بحرہند اور بحرالکاہل میں آئندہ کیا ہونے والا ہے؟

بحرہند اور بحرالکاہل میں آئندہ کیا ہونے والا ہے؟
بحرہند اور بحرالکاہل میں آئندہ کیا ہونے والا ہے؟

  

کل کے کالم میں بتایا تھا کہ 6ستمبر2018ء کو نئی دہلی میں انڈیا اور امریکہ کے درمیان جو تازہ دفاعی معاہدہ سائن کیا گیا ہے اس کی دو شقیں اہم ہیں۔ ایک یہ کہ انڈیا، امریکہ سے جدید دفاعی ٹیکنالوجی کی مصنوعات خریدے گا اور دوسری یہ کہ امریکہ، انڈیا کے ساتھ وہ مواصلاتی انٹیلی جنس شیئر کرے گا جو مستقبل میں دونوں ممالک کے ’’کام‘‘ آئے گی۔۔۔۔ چونکہ دوسری شق کی تفصیلات مزید وضاحت طلب تھیں، اس لئے اس کالم کی ضرورت پیش آئی۔

اس مواصلاتی انٹیلی جنس کی اساس دو ایسے حقائق پر مبنی ہے جن پر صرف ان ملکوں کی رسائی ہے جو خلاؤں تک جا چکے ہیں اور دیگر آلات کے علاوہ وہاں ایسے مواصلاتی (کمیونی کیشن) آلات پہنچا چکے ہیں جن سے آج ساری دنیا مستفید ہو رہی ہے۔ ہمارے موبائل فون ، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ وغیرہ انہی آلات کے مرہونِ منت ہیں۔ ان آلات کو مواصلاتی سیارے (سیٹلائٹس) کہا جاتا ہے ۔اس نام اور ان کے کام سے تقریباً سارے ہی قارئین آگاہ ہیں۔ ان سیاروں کا حجم بالعموم ایک کمرے جتنا ہوتا ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ یہ ایک ٹیلی فون ایکسچینج ہے جو خود کار ہے ،اسے گراؤنڈ سٹیشن سے کنٹرول کیا جاتا ہے اور اس کو چلانے کے لئے ’’شمسی توانائی‘‘ استعمال کی جاتی ہے۔ کسی سیارے کی شکل پر غور کیجئے۔ ہیلی کاپٹر کے پَروں کی طرح اس کے بھی چار پَر ہوتے ہیں۔ یہ دراصل سولر پینل ہیں جو آج ہمارے ہاں بھی بہت سے گھروں پر نصب ہیں اور علاوہ ازیں کئی سرکاری اور نجی عمارتوں پر بھی لگے دیکھے جا سکتے ہیں۔ چنانچہ جب تک آسمان میں آفتاب چمکتا رہے گا، تب تک یہ سیارے بھی زندہ و پائندہ رہیں گے، بشرطیکہ ان کا کوئی ایسا اندرونی پرزہ ناکارہ نہ ہو جائے جس کی گراؤنڈسٹیشن سے مرمت ممکن نہ ہو۔

ان سیاروں کے ذریعے جو مواصلات ہم اہلِ زمین تک آتی جاتی ہیں وہ نہائت صاف اور سریع السماعت ہوتی ہیں یعنی ان کو سننے میں کسی مواصلاتی گڑبڑ کا احتمال نہیں ہوتا۔ یہ سگنل ٹرانسمیشن، ان مواصلاتی سیاروں کا ایک پہلو ہے جس کو آپ ’سول ٹرانسمیشن‘ کا نام بھی دے سکتے ہیں اور اس کے دوسرے پہلو کو ملٹری ٹرانسمیشن (عسکری مواصلت) کہا جا سکتا ہے۔ پانچ روز پہلے دہلی میں جو معاہدہ سائن کیا گیا ہے اس کا تعلق اسی عسکری مواصلت والے پہلو سے ہے۔

یوں تو امریکہ، روس اور چین کے علاوہ بہت سے دوسرے ممالک کے مواصلاتی سیارے بھی خلا میں سرگرداں ہیں جن سے وہ ممالک استفادہ کررہے ہیں لیکن یہ بات چیت اوپن ریڈیو مواصلت کہلاتی ہے اور باآسانی سنی جا سکتی ہے۔خود انڈیا کے کئی مواصلاتی سیارے خلاء میں موجود ہیں جن کی مواصلات گراؤنڈ پر دوسرے جدید تر سیاروں کے توسط سے سنی جا سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو فوجی مواصلت کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا۔۔۔

