مخصوص درآمدات پر پابندی۔۔۔ایک حل یہ بھی ہے

11 ستمبر 2018

حکومت کے معاشی ماہرین آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکج سے بچنے کے لئے ایک وسیع بنیاد حکمتِ عملی کے تحت لگژری کاروں، سمارٹ موبائل فونز اور پنیر کی درآمد پر پابندی لگانے پر غور کر رہے ہیں، ابھی تک اس بارے میں حتمی فیصلہ نہیں ہوسکا، لیکن نو منتخب اقتصادی مشاورتی کونسل کی طرف سے پاکستان کے پھیلتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو قابو کرنے کے لئے اقدامات پر غور کیا جارہا ہے، اس سلسلے میں منعقدہ اجلاس میں جس کی صدارت وزیر خزانہ اسد عمر نے کی فوکس ایسے غیر روایتی آئیڈیاز پر غور کرنا تھا جن کے تحت درآمدات کم کی جاسکیں کونسل کے کسی بھی رُکن نے یہ رائے نہیں دی کہ بیل آؤٹ پیکج کے لئے آئی ایم ایف کے پاس جایا جائے ، اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس طرح 4.5 ارب ڈالر بچائے جاسکتے ہیں جبکہ اس عرصے کے دوران برآمدات بڑھا کر اضافی طور پر 2بلین ڈالر کا زرمبادلہ بھی کمایا جاسکتا ہے۔

تو تشکیل شدہ قومی اقتصادی کونسل میں جس معیشت دان کی جادوگریوں کے چرچے پانچ سال سے ایک منصوبے کے تحت کئے جارہے تھے وہ تو اتفاق سے قادیانی نکل آئے اگرچہ چند دن تک حکومت نے اُن کا دفاع کرنے کی بڑی کوششیں کیں حکومت سے باہر بھی چند روشن دماغ اُن کی صلاحیتوں کے چرچے کرتے پائے گئے لیکن اہلِ ایمان کے ایمانی جوش اور ولولے نے کام دکھایا اور حکومت کو اس رُکن کی نامزدگی واپس لینی پڑی، جس پر اس معیشت دان کے دو دوسرے حامی بھی یکے بعد دیگرے کونسل سے الگ ہوگئے، کہا جارہا ہے کہ ابھی دو مزید حضرات بھی کونسل سے نکل جانے کے لئے پر تول رہے ہیں اگر ایسا ہوتا ہے تو قومی اقتصادی کونسل مجموعی طور پر پانچ ارکان کی ’’خدمات‘‘ سے فائدہ اُٹھانے سے محروم رہے گی، تاہم جو بھی ماہرین اس اجلاس میں شریک تھے اُن کے ہنر کا شاہکار، اس شکل میں سامنے آیا ہے کہ لگژری گاڑیوں، سمارٹ فونز، پھلوں اور پنیر کی درآمد بند کردی جائے تو ساڑھے چار ارب ڈالر بچائے جاسکتے ہیں ویسے اگر اپنے اقتصادی دانشوروں کی اس دانش کی روشنی میں مزید آگے بڑھا جائے تو درجنوں نہیں سینکڑوں ایسی اشیا کی درآمد بند کی جاسکتی ہے جو بہر حال لگژری کی ذیل میں آتی ہیں اور پاکستان کی آمدنی کے موجودہ سٹرکچر میں صرف وہی شخص ایسی درآمدی اشیا کی مہنگے داموں خریداری کی عیاشیوں کا متحمل ہوسکتا ہے جس کی آمدنی لامحدود ہویا اس نے کسی نہ کسی طرح سے دولت کے انبار جمع کر رکھے ہوں چند ماہ پہلے ایک بیوروکریٹ کے گھر سے صرف کرنسی نوٹوں کی اتنی زیادہ تعداد پکڑی گئی تھی کہ اسے گنتے گنتے نوٹ گننے والی مشینیں بند ہوگئی تھیں اور جو اہل کار ہاتھوں سے گنتی کررہے تھے اُن کی انگلیاں فگار ہوگئی تھیں ایسے لوگ تو اگر صبح شام سونے کا نوالہ بھی کھائیں تو ان کی دولت کم نہیں ہوتی لیکن انتہائی معقول آمدنی والے لوگ بھی ان لگژری اشیا کی خریدار کے متحمل نہیں ہوسکتے جودرآمد( یاسمگل) ہو کر ہمارے ہاں فروخت ہو رہی ہیں ہم اپنے اقتصادی ماہرین کو تجویز کریں گے کہ وہ اگر درآمدات بند کرنے کے ہی حق میں ہیں تو پھرکیوں نہ ان کا دائرہ وسیع تر کردیا جائے ایسی صورت میں صرف ساڑھے چار ارب ڈالر ہی نہیں دس ارب ڈالریا اس سے زیادہ بھی بچائے جاسکتے ہیں اور وزیر خزانہ اسد عمر ریکارڈ پر ہیں کہ موجودہ حالات میں حکومت کو ضرورت بھی صرف نو دس ارب ڈالر کی ہے اور اگر آئی ایم ایف کے پاس بیل آؤٹ پیکج کے لئے بھی جانا ہے تو بھی کم و بیش اتنی ہی رقم کا پیکج طلب کیا جائیگا۔

