پاکستان کے لیے ڈیم اور تارکین وطن دونوں ناگزیر ہیں

11 ستمبر 2018

مختار چودھری

وزیراعظم عمران خان نے ڈیم بنانے کے لیے تمام پاکستانیوں سے بالعموم اور تارکین وطن سے بالخصوص اپیل کی ہے اور ساتھ ہی جمع ضرب کر دی ہے کہ تارکین وطن پاکستانیوں کی تعداد 80 سے 90 لاکھ ہے اور اگر ہر بندہ ایک ہزار ڈالر بھیجے تو ڈیم بن سکتا ہے۔ اس سے پہلے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب نے بھی ڈیم فنڈ قائم کر رکھا ہے اور وزیراعظم نے دونوں فنڈ اکٹھا کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اصل میں یہ کام حکومت ہی کے کرنے کا ہے جہاں تک تارکین وطن پاکستانیوں کی بات ہے ہر موقع پر ان سے چندے کی خصوصی اپیل کی جاتی ہے اور وہ ہر بار بڑھ چڑھ کر مدد بھی کرتے ہیں۔ لیکن ان کو پاکستانی تسلیم ہی نہیں کیا جاتا۔ جتنے تارک وطن یورپ، امریکہ، کینیڈا، جاپان، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا میں رہتے ہیں ان میں سے نوے فیصد سے زائد نے ان ممالک کی شہریت اختیار کر لی ہے یہ ان کی مجبوری ہے لیکن وہ پاکستان کو بھولے ہیں نہ ان کی محبت میں کوئی کمی آئی ہے ہر مشکل گھڑی میں وہ پاکستان کا ہراول دستہ ہوتے ہیں۔ تاہم ان کو پاکستان کے اندر برابر شہری کی حیثیت سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔

آج تک کسی بھی حکومت نے اس طرف دھیان دیا نہ ان کو پاکستان کے معاملات میں دخل کی اجازت دی۔ میں نے خود یہ معاملہ پرویز مشرف کے دور میں اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز سے طے شدہ میٹنگ میں اٹھایا تھا اور انہوں نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ قانون سازی کروا کے تارکین وطن کو پاکستانی شہریوں کے برابر حقوق دلائیں گے۔ میں نے یہ مقدمہ چوہدری اعتزاز احسن کے سامنے بھی پیش کیا تھا۔ مگر ہنوز معاملہ وہیں کا وہیں ہے۔ اسی طرح مڈل ایسٹ میں رہنے والے پاکستانیوں کی حالت زار دیکھ لیں ان کے ساتھ اپنی پاکستانی ایجینسیوں میں سلوک کا جائزہ لیں۔ دوبئی میں پاکستان ایمبیسی کے باہر سیکڑوں کی تعداد میں پاکستانی شہری تپتی دھوپ میں گھنٹوں انتظار کی صعوبتیں برداشت کرتے ہیں اور اس کی دوسری طرف انڈین ایمبیسی میں ان کے شہری ایئرکنڈیشنڈ انتظار گاہ میں آرام کرتے ہیں۔

پاکستان میں تارکین وطن کو ایسی گائے سمجھا جاتا ہے جو چارا کہیں اور سے چگے اور دودھ دینے کے وقت اپنے گھر آجائے۔ لیکن یہ کب تک چلے گا؟ اب ہماری نئی نسل ہم سے سوال کرتی ہے۔ کہ آپ اپنی محنت کی کمائی کا بڑا حصہ پاکستان بھیج دیتے ہیں۔ ہالیڈے کے موقع پر ہر بار پاکستان چلے جاتے ہیں شاپنگ کرنا ہو تو بھی پاکستان سے کرتے ہیں۔ پاکستان کسی بھی مشکل میں ہو تو آپ بڑھ چڑھ کر مدد کرتے ہیں۔، پاکستان کا نظام بدلنے کی فکر پاکستان میں رہنے والوں سے زیادہ آپ کو لاحق ہے۔ مگر آپ کو تو پاکستانی ہی تسلیم نہیں کیا جاتا ہے کیوں؟ ان سوالوں کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہم پاکستان کے حکام بالا سے یہی سوال کرتے ہیں کہ کیا ہم پاکستانی ہیں یا پاکستان میں ہم غیر ملکی ہیں؟ اگر ہم پاکستانی ہیں تو کیا پاکستان کی پالیسیوں میں ہمیں کوئی دخل ہے؟ کیا ہم اپنے ووٹ کا استعمال کر کے اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکتے ہیں؟ کیا ہم پالیسی ساز یا قانون ساز اداروں کا حصہ بن سکتے ہیں؟ کیا ہم کسی ٹیلی فون کی فرینچائز سے اپنے موبائل فون کی سم لے سکتے ہیں؟ ان تمام سوالات کے جوابات نفی میں ہیں۔

اور دوسری طرف پاکستان کو لوٹ کر بیرون ملک بنکوں کو دولت سے بھرنے والے آج بھی اس ملک کے مالک بھی ہیں اور فیصلہ سازی کا اختیار بھی انہی کے پاس ہے۔ آج بھی آپ کی حکومت اور اپوزیشن میں موجود لوگوں میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو اپنے وسائل سے ایک ڈیم بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن وہ ایک ہزار ڈالر نہیں دیں گے۔ تو پھرذرا سوچئے کہ یہ کب تک چلے گا؟ آپ نے جب پہلی بار شوکت خانم ہسپتال کے لیے چندے کی اپیل کی تھی تو تارکین وطن پاکستانیوں نے ہفتوں مہینوں میں آپ کا اکاؤنٹ بھر دیا تھا۔ بہت ساری تارکین وطن خواتین نے میری آنکھوں کے سامنے اپنے زیورات اتار کر آپ کے حوالے کر دیئے تھے۔ ہم آپ کی چندہ مہم میں آپ کے شانہ بشانہ کھڑے تھے۔ آپ نے اپنے خطاب میں بھی یہ بات تسلیم کی ہے کہ شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی میں تارکین وطن پاکستانیوں کا بہت زیادہ ہاتھ ہے۔ تو کیا آپکی حکومت بھی تارکین وطن پاکستانیوں کو اسی حال میں بے یارومددگار رہنے دے گی یا آپ قانون سازی کے ذریعے تارکین وطن کو ان کے حقوق دلائیں گے؟ ہم بجا طور پر آپ سے امید رکھتے ہیں کہ آپ پاکستان میں ہمارے حقوق کا تحفظ کریں گے اور اپنے ان بھائیوں کو پاکستانی تسلیم کرتے ہوئے پاکستان کے پالیسی ساز اداروں کا حصہ بنائیں گے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو اب یہ سلسلہ زیادہ دراز نہیں ہوگا اور پاکستان اپنے ان ہمدرد اور بے لوث لوگوں کو کھو دے گا۔

ہم عرصہ دراز سے یہ سنتے آرہے ہیں کہ سویٹزرلینڈ کے بنکوں میں پاکستانیوں کے سیکڑوں ارب ڈالر موجودہ ہیں جن میں زیادہ تر بلیک منی کا مال ہے۔ وہ رقم کب تک پاکستان میں لائی جائے گی؟ کیا اس پر کوئی کام ہو رہا ہے؟

اگر آپ کی حکومت قانون سازی کے ذریعے تارکین وطن پاکستانیوں کو پاکستانی شہری تسلیم کر لے اور ان کو ملکی معاملات میں شریک کر لے تو ڈیم بھی بن جائیں گے اور پاکستان میں سرمایہ داری بھی ہو گی۔ پاکستان کے لیے ڈیم اور تارکین وطن دونوں ناگزیر ہیں۔

مزیدخبریں