نازیبا ویڈیو، سکھر بیوٹی پارلر کا کیس!

11 ستمبر 2018

خواتین کی لاعلمی میں ان کی نازیبا ویڈیو بنا کر بلیک میلنگ کا سلسلہ دراز ہوتا جا رہا ہے۔ آئی ٹی کی جدت نے اچھائی کی جگہ برائی لے لی ہے۔اور یہ مجرمانہ ذہن رکھنے والے افراد کے بھی ہاتھ آ گئی ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے دوستی کے باعث سائبر کرائمز شروع ہوئے تھے حال ہی میں ایک خاتون کی شکائت اور ایف آئی اے کے سائبر کرائمز ونگ کی کوشش کے بعد ایک مجرم کو چھ سال قید اور جرمانے کی سزا بھی ہوئی ہے۔گزشتہ روز سکھر پولیس نے ایک بیوٹی پالر کے مالک کو گرفتار کیا۔ اس نے پارلر کے باتھ روم میں خفیہ کیمرہ لگایا ہوا تھا اور اس کے ذریعے ویڈیو بنا کر بلیک میلنگ کا سلسلہ شروع تھا۔ پولیس نے ایک خاتون کی شکایت پر چھاپہ مار کر تلاشی لی تو کیمرہ اور اس میں ریکارڈ ویڈیو برآمد ہو گئیں۔یاد رہے کہ اس سے پہلے فیصل آباد کے ایک مشہور شاپنگ سنٹر سے بھی خفیہ کیمرے برآمد کرکے کارروائی کی گئی تھی، چند افراد گرفتار بھی ہوئے۔ دوچار روز بات میڈیا تک رہی پھر کیا ہوا کچھ پتہ نہیں۔ ایسا ہی عام طور پر ہوتا ہے۔مسلسل وارداتوں کی وجہ سے اب لازم ہو گیا ہے کہ معاشرے میں شعور پیدا ہو اور خصوصی طور پر خواتین بیدار ہوں، اول تو وہ احتیاط کریں کہ ان کو لاعلم رکھ کر یا دوستی کے ذریعے کوئی مجرم ذہن والا ویڈیو بنا ہی نہ سکے اور اگرخدانخواستہ ایسا ہو جائے اور نوبت یہ آئے کہ اس کو بلیک میل کرنے کی کوشش ہو تو خاتون کو گھبرا کر ہتھیار ڈالنے کی بجائے مقابلہ کرنا چاہیے اور گھر والوں کو آگاہ کر دینا بہتر ہوگا۔ خاندان والے حضرات کو بھی شعور رکھنا چاہیے اور اپنے گھر کے فرد پر یقین رکھتے ہوئے پولیس /ایف آئی اے سے رجوع کرکے بلیک میل کرنے کی کوشش کرنے والے کو گرفتار کرانا چاہیے۔آج کل بے شمار این جی او ہیں ان کو اس آگہی مہم کا آعاز کرنا ہوگا کہ خواتین دباؤ سے باہر آئیں اور خاندان بھی اجڑنے سے بچیں۔ ایف آئی اے سائبر کرائمز کو بھی کارروائی میں تیزی لانے کی ضرورت ہے اور مجرم کو سخت سزا بھی ہونا چاہیے۔

مزیدخبریں