خفیہ مواصلت کی تفصیلات ویسے تو کئی مقالات کا موضوع ہیں لیکن چند موٹی موٹی باتوں کا ذکر کرنا چاہیں تو ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہم اس ٹیکنالوجی سے بہت پیچھے ہیں۔ خلاء میں پہلا سیارہ روس نے 4اکتوبر 1957ء کو چھوڑا تھا جس کا نام ’سپتنک اول‘ تھا، پھر جلد ہی امریکہ نے بھی اس دوڑ میں شرکت کر لی اور روس سے آگے نکل گیا اور صرف 12برس بعد 1969ء میں ایک خلا نورد کو چاند پر اتار دیا۔ کئی عشروں تک یہ دونوں سپرپاورز اس ٹیکنالوجی کی اجارہ دار رہیں۔ لیکن چین نے جب آنکھ کھولی تو دیکھتے ہی دیکھتے کئی ایسی منزلیں طے کر لیں جو پہلے کسی نے بھی نہ سوچی تھیں اور نہ ان تک رسائی حاصل کی تھی۔

اس خلائی مواصلات کو خفیہ رکھنے کے لئے ایک الگ زبان اور الگ لغات وضع کرنی پڑی۔اس زبان کی ابجد بڑی مشکل لیکن چشم کشا ہے۔ اس کا آغاز دوسری جنگ عظیم کے اوائل بلکہ اس سے بھی پہلے ہو چکا تھا۔ اور اس پر بھی مغربی اقوام کی اجارہ داری تھی۔ یہ خفیہ مواصلت (Coded Transmission) ایک الگ موضوع ہے لیکن آپ یہ سمجھ لیجئے کہ جب 16جولائی 1945ء کو صدر امریکہ (ٹرومین)کو ایٹم بم کے پہلے کامیاب تجربے کی اطلاع دی گئی تھی تو اس وقت وہ پوٹسڈم میں سٹالن اور چرچل کے ساتھ ایک سہ فریقی کانفرنس میں تھے۔ یہ اطلاع اوپن ریڈیو پر دی گئی تھی لیکن کوڈ شدہ عبارت میں تھی ۔ یہ رپورٹ ملتے ہی صدر ٹرومین نے چرچل کو تنہائی میں بلا کر بتا دیا تھا کہ ایٹم بم کا تجربہ کامیاب رہا ہے۔ لیکن مارشل سٹالن کو نہیں بتایا گیا تھا۔ اس لئے جب 6اگست 1945ء کو ہیروشیما پر دنیا کا پہلا ایٹم بم گرایا گیا تو یہ دراصل دوسرا ایٹم بم تھا جس سے روس کو بے خبر رکھا گیا تھا حالانکہ روس، اس جنگ میں جرمنی اور جاپان کے خلاف دوسرا بڑا پاور فل اتحادی تھا۔

جیسا کہ اوپر لکھا گیا اس جوہری بم کے 12برس بعد روس نے سپتنک اول خلا میں بھیجا جس سے دونوں سپرپاورز میں ایک نئی دوڑ شروع ہو گئی جس کو خلائی دوڑ کا نام دیا گیا اور جو آج بھی جاری ہے۔۔۔

تاہم گزشتہ کئی برسوں سے امریکہ اور روس نے خلا کا جو بے محابا عسکری استعمال کیا ہے وہ ہم جیسی ’’غیر خلائی‘‘ اقوام کے لئے ایک چیستان ہے۔ امریکہ اور روس دونوں (اور اب چین بھی ان میں شامل ہے) کئی عشروں سے کوڈشدہ مواصلت استعمال کرکے اپنے عسکری اثاثوں (مثلاً طیارہ برداروں، جوہری آبدوزوں،ہائر ملٹری کمانڈز اور اہم اور حساس ملکوں کے سفارت خانوں وغیرہ) کے ساتھ اسی خفیہ مواصلات کے توسط سے بات چیت کرتے ہیں۔ گلوبل پوزیشنگ سسٹم (GPS) بھی اسی طرح کا ایک انتہائی ابتدائی نظامِ مواصلات ہے جو آپ نے کئی بار سن اور پڑھ رکھا ہو گا کہ یہ اصطلاح اب عام بول چال میں بھی مستعمل ہے۔

