ایک خوش مزاج سنجیدہ انسان

ایک خوش مزاج سنجیدہ انسان

پروفیسر سمیع اللہ قریشی

قائداعظمؒ نے ایک لمبا اور صبر آزما سفر حیات طے کیا۔ انہیں مصائب اور مشکلات کی بے شمار گھاٹیاں اور بے کراں سمندر عبور کرنا پڑے لیکن اس تھکا دینے والے سفر کے دوران جب بھی انہیں فرصت یا فراغت کا کوئی لمحہ نصیب ہوا‘ ان کی خوش مزاجی نے ضرور گھر والوں اور دوست احباب کے لیے تفریح طبع اور مسرت کے سامان بہم پہنچائے۔

دستر خوان اکثر وہ جگہ ہوتی جہاں قائداعظمؒ اپنے گھر والوں اور ساتھیوں کے ساتھ گھل مل جاتے۔ کھانے کی میز اور بچوں کی ہمراہی میں قائداعظمؒ ایک پھول کی طرح کھل جاتے۔ ان کا وطیرہ یہ تھا کہ کبھی خود لطیفہ سنا دیا اور محفوظ ہوئے کبھی دوسرے سے لطیفہ سن کر لطف اٹھایا۔ قائداعظمؒ نے اپنی گفتگو میں اس خیال سے کبھی مزاح پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی کہ لوگ ان کی بات سن کر قہقہے بلند کریں‘ اکثر مواقع پر آپ ہلکے پھلکے پیرائے میں طنز کے ماہر معلوم ہوتے۔

وہ جو بات کہنا چاہتے بظاہر ایک سادہ سے جملے میں مگر بے حد پرکاری کے ساتھ کہہ جاتے۔ سننے والا ذرا سا غور کرتا تو اسے پتہ چل جاتا کہ باتوں ہی باتوں میں حرف مدعا کے ساتھ بھرپور چوٹ بھی کردی گئی ہے۔ ان کی حس طنز و مزاح اس قدر تیز تھی کہ بعض سیاسی رہنماؤں کے مزاج اور رویے پر وہ ایسی پھبتی کس جاتے یا الفاظ چست کردیتے کہ ان کا کسی سے کوئی جواب نہیں بن پڑتا تھا۔

قائداعظمؒ کی ذات سے ناپسندیدہ قسم کی کوئی حرکت کبھی مزاح کے نام پر سرزد نہیں ہوئی کیونکہ مزاح کا بال سے باریک اور تلوار کی دھار سے تیز راستہ پھکڑ بازی اور دل آزاری کے عین درمیان سے ہوکر گزرتا ہے۔

کتاب Verdict of Indiaکا مصنف بیورلی نکولس ایک برطانوی تھا جسے قائداعظمؒ سے ملاقات اور گفتگو کا شرف حاصل ہوا۔ اس کے قلم سے بے ساختہ یہ کلمات نکل گئے:

’’میرا اندازہ تھا کہ محمد علی جناحؒ جس کی سیاست نے کانگرس اور برطانیہ کی متحدہ سیاسی چالوں کو ناکارہ بنا دیا ہے‘ تند خو اور سڑی خبطی ہوگا لیکن میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ ایک دراز قامت‘ صفا چٹ اور مسکراتے ہوئے چہرے‘ چمکتی ہوئی نیلگوں آنکھوں اور کشادہ پیشانی والا بوڑھا ہلکے نیلے رنگ کا سوٹ پہنے‘ منہ میں سگار لیے مجھ سے مصافحہ کے لیے دروازے کی طرف بڑھا اور مجھے اپنے ساتھ لے کر کمرے میں داخل ہوا۔ جناحؒ کے غرور و تکبر اور نخوت کے متعلق میں نے بہت سے افسانے سن رکھے تھے ‘وہ سب ہوا ہوگئے۔‘‘

