جناح ہسپتال ، لواحقین کا ڈاکٹروں پر مبینہ تشدد ، ایمرجنسی میدان جنگ بن گئی

جناح ہسپتال ، لواحقین کا ڈاکٹروں پر مبینہ تشدد ، ایمرجنسی میدان جنگ بن گئی

لاہور (جنرل رپورٹر،خبر نگار)جناح ہسپتال میں معمولی تلخ کلامی پر مریض کے لواحقین کا ڈاکٹروں پر مبینہ تشدداورتوڑ پھوڑ،ہسپتال میدان جنگ کامنظر پیش کرنے لگا،ینگ ڈاکٹرز نے سرجیکل ایمرجنسی میں کام بندکردیا، علاج معالجہ تعطل کا شکار رہا۔ جناح ہسپتال کی ایمرجنسی میں رات گئے اقبال ٹاؤن سے 15 سالہ احمدشفیق کوگلے میں ڈور پھر نے پرہسپتال لایا گیا ،اس دوران مریض کیساتھ آئے لواحقین علاج میں تاخیرپرطیش میں آگئے اور ڈیوٹی ڈاکٹرپرتھپڑوں کی بارش کردی،دس سے زائد افراد نے ڈاکٹروں کوتشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ اے ایم ایس دفتر میں توڑپھوڑبھی کی۔واقعے کے بعد ینگ ڈاکٹرز نے تین افراد کو دبوچ لیا جبکہ دیگر فرار ہوگئے،ینگ ڈاکٹرز نے سیکیورٹی کی عدم سہولیات پر سرجیکل ایمرجنسی میں کام کرنے سے انکار کردیا،کام بند ہونے سے مریض اور انکے لواحقین کوسخت اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ڈاکٹر شبیر چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایاکہ متاثرہ مریض کا بروقت علاج معالجہ شروع کردیا گیا تھا،لواحقین کو ایمرجنسی سے باہر جانے کا کہا گیا تو انہوں نے طیش میں آکر تشدد شروع کردیا۔انہوں نے مزید کہاکہ ہسپتال میں سیکیورٹی برائے نام ہے،ڈاکٹروں کو مکمل سیکیورٹی ملنے تک ایمرجنسی میں کام بند رہے گا۔ ینگ ڈاکٹرز نے تشدد کرنے والے تین افراد فیضان،اسفند اور احمد کو پولیس کے حوالے کر کے اندراج مقدمہ کے لیے درخواست دے دی،ینگ ڈاکٹرز نے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد سے سیکیورٹی فراہم کرنیکا مطالبہ بھی کیا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1