فانشل ٹائمز نے میرا انٹرویو توڑ مروڑ کر پیش کیا عبد الرزاق داؤد، سی پیک جاری رہے گا ، پاکستان اور چین کا اتفاق

فانشل ٹائمز نے میرا انٹرویو توڑ مروڑ کر پیش کیا عبد الرزاق داؤد، سی پیک جاری ...

اسلام آباد، بیجنگ ، لندن ( مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں) چینی سفارت خانے نے سی پیک سے متعلق فنانشل ٹائمز میں چھپنے والی رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔۔اسلام آباد میں چینی سفارتخانے سے جاری بیان میں کہا گیا سی پیک پر پاک چین موقف یکساں ہے اور سی پیک باہمی طور پر مفید منصوبہ ہے اور دونوں ممالک منصوبوں کو آگے لے کر چلیں گے اور پاکستان نے سی پیک ہر کار بند رہنے کا عزم ظاہر کیا ہے پاکستان ار چین سی پیک منصوبوں میں تیزی لائیں گے دونوں ممالک دفاع اور سکیورٹی کے معاملے پر آگے بڑھیں گے ۔ ترجمان کے مطابق نئی حکومت کیساتھ مثالی کام کرنے کو تیار ہیں اور چینی منصوبوں کو پاکستان کے مغربی حصوں میں بھی پھلائیں گے پاکستان کی نئی حکومت نے چین کے ساتھ تسلسل پر زور دیا ہے اور چین پاکستان کی نئی انتظامیہ کے ساتھ چلنے کو تیارہیں۔ چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری منصوبے کی رفتار بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے اور منصوبے پر مشاورت پاکستان کی معاشی و سماجی ترجیحات کے مطابق ہوگی۔میڈیارپورٹس کے مطابق ترجمان چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے مستقبل اور تعاون کا تعین مشاورت سے کیا جائے گا اور اس منصوبے پر مشاورت پاکستان کی معاشی اور سماجی ترجیحات کے مطابق ہوگی۔دونوں ممالک نے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات مستحکم کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ وزیر خارجہ وانگ ژی کے دورہ پاکستان کا مقصد روایتی دوستی کی تجدید تھا۔چینی وزارت خارجہ کے مطابق چین قومی مفادات کے مطابق دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی مدد کرتا رہیگا، دونوں ممالک نے دفاعی اور سکیورٹی تعاون مزید مستحکم بنانے کا فیصلہ کیا ہیدریں اثنا پاکستان کے دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان سی پیک کے کامیاب عملدرآمد کیلئے پرعزم ہے، اس منصوبے پر پاکستان اور چین کے درمیان مکمل اتفاق رائے ہے۔دفترِ خارجہ نے چینی وزیرِ خارجہ کے تین روزہ دورہ پاکستان کا اعلامیہ جاری کر دیا۔ اعلامیے کے مطابق چینی وزیرِ خارجہ کے ساتھ ملاقاتوں میں پاکستانی قیادت نے واضح کیا کہ سی پیک حکومت کی قومی ترجیح ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان منصوبے پر کامیاب عملدرآمد کیلئے پرعزم ہے، سی پیک کے مستقبل کے حوالے سے پاکستان اور چین کے درمیان مکمل اتفاق رائے ہے۔ دونوں ممالک جاری پراجیکٹ پر عملدرآمد کیلئے مل کر کام کرنے پر اتفاق کرتے ہیں۔ پاک چین قیادت کے درمیان ملاقاتوں میں سی پیک کو تعاون کے نئے شعبوں تک پھیلانے پر اتفاق بھی ہوا۔۔دوسری طرف دوسری طرف وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے صنعت و تجارت عبدالرزاق داؤد کا نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے سے متعلق برطانوی اخبار کی خبر کو مسترد کردیا ہے۔عبدالرزاق داؤد کا برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو سے متعلق وضاحتی بیان میں کہنا ہے کہ سی پیک منصوبے کے حوالے سے حالیہ انٹرویو کے کچھ حصے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے گئے۔مشیر تجارت نے کہا کہ چین کے وزیر خارجہ کے دورے میں اسٹریٹیجک تعاون جاری رکھنے اور سی پیک منصوبوں کو پورا کرنے کے عزم کو دہرایا گیا اور اس منصوبے کے حوالے سے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔انہوں نے کہا کہ چین کو آگاہ کیا گیا کہ سی پیک ہماری قومی ترجیح ہے جب کہ چینی وزیر خارجہ وانگ ڑی نے دونوں ممالک کے مفاد میں اس منصوبے کی اہمیت پر زور دیا۔