’2001ءمیں 9/11 حملوں سے 3 ماہ پہلے میری قندھار میں اسامہ بن لادن سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھے بتایا کہ دیکھنا اب ہم۔۔۔‘ عرب صحافی نے اسامہ بن لادن کے بارے میں ایسا راز بے نقاب کردیا کہ پوری دنیا دنگ رہ گئی

’2001ءمیں 9/11 حملوں سے 3 ماہ پہلے میری قندھار میں اسامہ بن لادن سے ملاقات ہوئی، ...
’2001ءمیں 9/11 حملوں سے 3 ماہ پہلے میری قندھار میں اسامہ بن لادن سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھے بتایا کہ دیکھنا اب ہم۔۔۔‘ عرب صحافی نے اسامہ بن لادن کے بارے میں ایسا راز بے نقاب کردیا کہ پوری دنیا دنگ رہ گئی

  

دبئی  (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا پر 11 ستمبر 2001 کے دن وہ قیامت ٹوٹی کہ جس کا دنیا کی واحد سپر پاور نے کبھی خواب میں بھی تصور نہ کیا تھا۔ کون سوچ سکتا تھا کہ امریکا جیسے ملک پر بھی یہ وقت آ سکتا ہے کہ کوئی دشمن اچانک اس پر ایسا خوفناک حملہ کرے کہ اس کی بنیادی تک ہل جائیں۔ اس روز ہونے والی دہشگردی کو دنیا آج تک نائن الیون کے نام سے یاد کرتی ہے۔

اگرچہ امریکا کی طرح ساری دنیا کے لئے ہی یہ اچانک رونما ہونے والا واقعہ تھا لیکن افغانستانوں کے پہاڑوں میں بیٹھے ایک شخص نے تین ماہ قبل ہی ایک بین الاقوامی صحافی سے بات کرنے ہوئے اشارہ دے دیا تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔ یہ شخص القاعدہ کا سربرہ اسامہ بن لادن تھا، جسے بعد ازاں نائن الیون حملوں کا ماسٹر مائنڈ اور اصل ذمہ دار قرار دیا گیا۔

بھارتی ایٹمی سائنسدان کی لاش ا یسی حالت میں برآمد کہ پورے علاقے میں خوف پھیل گیا

عرب نیوز میں شائع ہونے والے اپنے خصوصی مضمون میں صحافی باقر عطیانی اس ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں، ”یہ جون 2001کی بات ہے جب میں اسامہ بن لادن کے انٹرویو کےلئے افغانستان گیا۔ مجھے قندھار پہنچنے میں تین دن لگے، اور اس سفر کے دوران عثمان نامی شخص میرے ساتھ تھا جسے اسامہ بن لادن نے میرے انٹرویو کےلئے انتظامات کی ذمہ داری سونپی تھی۔

ہم قندھار شہر سے نکلے اور ریگستان سے ہوتے ہوئے پہاڑوں کی جانب گئے۔ طویل سفر کے بعد ہم ایک قلعہ نما عمارت کے سامنے تھے جہاں سخت سکیورٹی انتظام تھا اور اتنا اسلحہ جمع تھا کہ جس سے پورے شہر پر قبضہ کرنا ممکن ہو۔ سخت چیکنگ کے بعد مجھے بالآخر ایک کمرے کی جانب جانے کا اشارہ کیا گیا۔ کمرے کے وسط میں روایتی عرب لباس میں ملبوس وہ شخص کھڑا تھا جسے دنیا اسامہ بن لادن کے نام سے جانتی ہے۔ ا ن کے پاس AK 47 رائفل تھی اور ایمن الظواہری بھی ہمراہ تھے۔اسامہ بن لادن نے کہا کہ وہ کھل کر بات نہیںکریں گے کیونکہ ان کا طالبان کے ساتھ معاہدہ ہے کہ میڈیا کے ساتھ بات چیت سے پرہیز کریں گے۔

میں نے ان سے کہا کہ بتائیے آپ مجھے کیا خبر دینا چاہتے تھے۔ بن لادن کہنے لگے کہ وہ خبر جلد ہی ہونے والے کچھ حملوں کے بارے میں ہے۔ اس موقع پر القائد کے عسکری سربراہ ابو حفص نے کہا ’آنے والے چند ہفتوں میں بہت بڑا سرپرائز ملنے والا ہے۔ ہم امریکی اور اسرائیلی تنصیبات پر حملہ کرنے والے ہیں۔‘ پھر انہوں نے مزید کہا ’امریکا میں تابوتوں کا کاروبار بڑھنے والا ہے۔‘ میں نے اسامہ بن لادن کی جانب دیکھا اور انہوں نے اثبات میں سر ہلا کر اس بات کی تصدیق کی۔

ملاقات کے اختتام پر اسامہ بن لادن کا کہنا تھا کہ اپنے مقصد میںکامیابی کے بعد وہ مجھے دوبارہ انٹرویو کے لئے بلائیں گے۔ انہوں نے کہا ’اگر کوئی بڑا واقعہ ہوا تو میں قبائلی علاقے میں روپوش ہوں گا۔ تب تم میرا انٹرویو کرنے وہاں آ سکتے ہو۔‘ کسی بڑے واقعے سے اس کی کیا مراد تھی، اس کا انکشاف 11 ستمبر کے دن اس وقت ہوا جب امریکا میں تاریخ کی سب سے بڑی دہشتگردی کا واقعہ ہوا، اور تین ہزار افراد اس واقعے میںلقمہ اجل بن گئے۔“

مزید :

عرب دنیا -