ملیں شگفتن گل کی شہادتیں کیا کیا

قائداعظمؒ نے ایک مرتبہ کھیل کے انعامات کی تقسیم کی تقریب میں شرکت فرمائی۔ ایک طالب علم جسے انعام ملا تھا قائداعظمؒ کے روبرو اس قدر گھبرا گیا کہ انعام لینے کے بعد آپ سے ہاتھ ملانا بھی بھول گیا۔ آپ نے بڑی نرمی اور شگفتگی سے اسے واپس بلایا اور مسکراتے ہوئے فرمایا ’’لڑکے تم بھاگے کیوں جارہے ہو؟ مجھے یقین ہے یہ انعام تم نے جیتا ہے‘ کسی سے چھینا نہیں۔‘‘

***

1939ء میں 23جولائی سے4اگست تک لاہور میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن نے ایک کیمپ لگایا تاکہ لڑکوں کو تحریر و تقریر کے ذریعے نظرےۂ پاکستان کی اشاعت کی تربیت دی جائے۔ اس تربیتی کیمپ میں قائداعظمؒ بھی تشریف لائے۔ کیمپ کے اختتام پر ایک گروپ فوٹو بھی لیا گیا جس کے بعد فوٹو گرافر نے آپ کی خدمت میں درخواست کی کہ اسے ایک پورٹریٹ بنانے کی اجازت دی جائے۔ قائداعظمؒ نے ہنستے ہوئے اسے اجازت دے دی اور کہنے لگے ’’ٹھیک ہے مگر عوام سے میری تصویر کے زیادہ پیسے مت وصول کرنا۔‘‘

***

عبدالستار صدیق سی پی مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سیکرٹری تھے۔ ایک بار بمبئی میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ قائداعظمؒ سے ملاقات کے لیے حاضر ہوئے۔ یہ لڑکے نواب صدیق علی خان کو اپنے ہمراہ لانا چاہتے تھے مگر کسی وجہ سے وہ نہ آسکے۔ تعارف کے بعد پہلا سوال قائداعظمؒ نے یہ کیا ’’آپ مجھے یہ بتائیں کہ نواب صدیق علی خان کو اپنے ہمراہ کیوں لارہے تھے؟‘‘ پھر مذاق کے انداز میں فرمایا ’’کیا آپ لوگ مجھے اس بڑی توپ سے خوفزدہ کرنا چاہتے تھے؟‘‘

تمام لڑکے کھلکھلا کر ہنس پڑے۔

***

1939ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے تالاب تیراکی کے سبزہ زار پر اساتذہ کی انجمن کی طرف سے قائداعظمؒ کو ایک سپاسنامہ پیش کیا گیا اور ہر شخص وہاں آپ کی وفاداری کا دم بھرنے لگا۔قائداعظمؒ نے جو یہ منظر دیکھا تو ہنستے ہوئے فرمایا ’’جب کسی غریب کے دن پھرتے ہیں تو وہی رشتہ دار جو پہلے اس سے آنکھیں چرایا کرتے تھے‘ اس کی راہ میں آنکھیں بچھا نے لگتے ہیں۔‘‘

***

27مارچ 1946ء کو قائداعظمؒ نے اسلامیہ کالج لاہور میں جلسۂ تقسیم اسناد کی صدارت فرمائی اور خطبہ ارشاد کیا جس کے بعد دوپہر کے کھانے کا بندوبست حبیبیہ ہال میں تھا۔ کھانا مغربی انداز کا تھا۔ کھانے سے فارغ ہوکر شکریہ ادا کرتے وقت قائداعظمؒ نے ہنستے ہوئے فرمایا ’’دوستو! میں تو یہاں پلاؤ کھانے آیا تھا لیکن آپ نے مغربی کھانوں پر ٹرخا دیا۔‘‘

***

ایک دفعہ قائداعظمؒ کو مردوں اور عورتوں کے ایک مشترکہ اجتماع سے خطاب کرنا تھا جس کا اہتمام خواتین کی طرف سے کیا گیا تھا اور پردے کا انتظام بھی تھا۔ خواتین کی نشستوں کے عین سامنے جو مردوں کے عقب میں تھیں‘ ایک اونچی قنات ایستادہ تھی۔ خواتین کا اصرار تھا کہ قائداعظمؒ سٹیج پر کھڑے ہوکر تقریر فرمائیں بلکہ اگر ہوسکے تو قنات کے پیچھے بیٹھی خواتین میں آکر تقریر کریں تاکہ وہ آپ کو دیکھ سکیں۔ مردوں کو یہ بات اچھی نہ لگی تاہم عورتوں کی اس خواہش کے احترام میں قائداعظمؒ سٹیج سے چل کر قنات کی دوسری جانب عورتوں کے سامنے جاکھڑے ہوئے۔ یہ سب کچھ تالیوں اور نعروں کے شور میں ہوا۔

