پاکستان کی نئی خارجہ پالیسی کے خدوخال

پاکستان کی نئی خارجہ پالیسی کے خدوخال
پاکستان کی نئی خارجہ پالیسی کے خدوخال

  

پاکستان یا کسی بھی ملک میں جب حکومت تبدیل ہوتی ہے تو دوسرے معاملات کے ساتھ ساتھ خارجہ پالیسی میں بھی کچھ واضح تبدیلیاں نظر آتی ہیں۔ اب جبکہ ملک میں ایک نئی حکومت قائم ہوئی ہے تو پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بھی کچھ تبدیلیاں محسوس ہو رہی ہیں۔ پاکستان کی نئی خارجہ پالیسی کے خدوخال کیا ہیں، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گزشتہ دنوں ایک پریس کانفرنس میں اس کے کچھ اشارے دیئے، جو قابل غور ہیں۔ حلف اٹھانے کے بعد دفتر خارجہ میں اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اب دفتر خارجہ میں ہی بنے گی۔ یہ ایک خاصا معنی خیز جملہ ہے، جس کے اندر کئی سوالات کے جواب ہیں اور کئی نئے سوالات بھی ہیں۔

یہ بات کہہ کر انہوں نے ثابت کیا کہ اس سے پہلے خارجہ پالیسی کہیں اور بنتی تھی۔ کہاں؟ اس کی انہوں نے وضاحت نہیں کی کر دیتے تو ان کی بات اور بامعنی ہو جاتی۔ میرے خیال میں پوچھنے کی ضرورت بھی نہیں۔ ایسے بیانات بھی سامنے آتے رہے ہیں، جن میں کہا گیا کہ ہماری خارجہ پالیسی امریکہ میں بنتی ہے۔ بہرحال اس بات کی پوری قوم کو خوشی ہو گی اگر پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمارے دفتر خارجہ میں بننے لگے۔ اس سے خارجہ محاذ پر ہمارے بہت سے مسائل بھی حل ہو جائیں گے اور اگر تھوڑی سی کوشش کی جائے تو پاکستانی مصنوعات اور خام مال کے لئے نئی منڈیاں بھی تلاش کی جا سکیں گی، کہ کسی ملک کی درآمدات وبرآمدات میں اس ملک کی خارجہ پالیسی کا بھی کچھ نہ کچھ کردار ضرور ہوتا ہے۔

وزیر خارجہ نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ بھارتی وزیر اعظم کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے نام مبارک باد کا خط موصول ہوا ہے اور وہ پاکستان سے مذاکرات کے خواہاں ہیں۔ بھارت کی جانب سے اس کی تردید کر دی گئی اب خط میں کیا لکھا گیا تھا یہ تو مکتوب الیہ ہی جانتے ہیں البتہ خط لکھنے والا وہ بات ماننے کے لئے تیار نہیں جو شاہ محمود اپنے پر یس کو بتا رہے تھے۔ پاکستان تو ہمیشہ کہتا رہا ہے کہ وہ پاک بھارت مسائل کے حل کے سلسلے میں بھارت سے مذاکرات چاہتا ہے۔ یہ بھارت تھا جو بات چیت کی میز پر آنے سے کنی کتراتا رہا ہے، لیکن مودی نے اس سلسلے میں خاصی تاخیر کر دی ہے۔

اب تو اس کی حکومت کا ایک سال بھی باقی نہیں رہا، تو اس موقع پر بی جے پی حکومت کی جانب سے مذاکرات میں جو فیصلے کئے جائیں گے یا مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں پاکستان کے جو مطالبات تسلیم کئے جائیں گے، سوال یہ ہے کہ کیا بھارت میں اگلے سال انتخابات کے نتیجے میں آنے والی نئی حکومت کے لئے وہ فیصلے قابلِ قبول ہوں گے؟ وزیر خارجہ نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ وہ افغانستان کے لوگوں کے لئے ٹھوس پیغام لے کر کابل کا دورہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی روش سے ہٹ کر نئے سفر کا آغاز کرنا ہے۔ اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں رہا ہے اور اس سلسلے میں عملی اقدامات بھی کئے جاتے رہے۔ کچھ حلقے اس تاثر کے حامل ہیں کہ گزشتہ صدی کے آخری عشرے میں پاکستان کی جانب سے افغانستان کے اندر مستحکم حکومت کے قیام کے سلسلے میں جو اقدامات کئے جاتے رہے، وہ اس پڑوسی ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کے مترادف تھا۔ یہ درست نہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے یہ ساری کوششیں اپنے اس پڑوسی ملک کو داخلی انتشار سے بچانے کے لئے تھیں، کیونکہ پاکستان بہرحال اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھا اور ہے کہ افغانستان میں امن کے قیام کی تمام تر کوششیں دراصل اپنے لئے تھیں کہ پاک سرزمین پر امن قائم رہے اور یہاں کے لوگوں کو ترقی کے مواقع ملتے رہیں۔ وزیر خارجہ کا یہ کہنا تو درست ہے کہ افغانستان اور بھارت کے ساتھ خارجہ امور بہت اہمیت رکھتے ہیں اور مستقبل قریب میں ان کے ساتھ تعاون میں بہتری لائی جائے گی، لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کیسے؟ جن کوششوں کا انہوں نے کہا ہے، ویسی تو اس سے پہلے بھی کی جاتی رہی ہیں۔ البتہ ان کی یہ بات اچھی ہے کہ بھارت اور افغانستان سے تعلق کے تناظر میں سابق وزرائے خارجہ حنا ربانی کھر اور خواجہ آصف سے بھی مشاورت کروں گا۔

یہ خوش آئند پیش رفت ہے۔ اس سے ملک میں سیاسی ہم آہنگی پیدا ہو گی، جو موجودہ سیاسی سیٹ اپ اور جمہوریت کی کامیابی کے لئے ضروری ہے۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں نئی حکومت نے یہ کہا ہے کہ اسلام آباد اور واشنگٹن کے مابین اعتماد کے فقدان کو دور کرنا چاہتے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ انہیں امریکہ کی ترجیحات کا اندازہ ہے، کیونکہ انہیں امریکہ کے ساتھ ماضی میں کام کرنے کا موقع ملا اور انہیں یعنی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو ان کی ترجیحات اور تحفظات کا اندازہ بھی ہے، لہٰذا وہ ان ترجیحات اور تحفظات کو سامنے رکھتے ہوئے دو ٹوک بات کریں گے کہ آپ کی ترجیحات سر آنکھوں پر لیکن ہماری ترجیحات، ضروریات اور قوم کی خواہشات بھی ہیں۔ اگر اس سلسلے میں کچھ کیا جا سکے تو یہ نئی حکومت کی ایک بڑی کامیابی ہو گی، لیکن امریکہ کو منانے کے لئے وہ ساری باتیں مان لی گئیں، جو گزشتہ حکومت نے تسلیم نہیں کی تھیں تو یہ برابری والی بات نہیں ہو گی اور پاک امریکہ تعلقات نئی حکومت کے لئے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوں گے۔

مزید : رائے /کالم