امریکہ ایک مدت سے کوشش کررہا تھا کہ انڈیا کو اس خفیہ ’’دامِ مواصلات‘‘ کا اسیر بنائے تاکہ انڈیا کی وہ ساری معلومات اس تک پہنچ سکیں جو کسی بھی ملک کا عسکری سرمایہ ہوتی ہیں اور وہ نہیں چاہتا کہ کسی دوسرے ملک کو ان تک رسائی ملے۔ اب چونکہ امریکہ، انڈیا کو اپنی سٹیٹ آف دی آرٹ ملٹری ٹیکنالوجی منتقل کررہا ہے تاکہ انڈیا، چین کے خلاف امریکہ کی پہلی دفاعی لائن کا رول ادا کرسکے تو اسی لئے وہ انڈیا کو آرمی، نیوی اور ائر فورس کے ایسے پلیٹ فارم دے رہا ہے جن کو استعمال کرنے کے لئے ’’خفیہ مواصلات‘‘ سے آگہی ناگزیر ہوجائے گی۔

یوں تو انڈیا اپنے آپ کو لاکھ چالاک سمجھتا ہوگا اور یہ گمان بھی کرتا ہوگا کہ اس نے امریکہ کے دونوں مطالبات مسترد کردیئے ہیں یعنی وہ ایران سے تیل بھی خرید سکے گا اور روس سے S-400 میزائل ڈیفنس سسٹم بھی حاصل کرسکے گا لیکن انڈیا کو معلوم ہونا چاہئے کہ امریکہ، اس سے لاکھوں گنا زیادہ عیار اور مکار ملک ہے۔۔۔۔

6ستمبر کو جس معاہدے پر دونوں ممالک کے (2+2) فریقوں نے دستخط کئے ہیں وہ مغربی ممالک کے عسکری حلقوں میں امریکہ کی ایک بہت بڑی اور کھلی کامیابی تصور کی جارہی ہے۔ ایک تو امریکہ نے انڈیا کے ساتھ اربوں ڈالر کی اپنی جدید ٹیکنالوجی فروخت کرنے کا ڈول ڈال دیا ہے اور دوسرے بحرہند اور بحرالکاہل کے خطے میں آپریٹ کرنے اور وہاں ملٹری انٹلی جنس حاصل کرنے کے مواقع بھی پالئے ہیں۔ (دنیا کے تینوں بڑے سمندروں کی کوئی سرحدیں نہیں ہیں۔ چین کا سمندر بحرالکاہل ہے اور انڈیا کا بحرہند ہے۔ دونوں کو ملا کر انڈو۔پیسیفک سمندر کہا جاسکتا ہے اور اس سمندر کے کناروں پر جو ممالک واقع ہیں ان کو ’انڈو۔ پیسیفک خطے‘ کا نام دیا جاتا ہے)۔

مستقبل قریب میں جب CPEC آپریشنل ہو جائے گا تو اس انڈو۔پیسفک خطے میں چین کا بحری ٹریفک بڑھ جائے گا۔تاہم اس چینی بحری ٹریفک کی مواصلات تک یا تو چین کی رسائی ہے یا امریکہ کی، کسی تیسرے ملک کی نہیں۔ اگر انڈیا نے یہ معلومات حاصل کرنی ہیں کہ بحرہند میں چین کے کون کون سے زیرِ آب (آبدوزیں) اور بالائے آب بحری اثاثے(Ships) آجارہے ہیں تو ان کا تفصیلی علم صرف امریکہ کو ہی ہوگا اور ان چینی اثاثوں کی جو مواصلات ان کے اپنے ہیڈ کوارٹروں کے ساتھ ہوں گی اس کا علم بھی امریکہ کو ہوگا۔

