ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن موٹررجسٹریشن اتھارٹی کے عملہ کی ملی بھگت خزانہ کو 7کروڑ 57لاکھ کا ٹیکہ

ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن موٹررجسٹریشن اتھارٹی کے عملہ کی ملی بھگت خزانہ کو 7کروڑ ...

 لاہور(ارشد محمود گھمن/سپیشل رپورٹر)ایکسائز ایند ٹیکسیشن موٹر رجسٹریشن اتھارٹی) پراپرٹی ٹیکس( فیصل ٹاون ریجن بی کے عملہ کی مبینہ ملی بھگت سے قومی خزانہ کو7کروڑ57لاکھ روپے کا ٹیکہ، جولائی 2010تا 30جون2018 سے889یونٹ سے لکثرری ٹیکس کی ریکوری کرنے میں ناکام رہا، حکومت پنجاب کی جانب سے سال2001 سے 2تا8 کنال کے گھر پر2لاکھ روپے فی کنال جبکہ 8کنال کے گھر پر3لاکھ روپے فی کنال کے حساب اور اس سے زائد کنال کے گھر پر36لاکھ روپے ٹیکس لگایا گیا تھا جو ایک بار ادا کر نا پڑتا ہے اس ضمن میں محکمہ صرف 30جون 2018تک1 کروڑ86لاکھ کی ریکوری کر سکا ہے تفصیلات کے مطا بق ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پراپرٹی ٹیکس کو حکومت پنجاب کی جانب سے2 تا 8کنال کے گھر پر2لاکھ روپے فی کنال ، 8کنال کے گھرپر3لاکھ روپے فی کنال اور اس سے زائد پر 36لاکھ روپے کا لکثرری ٹیکس لگایا تھا جو پراپرٹی ٹیکس آفس فیصل ٹاون ریجن بی کے ای ٹی او عر فان غوری اور ان کے سٹاف انسپکٹرز نے 1381یونٹ کی لکثرری ٹیکس کی مد میں9کروڑ43لاکھ روپے کی ریکوری کر کے قومی خزانہ مین جمع کروانی تھی مگر عملہ نے لکثرری گھروں کے مالکان سے مبینہ طور پر مک مکا کر کے 30جون 2018تک 492یونٹ سے صرف1کروڑ86لاکھ روپے کی ریکوری کی ہے اور بقایا889یونٹ کے ذمہ7کروڑ57لاکھ روپے افسران کی مبینہ ملی بھگت سے قومی خزانہ میں جمع نہ ہو سکا ہے جو محکمہ کے لئے سوالیہ نشان ہے اس حوالے سے ای ٹی او عرفان غوری کا کہنا ہے کہ تقریبا500کے قریب ایسے یو نٹ ہیں ہیں جنہوں کے گھر سیل کر نے کے لئے نوٹسز جاری کئے گئے مگر انہوں نے محکمہ کے خلاف اعلی عدالتوں سے حکم امتناعی حا صل کر رکھے ہیں باقی350کے قریب ریکوری کے لئے دن رات کو شا ں ہیں تا ہم ڈائریکٹر شکیل الرحمان کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے حکم امتناعی حاصل کر کھے ہیں ان کے خلاف کیسیسزکی پیروی کی جا رہی ہے اور جلد حکم امتناعی ختم کروا کر کروڑوں روپے کی ریکوری کر کے قومی خزانہ میں جمع کروائیں گے البتہ ایسے لوگ جو نوٹس کے باوجود ٹیکس جمع نہیں کروا رہے ان کے گھر جلد سیل کر دئے جا ئیں گے ۔

مزید : صفحہ آخر