برسیم کی کاشت کو فروغ دے کر50ٹن فی ایکڑ تک چارہ حاصل ہوسکتا ہے،محکمہ زراعت

برسیم کی کاشت کو فروغ دے کر50ٹن فی ایکڑ تک چارہ حاصل ہوسکتا ہے،محکمہ زراعت

لاہور(اے پی پی )کاشتکاربرسیم کی کاشت کو فروغ دے کر زمین کی زرخیزی میں اضافہ کے ساتھ محکمانہ سفارشات پرعمل پیرا ہو کر 50ٹن فی ایکڑ تک چارہ حاصل کر سکتے ہیں۔ برسیم میں لحمیات ، کیلشیم اور حیاتین کا فی مقدار میں پائے جاتے ہیں ۔ اس کا چارہ کھلانے سے دودھیل جانوروں کی دودھ کی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے ۔محکمہ زراعت پنجاب کے ترجمان کے مطابق برسیم موسم سرما کاغذائیت سے بھرپور چارہ ہے جسے پنجاب میں سالانہ تقریباََ 20لاکھ ایکڑ رقبہ پر کاشت کیا جاتا ہے ۔ کاشتکار چارہ برسیم کی کاشت اکتوبر کے آخر تک مکمل کر لیں۔چارہ برسیم سے نومبر تا مئی 4سے 6کٹائیاں حاصل ہوتی ہیں۔

ادارہ تحقیقات چارہ جات سرگودھا کی متعارف کردہ اقسام انمول، سپر لیٹ ، فیصل آباد، اگیتی برسیم اور پچھیتی برسیم کاشت کریں اور فی ایکڑ 8کلو گرام بیج استعمال کریں ۔

ترجمان کے مطابق یہ فصل بھاری میرا قسم کی زمینوں میں پر سب سے زیادہ پیداوار دیتی ہے ۔زمین کو تین چار دفعہ ہل اور سہاگہ چلا کر نرم اور بھربھری کرنا ضروری ہے ۔ترجمان نے مزید بتایا ہے کہ برسیم کی بوائی کے وقت 3بوری سنگل سپر فاسفیٹ+ایک بوری ٹرپل سپر فاسفیٹ اور آدھی بوری یوریا فی ایکڑ استعمال کریں جبکہ بذریعہ چھٹہ کھڑے پانی میں کی گئی بوائی کی صورت میں پہلا پانی بوائی کے 7دن بعد لگائیں۔بیج کو جراثیمی ٹیکہ لگا کر کاشت کرنے سے پودے کی ہوا سے نائٹروجن حاصل کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے اور زیادہ پیداوار حاصل ہوتی ہے ۔نصف لیٹر پانی میں 100گرام چینی کے محلول میں جراثیمی پیکٹ ڈال کر 8کلو گرام برسیم کے بیج کے ساتھ اچھی طرح ملائیں اور سایہ دار جگہ پر بیج قدرے خشک ہونے پر کھڑے پانی میں جلدی چھٹہ کریں۔شعبہ بیکٹریالوجی ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد ،نیاب فیصل آباداور قومی زرعی تحقیقاتی ادارہ اسلام آباد سے برسیم کے بیج کا ٹیکہ حاصل کر کے محکمانہ ہدایات کے مطابق استعمال کریں۔

مزید : علاقائی