اس کمیونی کیشن کو پہلے خلائی سیاروں کی مدد سے انٹرسیپٹ کیا جاتا ہے، اس کے کوڈ کو توڑا جاتا ہے، اس کا ترجمہ انگریزی میں کیا جاتا ہے اور پھر اس کے بعد مطلوبہ ردعمل(کاونٹر ایکشن) کا فیصلہ کیا جاتاہے۔۔۔ فرض کریں 2020ء میں چین کی آبدوزیں، انڈیا کی ساحلی تنصیبات کی جاسوسی کررہی ہیں تو یہ جاسوسی دو قسم کی ہوگی۔ ایک کو ساکن جاسوسی کہا جائے گا اور دوسری کو متحرک۔۔۔ ساکن جاسوسی میں یہ دیکھا جائے گا کہ انڈیا کی شپ یارڈز میں کیا کیا تیار کیا جارہا ہے، مختلف انڈین آبدوزیں اور جنگی جہاز تیاریوں کے کن مراحل میں ہیں، ان کے آئندہ کے منصوبے کیا ہیں، وہ اثاثے کب اور کس طرف جانے کے پلان بنا رہے ہیں، ان پر کون کون سے اسلحہ جات نصب ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔ امریکہ ان معلومات کے حصول کے لئے اپنے مواصلاتی سیاروں سے مدد لے گا اور ان مواصلات کو جن آلات (Kits) میں محفوظ کیا جائے گا اور پھر بعد میں ان سے جن دوسرے آلات میں منتقل کیا جائے گا ،وہ سپیشل قسم کی Kits ہوں گی۔ اگر کوئی تیسرا ملک ان کِٹوں (Kits) کو خریدے گا اور ساتھ ہی آپریٹ کرنے کی ٹریننگ بھی حاصل کرے گا تو اس کے لئے ایک الگ سسٹم وضع کرنا ہوگا جس کو اصطلاح میں (Communications Compalatibility and Security Arrangemant) کہا جاتا ہے اور جسے مخفف کرکے ’’کوم کاسا‘‘ (Comcasa) کا نام دیا جاتا ہے۔

اس ’کوم کاسا‘ کے سارے آلات امریکہ، انڈیا کو فراہم کرے گا جن کے ذریعے یہ انتہائی اہم اور خفیہ جاسوسی معلومات حاصل کی جاسکیں گی۔۔۔لیکن انڈیا کی اس خوشی میں ایک غم کا خطرہ بھی ہوگا۔ اور وہ یہ ہے کہ یہ معلومات امریکہ کو بھی حاصل ہوں گی اور اس کو بھی معلوم ہوگا کہ انڈین نیوی کہاں کہاں آپریٹ کررہی ہے، اس کے پلان کیا ہیں اور ان کی جنگی آمادگی(War Preparedness)کا گراف کیا ہے۔۔۔ یہ گویا کسی بھی ملک کی بحریہ کے ’’ہاتھ پاؤں‘‘ کاٹنے کا ’’نسخہ کیمیا‘‘ ہے۔

دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یہ ’کوم کاسا‘ (Com casa) مستقبل کی کسی جنگ میں چین اور پاکستان کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔ ان آلات کو امریکی طیاروں (مثلاًC-130)میں نصب کیا جائے گا یا مشرقی پنجاب اور تبت کے بالمقابل انڈین علاقوں میں لگا کر پاکستان اور چین کی جاسوسی کی جاسکے گی۔ علاوہ ازیں انڈین نیوی کے پاس جو ’’بوئنگ پی ۔81‘‘ قسم کے میری ٹائم طیارے ہیں اور جو چینی آبدوزوں کا سراغ لگا سکتے ہیں ان میں مواصلاتی کِٹس (Kits) لگا کر اپنے آپ کو خبردار رکھا جائے گا۔ دوسرے لفظوں میں امریکہ، کسی بھی چینی یا پاکستانی تنازعہ میں انڈیا کا ’خاموش پارٹنر‘ بن جائے گا!

اس دفاعی معاہدے کو انڈیا کی وزیر دفاع، مسز نرملا سیتارامن نے ایک پریس کانفرنس میں ’’نہائت بامقصد‘ کار آمد اور مثبت‘‘ قرار دیا ہے۔ انڈیا شائد اس معاہدے کو چین اور پاکستان کے خلاف اپنی ایک بڑی کامیابی سمجھ رہا ہے۔ لیکن اس کو معلوم ہونا چاہیے کہ دوست کو دشمن بننے میں کوئی دیر نہیں لگتی۔۔۔ اس کا پتہ تو اس وقت چلے گا جب انڈیا اور امریکہ کی کبھی آپس میں ٹھن گئی اور یہ حساس معلومات امریکہ نے کسی اور ملک کے حوالے کردیں۔۔۔۔ یہ ملک چین بھی ہوسکتا ہے اور پاکستان بھی کہ آج کا دوست، آنے والے کل کا دشمن بھی تو بن سکتا ہے۔

مزید : رائے /کالم