قائداعظمؒ نے ایک معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ اپنی تقریر کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا ’’محترم خواتین و حضرات! میں اپنی تقریر سے پہلے چند جملے صرف خواتین سے کہنا چاہتا ہوں۔ آپ نے کچھ عرصے سے ترقی کی جو منزلیں طے کی ہیں اس کی ایک ٹھوس اور زندہ مثال عملی طور پر اس ہال میں یوں پیش کردی ہے کہ آپ نے آج بے چارے مردوں کو پردے میں بٹھا دیا ہے۔‘‘ اس پر دیر تک تمام ہال کشت زعفران بنا رہا۔

***

ایک بار علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ارکان نے قائداعظمؒ سے ایک گروپ فوٹو میں شرکت کی درخواست کی جسے آپ نے منظور کرلیا۔ جب لڑکے تصویر کے لیے کھڑے ہوگئے تو قائداعظمؒ نے لاہور کے ایک نامور طالب علم رہنما حمید نظامی کو کرسی پر بیٹھنے کا حکم دیا۔ اُنہوں نے معذرت کرتے ہوئے ازراہ مزاح کہہ دیا ’’سر! میں وہابی ہوں‘ میں تصویر نہیں اتروا سکتا۔‘‘

تصویر اتر چکی تو قائداعظمؒ نے علیحدگی میں ان سے پوچھا ’’نظامی! کیا تم واقعی اس قدر متشدد وہابی ہو؟‘‘

اُنہوں نے عرض کیا ’’جناب وہ بات تو میں نے مذاق میں کہی تھی۔‘‘

قائد نے کہا ’’تو پھر کیوں نہ بیٹھے؟‘‘

حمید نظامی نے جواب دیا ’سر! تصویر علی گڑھ والوں کی کھینچنی تھی‘ میرا اس میں بیٹھنا مناسب نہیں تھا۔‘‘

قائداعظمؒ نے ہنستے ہوئے فرمایا ’’یہ لڑکا کبھی سیاست دان نہیں بن سکتا۔‘‘

ایک طالب علم نے پوچھا ’’وہ کیوں جناب؟‘‘ مسکراتے ہوئے فرمانے لگے ’’سیاست دان تو دھکے مار کر بھی تصویر کھنچواتے وقت آگے آجاتے ہیں۔‘‘

***

ایک مرتبہ قائداعظمؒ مسلم لیگ کی مجلس عاملہ کے ایک طویل اجلاس سے فارغ ہوکر گھر آئے تو بہت اچھا موڈ تھا۔محترمہ فاطمہ جناحؒ نے پوچھا ’’آج کے اجلاس میں کن مسائل پر بحث ہوتی رہی؟‘‘

مسکرا کر کہنے لگے ’’تمہاری نمائندہ تو بیگم محمد علی ہیں‘ ان سے پوچھو۔ میں تو مردوں کی نمائندگی کرتا ہوں۔‘‘

فاطمہ جناحؒ نے کہا ’’وہ مجھے کبھی کچھ نہیں بتاتیں۔‘‘

قائداعظمؒ نے لطف لیتے ہوئے فرمایا ’’ایسا تو نہیں ہونا چاہیے‘ تاہم خوشی کی بات ہے کہ اُنہوں نے کوئی بات تمہیں نہیں بتائی۔‘‘

مس فاطمہ جناحؒ نے حیرت سے کہا ’’بھلا وہ کیوں؟‘‘

’’اس لیے کہ عورت گفتگو شروع کردے تو اسے خاموش کرانا مشکل ہوجاتا ہے۔‘‘ اس جواب پر فاطمہ جناحؒ مسکرا کر خاموش ہوگئیں۔

دراصل کبھی کبھی قائداعظمؒ سیاسی فیصلوں کا ذکر اپنی ہمشیرہ سے بھی کردیا کرتے‘ لیکن ساتھ ہی مسکرا کر یہ بھی کہہ دیا کرتے ’’عورتیں راز نہیں چھپاسکتیں‘ تم یہ راز کیسے چھپا سکتی ہو؟‘‘

