ہائیکورٹ کا ؂بابر اعوان مسعود چشتی ریاض کیانی کیخلاف نیب ریفرنس واپس لینے کا مطالبہ

ہائیکورٹ کا ؂بابر اعوان مسعود چشتی ریاض کیانی کیخلاف نیب ریفرنس واپس لینے کا ...

لاہور (نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ بار نے سابق وزیر قانون ڈاکٹربابر اعوان ، سابق سیکرٹریز قانون پیر مسعود چشتی اورجسٹس (ر)ریاض کیانی کے خلاف نیب ریفرنس واپس لینے کا مطالبہ کردیا۔ہائی کورٹ بار نے چیف جسٹس پاکستان سے یہ ریفرنس دائر کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا ہے ،ایک دوسری قرارداد کے ذریعے لاہور ہائی کورٹ بار نے لاہور ہائی کورٹ میں کمرشل کیسز کی سماعت کے لئے نئے سرے سے بنچ تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے ۔اس سلسلے میں ہائی کورٹ بار کے اجلاس عام میں پیش کی جانے والی دو قراردادیں کثرت رائے سے منظور کرلی گئیں۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر انوار الحق پنوں نے کہا کہ وطن عزیز میں جو حالات چل رہے ہیں ہم لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کو کسی کے لئے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ ہم رائے دے سکتے ہیں فیصلہ کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف نقطہ نظر کے حامل افراد کے خلاف غیر آئینی و غیر قانونی ریفرنس جس کا مالیاتی کرپشن سے دور کابھی واسطہ نہیں ہے ،کو فی الفور واپس لیا جائے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان بارکونسل کے رکن محمد احسن بھون نے کہا کہ بابر اعوان ،پیر مسعود چشتی اور جسٹس (ر) ریاض کیانی کے خلاف ریفرنس پاکستان کی تاریخ کا پہلا ریفرنس ہے جس میں قانونی رائے دینے والوں کو ملزم بنا دیا گیا ہے ۔ان لوگوں نے قانونی نکتہ نظر بیان کیا ہے جسے جرم قرار دے کر نیب نے ریفرنس دائر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء برادری بالخصوص لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن آئین و قانون کی حکمرانی اور بالادستی کی ہمیشہ سے علمبردار رہی ہے۔ ہم کرپشن کے خلاف جنگ میں برابر کے شریک ہیں لیکن خلاف قانون کسی ریفرنس کی حمایت نہیں کرسکتے۔انہوں نے بتایا کہ وزارت قانون میں تعیناتی کے دوران پیر مسعود چشتی نے قانونی رائے دی تھی کہ حکومت کا کوئی ادارہ کابینہ کی منظوری کے بغیر بین الاقوامی معاہدہ نہیں کر سکتا۔ پیر مسعود چشتی کایہ نکتہ نظر کرپشن کو روکنے میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پیر مسعود چشتی و دیگران کے خلاف غیر آئینی و غیر قانوونی ریفرنس جسکی بنیاد بدنیتی پر ہے کو فی الفور واپس لیا جائے اور مذکورہ ریفرنس دائر کرنے والے نیب کے افسران کا محاسبہ کیا جائے۔ لاہور بار کے سیکرٹری حسن اقبال وڑائچ نے اپنے خطاب میں مذکورہ ریفرنس کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا ریفرنس ہے جو نیب کے ایگزیکٹو بورڈ کی میٹنگ کے بغیر دائر کیا گیا۔انہوں نے قرارداد کے حوالے سے چیف جسٹس پاکستان سے مطالبہ کیا کہ بدنیتی سے دائر ہونے والے اس ریفرنس کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔دوسری قرارداد میں کہا گیا ہے لاہور ہائیکورٹ میں کمرشل کیسز کی سماعت کے لئے مخصوص جج صاحبان کی اجارہ داری ہے ،منظور نظر وکلاء کو نوازا جا رہا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن چیف جسٹس سے مطالبہ کرتی ہے کہ کمرشل کیسز دیگر معزز جج صاحبان جو کہ کمرشل سائیڈ کے ماہر ہیں ،کے پاس لگائے جائیں اور کورٹ آکشنز، لوکل کمشنز اور لیکوڈیشنز کی منصفانہ تقسیم کی جائے۔ جن میں نوجوان وکلاء اور خواتین کو خصوصی اہمیت دی جائے۔

ہائیکورٹ بار

مزید : علاقائی