مشیر تجارت نے مزید کہا کہ پاک چین تعلقات ناقابل تسخیر ہیں اور دونوں ممالک میں راہداری منصوبے کے مستقبل سے متعلق مکمل یکسوئی ہے۔جبکہ چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری منصوبے کی رفتار بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے اس سے پہلے برطانیہ کے معروف اقتصادی جریدے فنانشل ٹائمز نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کی نئی حکومت چین کے ساتھ سی پیک معاہدے پر نظرِ ثانی پر غور کر رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق چینی وزیر خارجہ وانگ ڑی نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان میں سی پیک معاہدے پر دوبارہ مذاکرات پر آمادگی کا اشارہ دیا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان منصوبوں اور قرض ادائیگی کی مدت بڑھانے کے آپشن زیر غور ہیں۔اس حوالے سے ماہرِ معاشیات اور وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے صنعت و تجارت عبدالرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ فی الحال تمام سی پیک منصوبوں پر ایک سال کے لیے عمل روک دینا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسے معاہدے ازسرِ نو کیے جائیں گے، جن سے چینی کمپنیوں کو ناجائز فائدہ پہنچ رہا ہے اور پاکستانی کمپنیاں نقصان میں ہیں۔عبدالرزاق داؤد کے مطابق 'گزشتہ حکومت نے سی پیک پر چین کے ساتھ بہتر طور پر مذاکرات نہیں کیے، انہوں نے اپنا ہوم ورک صحیح سے نہیں کیا اور درست طرح سے مذاکرات نہیں کیے'۔دوسری جانب امریکی تھنک ٹینک ووڈرو ولسن سینٹر کے ڈپٹی ڈائریکٹر مائیکل کوگل مین کا کہنا ہے کہ سی پیک کی رفتار کو سست کرنا نواز شریف کی سابق حکومت کی پالیسی کے برعکس ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی وزراء اور مشیروں کا کہنا ہے کہ حکومت سی پیک کے تحت سرمایہ کاری پر نظرثانی کرے اور تجارتی معاہدے پر دوبارہ مذاکرات کرے کیونکہ اس کے تحت چینی کمپنیوں کو غیرمنصفانہ فوائد حاصل ہوئے ہیں۔برطانوی اخبار کو انٹرویو میں مشیر صنعت و تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ سابق حکومت نے سی پیک پر چین سے بات چیت میں اپنی ذمے داری بخوبی نہیں نبھائی، تیاری کے بغیر مذاکرات اور معاہدے کرنے سے چین کو بہت زیادہ فائدہ پہنچا اور چینی کمپینوں کو ٹیکس بریک اور دیگر مراعات دینے سے پاکستانی کمپنیاں نقصان میں ہیں۔عبدالرزاق داؤد نے خیال ظاہر کیا کہ اپنے اْمور منظم کرنے تک ان معاہدوں پر فی الحال ایک سال کے لیے عملدرآمد روک دینا چاہیے اور سی پیک کی مدت کو مزید 5 سال کے لیے بڑھایا بھی جاسکتا ہے۔ان کی اس تجویز سے دیگر وزراء اور مشیر بھی متفق ہیں کہ منصوبوں کی تکمیل کی مدت اور قرضوں کی ادائیگی کی مدت بڑھانا معاہدے منسوخ کرنے سے بہتر آپشن ہوگا، تاہم حکومت محتاط ہے کہ معاہدوں پر نظرثانی کے عمل میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ چینی حکومت ناراض نہ ہو۔برطانوی اخبار کے مطابق وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ پاکستان ملائشیا کی طرح اس معاملے کو ہینڈل نہیں کرنا چاہتا۔ ملائشیا نے چین کے تعاون سے جاری پائپ لائن پروجیکٹ بند کردیے اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں شامل ریل لنک معاہدے پر نظر ثانی کررہا ہے۔واضح رہے کہ حال ہی میں وزیراعظم عمران خان نے سی پیک منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک 9 رکنی کابینہ کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کا چیئرمین وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار کو مقرر کیا گیا ہے۔اس کمیٹی میں وزیر خارجہ، وزیرقانون و انصاف، وزیر خزانہ، وزیر پیٹرولیم، وزیر ریلوے، وزیر مملکت برائے داخلہ اور مشیر برائے تجارت وٹیکسٹائل،صنعت وپیداوار و سرمایہ کاری شامل ہیں۔

فناشنل ٹائمز

مزید : صفحہ اول