***

ایک دفعہ کسی اخباری نمائندے نے قائداعظمؒ سے دریافت کیا ’’کیا مستقبل میں گاندھی کے ساتھ آپ کی ملاقات کا کوئی امکان ہے۔‘‘

ہنستے ہوئے فرمایا ’’گاندھی کہتے ہیں کہ اس کا انحصار ان کے دل کی آواز پر ہے‘ چونکہ میرا وہاں تک گزر نہیں اس لیے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔‘‘

***

1936-37ء میں قائداعظمؒ ایک مقدمے کی پیروی کے لیے کراچی میں چیف کورٹ سندھ کے سامنے پیش ہوئے‘ وہ اہم مقدمہ تھا اور مقابلے میں کراچی کے چوٹی کے تین وکلاء تھے۔ اس وقت جناح ایک اعلیٰ پایہ کے وکیل اور ایک اول درجے کے سیاست دان کی حیثیت سے جانے جاچکے تھے۔ نتیجتاً کمرۂ عدالت میں قائداعظمؒ کو دیکھنے اور ان کی بحث سننے کے لیے ایک ہجوم جمع ہوگیا۔ اس خیال سے کہ شور نہ ہو اور عدالت کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا نہ ہو‘ عدالت کا دروازہ بند کردیا گیا تاہم ہر گھنٹے بعد اندر آنے اور باہر جانے کے باعث اس قدر شور ہوا کہ یوں معلوم ہوتا تھا جج حضرات اپنے غصے کا اظہار کیے بغیر نہ رہ سکیں گے۔

اس بات کو محسوس کرتے ہوئے قائداعظمؒ نے بڑے دلکش لہجے میں فرمایا ’’ناراضی معاف مائی لارڈز! یہ سب لوگ میرے مداحین ہیں۔ مجھے اُمید ہے کہ آپ اس پر کوئی حسد محسوس نہیں کریں گے۔‘‘

اس بے ساختہ اور پر اعتماد جملے پر جج صاحبان قائداعظمؒ کی شخصیت کے سحر میں آئے بغیر نہ رہ سکے اور مسکرا دیے۔

***

ایک دفعہ قائداعظمؒ کا سابقہ ایک مقدمے کی سماعت کے سلسلے میں ایک ایسے جج سے پڑا جسے وکلا پر تندوتیز فقرے بازی کی عادت تھی اور وہ اپنی اس عادت کی وجہ سے سخت بدنام تھا۔ مقدمے کی سماعت کے دوران اس نے دو ایک مرتبہ اپنی تلخ فقرے بازی کا منہ توڑ جواب سنا تو اس کی انا کچھ مجروح ہوئی۔جب وہ اپنے بے محل طنزیہ لب و لہجے کا کوئی جواز پیش نہ کرسکا تو اس نے قائداعظمؒ کے نشتر طنز سے بچنے کے لیے اپنی بزرگی کی آڑ لینے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ’’مسٹر جناح! آپ کو میرے سفید بالوں کا کچھ احترام کرنا چاہیے۔‘‘

اس پر قائداعظمؒ نے بے ساختہ فرمایا ’’مائی لارڈ! مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجئے کہ میں اس وقت تک سفید بالوں کی عزت نہیں کرتا جب تک ان کے پیچھے دانش مندی پوشیدہ نہ ہو۔‘‘

***

قائداعظمؒ کو بچپن میں پتنگ بازی کا شوق تھا‘ اس شوق نے آپ کو اوپر کی طرف پرواز کرنا سکھایا۔ آپ سیاست کو پتنگ بازی کہا کرتے تھے۔ جب بھی ہندوؤں میں کوئی تحریک شروع ہوتی اور وہ ہڑتال کرادیتے یا چرخے کا تنا شروع کردیتے تو قائداعظمؒ مذاق کے طور پر فرمایا کرتے ’’دیکھو پھر پتنگ بازی شروع ہوگئی ہے۔‘‘

