکتا ہے لیکن حقیقت میں ایسا ہوتا نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسا اْس وقت ہو سکتا ہے کہ ان ٹاورز میں دھماکہ انگیز مواد پہلے سے چھپا کر رکھا گیا تھا جس کی بنیاد پر ٹاورز مکمل طور پر تباہ ہو گیا ورنہ صرف جہاز کے اندر فیول سے یہ ممکن نہیں۔عینی شاہد ین اورآفس کے ملازمین کے انٹرویوز اور رپورٹ کے مطابق اس وقت ٹاورز میں کئی دھماکے ہوئے جس کے باعث بڑے پیمانے پر ہلاکت ہوئی۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