ٹی بی کی روک تھام کے لئے 2موبائل لیبارٹریاں خریدنے کا فیصلہ

ٹی بی کی روک تھام کے لئے 2موبائل لیبارٹریاں خریدنے کا فیصلہ

لاہور(جنرل رپورٹر)صوبہ میں ٹی بی کے مریضوں کا کھوج لگا کر ان کی دہلیز پر تشخیص و علاج کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے پراونشل ٹی بی کنٹرول پروگرام پنجاب نے فیلڈ میں سکریننگ کیمپ لگانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جس کے لئے 2موبائل ٹی بی سکریننگ وینز خریدی جا رہی ہیں۔ یہ وینز جدید ڈیجیٹل ایکسرے مشینوں سے لیس ہوں گی اور لوگوں کا بلغم ٹیسٹ بھی کیا جائے گا۔ یہ بات پنجاب ٹی بی کنٹرول پروگرام کی ڈائریکٹر ڈاکٹر زرفشاں طاہر نے بتائی۔ ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ موبائل یونٹس لوگوں کو ان کے علاقے میں جا کر مرض کی تشخیص کی سہولت فراہم کریں گے اور مرکزی ہدف صنعتی اداروں کے ورکرز ہوں گے تاکہ صنعتی مزدوروں میں ٹی بی کی بیماری کا پتہ لگایا جا سکے۔ ڈاکٹر زرفشاں طاہر نے مزید بتایا کہ ٹی بی کے مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی کے لئے صوبائی حکومت بجٹ فراہم کر رہی ہے۔

اس کے علاوہ گلوبل فنڈ بھی ٹی بی کنٹرول پروگرام کی بھرپور معاونت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2017ء میں 2لاکھ31ہزار مریضوں کو رجسٹرڈ کر کے ان کا مفت علاج کیا گیا۔ ڈاکٹر زرفشاں طاہر کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ٹی بی کے کامیاب علاج کی شرح 94فیصد ہے۔ مینجرپارٹنرشپ ڈویلپمنٹ گلوبل فنڈ زبیر احمد نے اس موقع پر کہا کہ ٹی بی کا علاج طویل ہے اور مریض کو کم از کم 6ماہ تک دوائی استعمال کرنا پڑتی ہے۔ تاہم کچھ مریض علاج ادھورا چھوڑ دیتے ہیں جس سے مرض ضدی ہو جاتا ہے اور مریض کے علاج میں پیچیدگیاں پیدا ہونے کے ساتھ علاج مہنگابھی ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2017ء میں 1319 مزاحمتی ٹی بی کے مریض رجسٹرڈ کر کے علاج کیا گیا اورایک مریض کے علاج پر تقریباً 6لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ علاوہ ازیں مزاحمتی ٹی بی کے مریض کو بھی شدید تکلیف اٹھانا پڑتی ہے اور جان کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ پراونشل ڈائریکٹر ڈاکٹر زرفشاں طاہر کا کہنا تھا کہ ٹی بی کنٹرول پروگرام کو صوبہ کے دوردراز علاقوں تک آؤٹ ریچ حکمت عملی کے تحت توسیع دی جا رہی ہے اور جنوبی پنجاب کے اضلاع میں محرم الحرام کے بعد سپیشل سکریننگ کیمپ لگائے جائیں گے تاکہ ٹی بی کا کوئی مریض علاج کی سہولت سے محروم نہ رہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1