***

کانگرس اور نیشنلسٹ مسلمانوں کی جانب سے قائداعظمؒ پر یہ اعتراض اکثر کیا جاتا تھا کہ جس شخص نے قوم کی خاطر جیل کی صعوبتیں نہیں اٹھائیں ‘ وہ قومی رہنما کیسے کہلا سکتا ہے؟ قائداعظمؒ نے اس کا جواب کوئٹہ میں ایک تقریر کے دوران یہ کہتے ہوئے دیا۔

’’واقعی جس قسم کی قربانی کانگریس نے دی ہے ہم نہیں دے سکتے۔ بھیڑ بکریوں کی طرح پولیس کے آگے چلنا‘ لاٹھیاں کھا کر جیل میں بیٹھ جانا‘ پھر وزن کم ہوجانے کی شکایات کرکے جیل سے رہائی حاصل کرلینا۔۔۔ اس قسم کی قربانی صرف ایک ہی جماعت دے سکتی ہے اور وہ ہے کانگرس۔‘‘ اس صریح طنز اور مخصوص لب و لہجے پر بہت دیر تک قہقہے بلند ہوتے رہے اور کانگرس کی طرف سے یہ اعتراض دوبارہ نہیں دہرایا گیا۔

***

جب دھرم سبھا کے رہنما‘ پنڈت جیا لال حکم(جو بعد میں کشمیر ہائی کورٹ کے جج ہوئے) اور پنڈت شونرائن کے ساتھ قائداعظمؒ کا تعارف کرایا جارہا تھا تو پنڈت شونرائن نے اپنی طرف سے قائداعظمؒ پر چوٹ کرتے ہوئے کہا ’’اگرچہ میں کشمیر میں اقلیتوں کا رہنما ہوں مگر ان کا قائداعظمؒ نہیں ہوں۔‘‘

قائداعظمؒ نے مسکرا کر برجستہ کہا ’’پھر تو آپ بدقسمت ہوئے نا! میں آپ کے مقدر کی یاوری کے لیے دعا گو ہوں۔‘‘

***

قائداعظمؒ کی رہائش گاہ 4مونٹ پلیز نٹ روڈ کے چھوٹے سے ہال کے باہر ایک پرانی قسم کا صندوق ہوا کرتا تھا جس پر اندر آنے والا اپنا ہیٹ‘ چھتری یا اٹیچی کیس وغیرہ رکھ دیا کرتا تھا۔ ایک روز لیاقت علی خان نے بھی اس پر اپنا ہیٹ رکھا ہوا تھا۔ واپسی پر قائداعظمؒ انہیں چھوڑنے باہر تشریف لائے تو پوچھا ’’یہ ہیٹ کس کا ہے؟‘‘

لیاقت علی خان بولے ’’میرا ہے۔‘‘

قائداعظمؒ نے ہنستے ہوئے کہا ’’میں حیران ہورہا تھا کہ مطلوب کا سر اتنا موٹا کب سے ہوگیا ہے؟‘‘ اس ایک ہی فقرے میں قائداعظمؒ نے لیاقت علی خان اور اپنے پرائیویٹ سیکرٹری دونوں کو اپنے مزاح کی لپیٹ میں لے لیا۔

***

راج گوپال اچاریہ نے قرارداد پاکستان کی منظوری کے دو سال بعد یہ اظہار خیال کیا ’’مسلمانوں سے کسی قسم کا سمجھوتہ کیے بغیر ہندوستان کو کچھ نہیں ملے گا۔ مسلم لیگ سے تقسیم ہند کی بنیاد پر کانگرس گفت و شنید کرے۔‘‘ کانگرس نے فوراً راجہ جی کی مذمت شروع کردی۔ قائداعظمؒ دہلی سے بمبئی جانے کے لیے سٹیشن پر پہنچے تو نواب زادہ لیاقت علی خاں اور دوسرے زعماء انہیں رخصت کرنے کے لیے پہلے ہی موجود تھے۔

بقول سید حسن ریاض قائداعظمؒ نے مسکراتے ہوئے فرمایا ’’اب آپ لوگ آرام سے بیٹھئے۔ پاکستان قائم کرنے کا کام مسٹر راج گوپال اچاریہ نے اپنے ذمے لے لیا ہے۔‘‘ اس پر زور دار قہقہہ لگا۔ قائداعظمؒ خود بھی ہنسے اور دوسرے زعماء اس مذاق سے خوب محظوظ ہوئے۔