اگر حکومت کے معاشی ماہرین دس ارب ڈالر ہی بچانا چاہتے ہیں تو اس کے لئے صرف درآمدات کو محدود کرنے تک کیوں اکتفا کیا جائے حکومت کے پاس بچت کے اور بھی بہت سے طریقے ہیں اور ہمارے خیال میں اگر اُن پر عمل کیا جائے تو دس ارب ڈالر سے بھی کہیں زیادہ رقم مستقل طور پر بچائی جاسکتی ہے۔ ہم صرف ایک شعبے کی نشان دہی کریں گے اور وہ ہے سرکاری گاڑیوں کا بے تحاشا اور بے مصرف استعمال، حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر ان سرکاری گاڑیوں کے اعدادوشمار ایک جگہ جمع کرے جو کسی بھی وفاقی یا صوبائی محکمہ ، خود مختار کارپوریشن یا کسی بھی ایسے ادارے کے ملازمین کے زیر استعمال ہیں جن کا بوجھ سرکاری خزانے پر پڑتا ہے۔اس وقت ہو یہ رہا ہے کہ سرکاری گاڑیاں صرف سرکاری افسر یا اہل کار ہی استعمال نہیں کرتے ان کے اہل خانہ بھی ان گاڑیوں کو بے تحاشا اور بے مقصد چلاتے ہیں جس کی وجہ سے ایک تو ان گاڑیوں میں پٹرول بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے دوسرے ان کی توڑ پھوڑ بھی زیادہ ہوتی ہے اور جو گاڑی آسانی سے دس پندرہ سال چل سکتی ہے وہ پانچ سال میں ہی کھٹارہ ہوجاتی ہے۔ پھر اسے کسی ورک شاپ میں کھڑا کر دیا جاتا ہے اور ’’صاحب‘‘ کو نئی گاڑی دے دی جاتی ہے ہم نے کوئی اعدادوشمار تو جمع نہیں کئے لیکن اندازہ ہے کہ ملک بھر میں ایسی لاکھوں گاڑیاں مختلف محکموں اور دوسرے سرکاری اداروں کے افسر چلا رہے ہوں گے۔سرکاری گاڑی کا استعمال ایک سہولت ہے جو حکومتیں اپنے ملازمین کو دیتی ہیں لیکن اگر ہم بچت کے سفر پر نکلے ہوئے ہیں اور ہمارے ماہرین معاشیات کی نظر پھلوں اور پنیر پر بھی پڑی ہے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ اپنی نگاہ کا دائرہ ذرا وسیع کریں حکومت کو فوری طور پر سرکاری ملازمین کو دی جانے والی سہولت واپس لے لینی چاہیے اور یہ سرکاری گاڑیاں فروخت کر دینی چاہیں اس سے ایک تو یہ ہوگا کہ اربوں روپے کی آمدنی فوری طور پر ہوجائے گی اور ان پر جو پٹرول خرچ ہو رہا ہے وہ بھی بند ہو جائے گا، اس طرح پٹرول کی درآمد بھی کم ہوگی اور یہ خرچہ بھی بچے گا، سرکاری ملازمین کو پابند کر دیا جائے کہ وہ اپنی نجی گاڑیوں پر دفتر آئیں اور واپس جائیں ۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ وہ اپنی گاڑیوں کا شاہی استعمال بند کر دیں گے تو پٹرول کی مزید بچت ہو گی کیونکہ اس وقت ہو یہ رہا ہے کہ سرکاری گاڑیوں کے بے محابا استعمال کی وجہ سے پٹرول کا خرچ بھی بہت زیادہ ہوتا ہے جن افسروں اور ملازمین کے پاس اپنی گاڑیاں نہیں ہیں وہ بسوں ،ویگنوں، رکشوں کے ذریعے اور دوسرے دستیاب وسائل استعمال کرکے دفتر آئیں۔ اس ایک مد میں ہی اتنی بچت ہو جائے گی کہ نہ صرف آئی ایم ایف کے پاس نہیں جانا پڑے گا بلکہ بہت سی ایسی رقم بھی بچ جائے گی جو ڈیم فند میں دی جا سکتی ہے یہ بحث بھی مستقل نوعیت کی ہو گی اور بجٹ خسارہ ایک دم قابو میں آ جائیگا لیکن شرط صرف یہ ہے کہ سرکاری گاڑی کوئی بھی استعمال نہیں کرے گا اوپر سے نیچے تک ہر کسی کو اپنی ذاتی گاڑی چلانا ہوگی جن اعلیٰ عہدیداروں نے کئی کئی سرکاری گاڑیاں رکھی ہوئی ہیں ان کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے اس لئے ہمارا یہ خیال ہے کہ فوری طور پر کوئی بھی دوسرا قدم اٹھانے کی بجائے صرف یہ ایک کام کر لیا جائے تو بچت کے شاندار نتائج سامنے آئیں گے۔ حیرت ہے تقریبات میں سموسوں پکوڑوں اور بسکٹوں کی بچت کرنے والے اس جانب توجہ کیوں نہیں دیتے؟یہ اتنی میگا بچت ہو گی جو کسی دوسری مد میں نہیں ہو سکتی۔

مزیدخبریں