حکومتی پابندی ، ملک بھر کے یوٹیلٹی سٹورز پر چینی ،آٹا دالیں اور صابن کا سٹاک ختم

حکومتی پابندی ، ملک بھر کے یوٹیلٹی سٹورز پر چینی ،آٹا دالیں اور صابن کا سٹاک ...

اسلام آباد(صباح نیوز) حکومت کی جانب سے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان کو اشیا خریداری سے روکنے کے بعد ملک بھر کے اسٹوروں پر اشیا کی شدید قلت کا سامنا ہے۔اسلام آباد راولپنڈی سمیت دیگر علا قوں کے اسٹورز پر چینی ، آٹا ، دالوں اور صابن سمیت متعدد اشیا کا اسٹاک ختم ہونے لگا ہے ملک بھر کے اسٹورز پر اشیا کا اسٹاک 4 ارب روپے تک رہ گیا۔ جو عام حالات میں 8 سے 10ارب تک ہوتا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے 27اگست کو یوٹیلیٹی اسٹور ز کا رپوریشن آف پاکستان کی اشیا کی خریداری پر پابندی لگا دی گئی تھی ، جس کے باعث اس وقت یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے راولپنڈی اسلام آباد سمیت ملک بھر میں سٹوروں پر اشیا کی شدید قلت کا سامنا ہے ، اسٹاک نہ ہونے کے باعث یوٹیلیٹی اسٹورز کا رپوریشن آف پاکستان کی سیلز بھی متاثر ہو رہی ہے ، اس سلسلے میں یو ایس سی کے مطابق ملک بھر کے سٹوروں پر آٹا ، چاول ، چینی ، صابن ، شیمپو اور دالوں کی قلت کا سامنا ہے ۔جس کی بڑی وجہ حکومت کی جانب سے کا رپوریشن کو اشیا کی خریداری پروکیو رمنٹ سے روکنے کے بعد گزشتہ ڈیڑھ ہفتے سے کسی قسم کی پروکیو رمنٹ نہ کرنا ہے۔ اس وقت ملک بھر کے یوٹیلیٹی اسٹورز پر 3سے 4ارب تک کی انونٹری موجود ہے جو عام حالات میں 8 سے 10 ارب روپے تک ہونی چاہیے تاکہ ہر قسم کی اشیا سٹوروں پر موجو د ہوں ، لیکن اس وقت راولپنڈی اسلام آباد سمیت ملک بھر میں کا رپوریشن کے سٹوروں پر اشیا کی قلت بڑھتی جا رہی ہے ، اور اسٹوروں پر صر ف سامنے اشیا کو ڈسپلے کے لیے لگایا جا رہا ہے جبکہ اسٹاک بالکل ختم ہو چکا ہے ۔جس سے پہلے سے ہی خسارے کی شکار کا رپوریشن کی سیل مزید متاثر ہونے کا خد شہ ہے اس وقت کا رپوریشن کی جانب سے ایک لاکھ سے کم سیل والے سٹوروں کو بڑے سٹوروں میں ضم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے تاکہ کا رپوریشن کے حالیہ خسارے پر قابو پایا جا سکے ۔دوسری جانب یوٹیلیٹی اسٹور ز کا رپوریشن کی سی بی اے یونین بھی کا رپوریشن کے اسٹوروں پر اشیا کی قلت اور اسٹاک ختم ہونے کے باعث لائحہ عمل بنا رہی ہے ۔ اس سلسلے میں یونین کی جانب سے یہ فیصلہ بھی کر لیا گیا کہ اگر حکومت کی جانب سے آئندہ ہفتے کارپوریشن کی پری کیو رمنٹ بحال نہ کی گئی تو ملک بھر کے سٹوروں پر احتجاجی تحریک چلائی جا ئے گی ۔

مزید : صفحہ آخر