***

استصواب سرحد کے سلسلے میں کانگرس نے سرحد کے معاملے میں اپنے مراسلے میں لکھا تھا کہ سرحد کے استصواب میں پاکستان اور ہندوستان کے علاوہ آزادی کا مطالبہ بھی شامل کیا جائے۔ وی پی مینن نے نہرو اور پٹیل سے کہا ’’(انگریز) حکومت تو سارے صوبوں کو آزادی کا حق دینا چاہتی تھی لیکن آپ کے مطالبے پر یہ حق حذف کردیا گیا۔ آپ اب کس منہ سے کہتے ہیں کہ سرحد کو آزادی کا حق ملنا چاہیے؟‘‘ اس پر دونوں رہنما خاموش ہوگئے۔ قائداعظمؒ کو جب اس مراسلے کے مندرجات کی اطلاع ہوئی تو آپ نے اس پر پُر لطف تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا ’’نہرو ہمیشہ روپے کے سترہ آنے مانگتا ہے۔‘‘

***

مارچ 1940ء کے انقلابی اجلاس لاہور کی بات ہے‘ 22مارچ کو کونسل کا اجلاس ہوا اور سبجیکٹ کمیٹی نے قرارداد لاہور کے مسودے کی ترتیب و تشکیل کی۔ 23مارچ کو شام کا اجلاس مسلمانان برصغیر کی تقدیر کے فیصلے کا اجلاس تھا۔ افتتاحی تقریر میں قائداعظمؒ نے ہندو تہذیب اور مسلم تہذیب کے خدوخال الگ الگ کرکے دکھائے اور فرمایا ’’یہ دو قوموں کی دو مستقل تہذیبیں ہیں جو ایک ساتھ پنپ نہیں سکتیں۔‘‘ پھر طنزیہ انداز میں فرمایا:

’’میں اسی لیے مسٹر گاندھی سے کہتا ہوں کہ اپنی دھوتی پہنیں‘ اپنی چوٹی بڑھائیں‘ اپنی دال روٹی کھائیں۔‘‘

اس پر سارا پنڈال قہقہوں سے گونج اٹھا۔

***

گاندھی نے ایک مرتبہ کہا ’’میں ایک امیر قوم کا رہنما ہوں اور تھرڈ کلاس میں سفر کرتا ہوں‘ لیکن قائداعظمؒ ایک نادار اور مفلس قوم کے رہنما ہیں اور اےئر کنڈیشنڈ ڈبے میں سفر کرتے ہیں۔ مسلم لیگ اس بار گراں کی کیسے متحمل ہوتی ہے؟‘‘

جب قائداعظمؒ کے سامنے یہ بیان کیا گیا تو آپ نے تبسم فرمایا اور کہا ’’جی ہاں‘ مسٹر گاندھی ٹھیک کہتے ہیں۔ میں اےئر کنڈیشنڈ ڈبوں میں سفر کرتا ہوں اور گاندھی تھرڈ کلاس میں آتے جاتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ میں کرایہ اپنی جیب سے دیتا ہوں اور ان کا سفری خرچ کانگرس برداشت کرتی ہے۔‘‘

***

ایک جلسے کے اختتام پر تصاویر اتاری جانے لگیں۔ گاندھی ہر تصویر میں شریک ہوجاتے مگر قائداعظمؒ الگ ہٹ کرکھڑے ہوگئے جس پر گاندھی نے پوچھا: ’’کیا آپ کو تصاویر اتروانا پسند نہیں؟‘‘

قائداعظمؒ نے فوراً کہا ’’ہے مگر اتنا نہیں جس قدر آپ کو پسند ہے۔‘‘

***

شوگاؤں میں گاندھی تنہا ایک کٹیا میں پرارتھنا کیا کرتے تھے۔ وہاں ایک دفعہ سانپ آگیا۔ کہا جاتا ہے کہ گاندھی جی نے کسی خوف کا اظہار نہ کیا اور پرارتھنا میں مصروف رہے۔ سانپ نے ان کے گرد ایک چکر کاٹا اور واپس چلا گیا۔ اس واقعہ کو ہندو اخبارات نے بہت اچھالا‘ اسے مہتمائیت کی ایک دلیل قراردیا گیا اور کرامت کہا گیا۔ ملک بھر میں اس واقعہ کی بہت دھوم مچی۔ کچھ اخبار نویس قائداعظمؒ کے پاس آئے اور پوچھا ’’جناب آپ نے یہ واقعہ اخبارات میں پڑھا ہوگا۔ آپ کے نزدیک یہ واقعہ درست ہے یا محض پروپیگنڈہ ہے؟‘‘

آپ نے فرمایا ’’درست بھی ہوسکتا ہے۔‘‘

پھر پوچھا گیا ’’سانپ کے اس طرز عمل کی آپ کے نزدیک کیا توجیہہ ہے؟‘‘

قائداعظمؒ نے فرمایا ’’صرف پیشہ ورانہ تکریم اور کچھ نہیں۔‘‘ اس پر سب اخبار نویس خوب ہنسے۔ ان دو لفظوں نے ملک کی سیاسی فضا پر فوری اثر کیا پھر کانگرس کی طرف سے کبھی اس واقعہ کو ہوا نہ دی گئی۔

***

شیخ حامد محمود کو قائداعظمؒ کی بعض تصاویر کھینچنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ ایک دفعہ وہ گورنر جنرل ہاؤس بلاوے پر پہنچے۔ ایک دو تصاویر کھینچ کر اُنہوں نے ڈرتے ڈرتے قائداعظمؒ سے کہا: ’’سر آپ تھوڑا سا مسکرا دیں تو عنایت ہوگی۔‘‘

اس پر قائداعظمؒ نے کہا ’’کسی کا حکم مجھے ہنسنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔‘‘ لیکن اس کے ساتھ ہی بے ساختہ مسکرا دیے اور شیخ صاحب نے وہ لمحہ محفوظ کرلیا۔

***

قائداعظمؒ جب سنجیدگی کے ساتھ مدمخالف پر طنز کا نشتر چلا رہے ہوتے تو اکثر اوقات ان کے رعب کا یہ عالم ہوتا کہ ان کی موجودگی میں ہنسی تو کجا مسکرانے کی مجال بھی کسی کو نہیں ہوتی تھی لیکن ان کے فقرے میں ہنسی کے سامان نظر آتے تھے۔ ایک دفعہ قائد نے پشاور کے شاہی باغ کے ایک جلسے میں عوام سے خطاب فرمایا۔ تقریر کا آغاز اُردو میں کیا اور دوران تقریر کہا ’’ہندو لوگ چاہتا ہے کہ مسلمان کو مرغی کے موافق ذبح کردے۔‘‘ قائداعظمؒ نے یہ فقرہ رک رک کر ادا کیا‘ غالباً ان کے ذہن میں کوئی انگریزی جملہ تھا جسے وہ جیسا تیسا اُردو کا روپ دے رہے تھے۔ جب اُنہوں نے ’’مرغی کے موافق ذبح کردے‘‘ کے الفاظ ادا کیے تو ان کے ہاتھوں کا عمل یوں تھا جیسے مرغی کی گردن مرو ڑ رہے ہیں۔ یہ خاصی مضحکہ خیز صورت حال تھی جسے آج آنکھوں کے سامنے لائیں تو بے شک ہنسی آجاتی ہے مگر تب ان کے جلال سے مرعوب ہزاروں کا مجمع دم بخود تھا۔

***

قائداعظمؒ کا جہاز ناگ پور اےئر پورٹ پر رکا تو نواب صدیق علی خان نے ایک مسلم لیگی کارکن سرفراز خان کا تعارف کرایا۔ وہ دبلے پتلے اور ناگ پور ضلع مسلم لیگ کے خزانچی تھے۔ قائداعظمؒ نے نوجوان کے سراپے کو دیکھتے ہی مزاح کے رنگ میں فرمایا’’جب ناگ پور مسلم لیگ کا خزانچی دبلا پتلا ہوگا تو اس کا کھاتہ بھی ایسا ہی نحیف و نزار ہوگا۔‘‘

اس پر سرفراز خان نے عرض کیا ’’سر! اگر آپ مجھے معاف فرمائیں تو اس کا جواب دوں۔‘‘

فرمایا ’’ہاں نوجوان تمہیں اس کا حق ہے۔‘‘

سرفراز کہنے لگے‘‘ سر! دس کروڑ مسلمانوں کا رہنما اس قدر دبلا پتلا ہے پھر بھی دشمنوں کو تگنی کا ناچ نچا رہا ہے۔‘‘

اس جملے پر سب ہنس دیے۔ قائداعظمؒ بھی خوب لطف اندوز ہوئے۔

***

29جولائی1948ء کو نرس نہم قائداعظمؒ کی تیمار داری کے لیے زیارت گئیں۔ چند روز بعد کی بات ہے‘ نرس اپنے مریض کے کمرے میں آئیں تو ان کے ہاتھ میں برش اور کنگھا تھا۔ قائداعظمؒ انہیں دیکھ کر مسکرائے اور اپنا سر تکیے پر ڈال دیا۔ نرس نے ان کے بالوں میں برش پھیرنا شروع کردیا تو مزاحاً کہنے لگے ’’کیا تم میرے سر کا گنجا حصہ چھپانے کی کوشش کررہی ہو؟‘‘

***

چودھری محمد حسین چٹھہ اور مولانا اختر علی خان ایک روز لاہور میں شہید گنج کے زمانے میں قائداعظمؒ سے ملنے کے لیے گئے۔ قائداعظمؒ نے فرمایا ’’کل صبح گیارہ بجے آجانا۔‘‘

ان کی مصروفیات بے پناہ تھیں اس لیے احتیاطاً چودھری صاحب نے پوچھا! ’’جناب آپ کو یاد بھی رہے گا؟‘‘

قائداعظمؒ ہنس دیے اور دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے فرمایا ’’یہ تو اب یہاں لکھا گیا۔‘‘

***

1942ء میں قائداعظمؒ لائلپور(موجودہ فیصل آباد) تشریف لائے تو ریلوے اسٹیشن پر مشتاقان دید کا والہانہ جوش و خروش دیکھنے کے بعد آپ کو اسٹیشن سے باہر لایا جاسکا۔ رسم پرچم کشائی پر تقریر کے دوران ہنستے ہوئے فرمایا ’’آپ نے ہم سے بڑا بڑا محبت کیا ہے لیکن تھوڑا تھوڑا تنگ بھی کیا ہے۔‘‘

***

پنجاب(امرتسر) کے ڈاکٹر عالم‘ کانگرس کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی منتخب ہوئے لیکن بعد میں یونینسٹ پارٹی میں شامل ہوگئے۔ ایک دن اسمبلی کے اجلاس کے دوران جب وہ تقریر کررہے تھے‘ تو ایک رکن اسمبلی نے آوازہ کسا ’’لوٹا ہے لوٹا ہے۔‘‘

اس پر ڈاکٹر عالم نے احتجاج کرتے ہوئے اسے غیر پارلیمانی لفظ قرار دینے کی درخواست کی لیکن راجہ غضنفر علی نے سپیکر اور ارکان اسمبلی کو مخاطب کرکے کہا ’’جناب لوٹا ایک اصطلاح ہے اور اس شخص کے خلاف استعمال کی جاتی ہے جس کا کوئی اصول نہیں اور جو بار بار اپنی وفاداریاں تبدیل کرتا ہے۔‘‘

سپیکر نے یہ بات تسلیم کرلی اور اس لفظ کو پارلیمانی قراردے دیا۔ اگلے روز روزنامہ زمیندار میں خبر کے ساتھ ایک قطعہ بھی شائع ہوا۔ اس کے آخری دو مصرعے یہ تھے ؂

کوئی بنا مفت�ئ اعظم کوئی بنا قائداعظمؒ

اور ہم تو لوٹائے اعظم بن گئے

رات کو کھانے کی میز پر قائداعظمؒ کو یہ بات سنائی گئی تو بہت محظوظ ہوئے اور ہنستے ہوئے فرمایا ’’اب تو فیصلہ آگیا ہے‘ اسے استعمال کیا جاسکتا ہے۔‘‘

مزید : ایڈیشن 2